المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
97. لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَظْهَرَ الْفُحْشُ وَالتَّفَحُّشُ
قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک بے حیائی اور فحش گوئی عام نہ ہو جائے
حدیث نمبر: 8778
أخبرني عبد الله بن محمد بن زياد العَدْل، حدثنا محمد بن إسحاق الإمام، حدثنا محمد بن محمد بن مرزُوق، حدثنا صالح بن عمر بن شعيب قال: سمعت جدِّي شعيب بن عُمر الأزرق قال: حَجَجْنا فمررنا بطريق المُنكدِر، وكان الناسُ إذ ذاك يأخذون فيه، فضَلَلْنا الطريقَ، قال: فبَيْنا نحن كذلك، إذا نحن بأعرابيٍّ كأنما نَبَعَ علينا من الأرض، فقال: يا شيخُ، تدري أين أنت؟ قلت: لا، قال: أنت بالرَّبائب، وهذا التلُّ الأبيض الذي تراه عِظامُ بكرِ بن وائل وتَغلِبَ، وهذا قبر كُلَيب وأخيه مُهلهِل (1) ، قال: فدلَّنا على الطريق، ثم قال: هاهنا رجلٌ له من النبي ﷺ، صُحْبةٌ، هل لكم فيه؟ قال: فقلت: نعم، قال: فذَهَبَ بنا إلى شيخ معصوب الحاجبَين بعِصابةٍ في قُبَّةِ أَدَم، فقلنا له: من أنت؟ قال: أنا العَدَّاءُ بن خالد [ابن] (2) فارسِ الضَّحْياءِ في الجاهلية، قال: فقلنا له: حدِّثْنا رَحِمَك اللهُ عن النبي ﷺ بحديث، قال: كنا عند النبي ﷺ إذ قام قَومةً له كأنه مُفزَّع ثم رَجَعَ، فقال:"أُحذَّرُكم الدَّجّالين الثلاثَ"، فقال ابن مسعود: بأبي أنت وأمِّي يا رسول الله، قد أخبرتَنا عن الدجال الأعوَر، وعن أكذب الكذّابين، فمن الثالث؟ فقال:"رجلٌ يخرجُ في قوم أوّلُهم مَثبورٌ وآخرُهم مَثبور، عليهم اللعنةُ دائبةً، في فتنةِ الجارفة، وهو الدجّال الأكْيَس، يأكلُ عِبادَ الله بآلِ محمدٍ، وهو أبعدُ الناس من سُنَّتِه" (3) . من شرط الإمام أبي بكر محمد بن إسحاق ﵁ إذا رَوَى حديثًا لا يصحِّحُه أن يقول في راويه (1) : قد روي عن فلان وفلان، وأنا لا أعرفُه بعدالةٍ كذى وكذى، وقد خرَّج هذا الحديثَ على شرط الصحيح، وهو القُدْوة في هذا العِلْم (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8565 - الحديث منكر بمرة
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8565 - الحديث منكر بمرة
سیدنا شعیب بن عمر الازرق بیان کرتے ہیں: ہم سفر حج پر روانہ ہوئے، ہم منکدر کے راستے سے گزر رہے تھے، عموماً لوگ اس راستے سے سفر کیا کرتے تھے، ہم راستہ بھول گئے، آپ فرماتے ہیں: ہم ابھی اسی حیرانگی کے عالم میں تھے کہ اچانک ہمارے سامنے ایک دیہاتی شخص آیا یوں لگتا تھا کہ وہ زمین سے نکلا ہو، اس نے کہا: اے شیخ! آپ جانتے ہیں کہ آپ اس وقت کہاں ہیں؟ میں نے کہا: جی نہیں۔ اس نے کہا: آپ رہائب میں ہیں۔ اور یہ ٹیلہ جو آپ کو بہت بڑا دکھائی دے رہا ہے، یہ بکر بن وائل ہے، اور تغلب ہے، اور یہ قبر کلیب اور اس کے بھائی مہلہل کی ہے۔ آپ فرماتے ہیں: اس نے ہمیں راستہ بتایا، پھر اس نے کہا: یہاں پر ایک آدمی رہتا ہے جس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کی سعادت حاصل ہے، کیا آپ اس سے ملنا پسند کریں گے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ وہ ہمیں ایک ایسے بزرگ آدمی کے پاس لے گیا جس کی بھنویں جھک کر آنکھوں پر آئی ہوئی تھیں، وہ چمڑے کے ایک خیمے میں موجود تھے، ہم نے ان سے پوچھا: آپ کون ہیں؟ انہوں بتایا کہ ” میں عداء بن خالد “ ہوں، زمانہ جاہلیت میں، میں سیاہی مائل سفید گھوڑے کی سواری کیا کرتا تھا، ہم نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے، آپ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنائیں، انہوں نے بتایا کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں موجود تھے، آپ اچانک گھبرا کر اٹھ کر گئے اور کچھ دیر بعد واپس تشریف لے آئے، پھر فرمایا: میں تمہیں تین دجالوں سے خبردار کرتا ہوں، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں، آپ نے ہمیں ایک کانے دجال اور ایک سب سے بڑے جھوٹے شخص کے بارے میں تو بتا دیا ہے، لیکن یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیسرا کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی ہے، وہ ایسی قوم میں ظاہر ہو گا جن کا پہلا شخص بھی دھتکارا ہوا ہو گا اور آخری بھی دھتکارا ہوا ہو گا، ان پر لعنت ہے۔ وہ ہر طرف تباہی پھیلانے والی موت کے فتنہ میں مبتلا ہوں گے، اور دجال بہادر ہو گا، وہ آدم خور ہو گا۔ امام محمد نے فرمایا: وہ دجال سب لوگوں سے زیادہ جوان ہو گا۔ امام ابوبکر محمد بن اسحاق کی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ جب وہ ایسی حدیث روایت کرتے ہیں جس کو وہ صحیح قرار نہیں دیتے، تو اس کو روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں، یہ حدیث فلاں بن فلاں سے مروی ہے۔ اور میں اس کی عدالت کو نہیں جانتا۔ اسی حدیث کو ابن خزیمہ نے صحیح کے معیار پر نقل کیا ہے، اور آپ اس علم کے امام ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8778]