المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
105. يَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يَتْرُكُونَ مِنَ السُّنَّةِ
تم پر ایسے حکمران ہوں گے جو سنت کو ترک کر دیں گے
حدیث نمبر: 8797
حدثنا أبو حفص أحمد بن أَحيَد (1) الفقيه ببُخارَى، حدثنا صالح بن محمد بن حَبيب الحافظ، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا أبو أسامة قال: سمعت سفيان بن سعيد يقول: أخبرنا الأعمش، أخبرنا أبو عمّار، عن صِلَةَ بن زُفَر، عن عبد الله بن مسعود قال: يكون عليكم أمراءُ يتركون من السُّنة مثلَ هذا. وأشار إلى أصل إصبَعه. وإن تركتموهم جاؤوا بالطامَّةِ الكُبرى، وإنها لم تكن أُمَّةٌ إلَّا كان أولَ ما يتركون من دينهم السُّنّةُ، وآخرَ ما يَدَعُون الصلاةُ، ولولا أنهم يَستَحيُون ما صَلَّوْا (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8584 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8584 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”تم پر ایسے حکمران مسلط ہوں گے جو سنت کو اتنا چھوڑ دیں گے“ اور انہوں نے اپنی انگلی کے پورے کی طرف اشارہ کیا۔ ”اور اگر تم نے انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا تو وہ بڑی مصیبت لے آئیں گے، اور حقیقت یہ ہے کہ جس امت نے بھی اپنے دین کو چھوڑا اس کی ابتدا سنت کو ترک کرنے سے ہوئی اور سب سے آخری چیز جسے وہ چھوڑیں گے وہ نماز ہوگی، اور اگر انہیں لوگوں سے حیا نہ آتی تو وہ نماز بھی نہ پڑھتے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8797]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8797]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8797] [ترقيم الشركة 8687] [ترقيم العلميه 8584]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8798
أخبرنا علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا محمد بن علي بن عفان العامري، حدثنا محمد بن عُبيد الطَّنافِسي، حدثنا يوسف بن صُهيب، حدثني موسى بن أبي المختار، عن بلال بن يحيى العَبْسي، عن حُذَيفة قال: بَعَثَ رسولُ الله ﷺ بعثًا إلى دُومةِ الجَندَل فقال:"انطلِقوا، فإنكم تَجِدُون أُكَيدِرَ دُومةَ خارجًا يقتنصُ الصيدَ، فخذوه أخْذًا"، فانطلَقوا فوجدوه كما قال لهم،، فأَخَذوه. وتحصَّنَ أهلُ المدينة وأَشرَفوا على المسلمين يكلِّمونهم، قال: يقول رجلٌ من المسلمين لبعض مَن أشرَفَ: أذكِّرُك الله، هل تجدون محمدًا في كتابِكم؟ قال: لا، قال آخرُ إلى جنبِه: نجدُه في كتابنا يُشبِه قريشيات (1) ، يَخطِرُه قلمٌ من الشيطان، فقال الرجل: يا أبا بكر، أليس قد كَفَرَ هؤلاء؟ قال: بلى، وأنتم ستَكفُرون. فلما رجع الجيشُ وخرج مُسيلِمةُ يتنبَّأ، قال الرجل لأبي بكر: أمَا تَذكُر قولَك ونحن بدُومةِ جَندلٍ: وأنتم سوف تكفرون؟ ذاك أمرُ مُسيلِمةَ؟ قال: لا، ذاك في آخرِ الزمان (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8585 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8585 - صحيح
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دومۃ الجندل کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا اور ہدایت دی: ”تم جاؤ، تم دومہ کے حاکم اکیدر کو بستی سے باہر شکار کھیلتے ہوئے پاؤ گے، پس اسے گرفتار کر لینا“، چنانچہ وہ گئے اور اسے اسی حال میں پایا جیسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، پھر انہوں نے اسے پکڑ لیا۔ اس دوران شہر والے قلعہ بند ہو گئے اور مسلمانوں کو اوپر سے جھانک کر ان سے باتیں کرنے لگے، ایک مسلمان نے کسی قلعہ والے سے کہا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم اپنی کتاب میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر پاتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، تب اس کے برابر کھڑے ایک دوسرے شخص نے کہا: ہم اپنی کتاب میں انہیں پاتے ہیں جو قریش جیسی صفات کے حامل ہیں (مگر ساتھ ہی کچھ نازیبا کلمات کہے)۔ اس مسلمان نے پوچھا: اے ابوبکر! کیا یہ لوگ کافر نہیں ہو گئے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، اور تم بھی عنقریب کفر کرو گے۔ پھر جب لشکر واپس آگیا اور مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا تو اس شخص نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ کو اپنا وہ قول یاد ہے جو آپ نے دومۃ الجندل میں کہا تھا کہ تم بھی کفر کرو گے؟ کیا اس سے مراد مسیلمہ کا یہ معاملہ تھا؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، بلکہ وہ آخری زمانے میں ہوگا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8798]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8798]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة موسى بن أبي المختار، فقد تفرد بالرواية عنه يوسف بن صهيب، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان، وبلال بن يحيى لم يسمع من حذيفة، فهو منقطع» [ترقيم الرساله 8798] [ترقيم الشركة 8688] [ترقيم العلميه 8585]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لجهالة موسى بن أبي المختار