المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
104. لَيَأْتِيَنَّ عَلَى الْعُلَمَاءِ زَمَانٌ الْمَوْتُ أَحَبُّ إِلَى أَحَدِهِمْ مِنَ الذَّهَبِ
علماء پر ایسا وقت آئے گا کہ ان کے نزدیک موت سونے (دولت) سے زیادہ محبوب ہوگی
حدیث نمبر: 8793
أخبرني أبو بكر محمد بن المؤمَّل بن الحسن، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا نُعيم بن حمّاد، حدثنا ابن وهب، عن مَسلَمة (1) بن علي، عن قَتادة، عن ابن المسيّب، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"تكون هَدَّةٌ في شهر رمضان تُوقِظُ النائمَ، وتُفزِعُ اليقظانَ، ثم تظهرُ عِصابةٌ في شوَّال، ثم مَعمَعةٌ (2) في ذي الحِجّة، ثم تُنتَهكُ المحارمُ في المحرَّم، ثم يكون موتٌ في صَفَر، ثم تتنازع القبائلُ في ربيعٍ، ثم العَجَبُ كلُّ العجب، بين جُمادى ورَجَب، ثم ناقةٌ مُقتَبَة خيرٌ من دَسْكَرةٍ تُغِلُّ (3) مئةَ ألف (4) . قد احتَجَّ الشيخان ﵄ برُوَاة هذا الحديث عن آخرهم غير مَسلَمة بن علي الخُشَني، وهو حديث غريبُ المَتْن، ومَسلَمةُ أيضًا ممَّن لا تقوم الحُجَّةُ به.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8580 - ذا موضوع
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8580 - ذا موضوع
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رمضان کے مہینے میں زور دار آواز لگائی جاتی ہے، وہ سوئے ہوئے کو بیدار کر دیتی ہے جاگتے ہوؤں کو بیدار رکھتی ہے پھر شوال میں ایک جماعت ظاہر ہو گی، پھر ذی الحجہ میں لوگوں کے جلنے کی آوازیں آئیں گی، محرم میں قریبی رشتوں کی بے حرمتی ہو گی، صفر میں موت ہو گی، ربیع الاول میں قبائل کا جھگڑا ہو گا، پھر جمادی اور رجب میں بہت ہی عجیب واقعات ہوں گے پالان لگائی ہوئی اونٹنی بیش بہا محل سے بھی بہتر ہو گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8793]
حدیث نمبر: 8794
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نصر، حدثنا بِشْر بن بَكر، حدثني الأوزاعي، عن يحيى بن أبي كثير، حدثني أبو سَلَمة بن عبد الرحمن قال: عُدْتُ أبا هريرة فسَنَّدتُه إلى صدري، ثم قلت: اللهمَّ اشفِ أبا هريرة، فقال: اللهمَّ لا تَرجِعْها، قلت: اللهمَّ اشفِ أبا هريرة، قال: اللهمَّ لا تَرجِعْها، قلت: اللهمَّ اشفِ أبا هريرة قال: اللهمَّ لا تَرجِعْها، ثم قال: إنِ استطعتَ يا أبا سَلَمة أن تموت فمُتْ، فقلت: يا أبا هريرة، إنا لنحبُّ الحياةَ، فقال: والذي نفسُ أبي (1) هريرة بيدِه، لَيأتيَنَّ على العلماء زمانٌ الموتُ أحبُّ إلى أحدهم من الذهب الأحمر، ليأتينَّ أحدُكم قبرَ أخيه فيقول: ليتَني مكانَه (2) . هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8581 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8581 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبدالرحمن فرماتے ہیں: میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے گیا، میں نے اپنے سینے کے ساتھ ان کی ٹیک لگوائی، پھر میں نے دعا مانگی ” اے اللہ ابوہریرہ کو شفا عطا فرما “۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ! اس کی دعا کو رد نہ فرما، پھر فرمایا: اے ابوسلمہ اگر تو مر سکے تو مر جا۔ میں نے کہا: اے ابوہریرہ! ہم تو زندگی سے محبت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، علماء پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ وہ سرخ سونے سے زیادہ موت کو پسند کریں گے۔ تم اپنے کسی فوت شدہ بھائی کی قبر پر آ کر حسرت کرتے ہوئے کہو گے: کاش اس کی جگہ قبر میں، میں ہوتا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس كو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8794]
حدیث نمبر: 8795
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا موسى بن الحسن بن عبَّاد، حدثنا عبد الله بن بكر السَّهمي (3) ، حدثنا هشام بن حسَّان، عن محمد بن سِيرِين، عن أبي عُبيدة قال: كنت أسألُ الناسَ عن حديث عَدِيِّ بن حاتم وهو إلى جنبي بالكوفة، فأتيتُه، فقلت: حديثٌ حُدِّثتُه عنك، فحدِّثني به، قال: لما بُعِثَ النبيُّ ﷺ كرهتُه أشدَّ ما كرهتُ شيئًا قطُّ، فأتيتُ أقصى أرض العرب فكرهتُه، ثم أتيتُ أرضَ الرُّوم وكنت أكرهَ له من كراهيَتي لما قبلُ أو أشدَّ، فقلت: لآتيَنَّ هذا الرجلَ، فإن كان صادقًا فلأَسمعنَّ منه، وإن كان كاذبًا فما هو بضارِّي، فأتيتُه فسألته فقال:"إنك لَتسألُ عن شيءٍ لا يَحِلُّ لك في دِينَك" فكأني رأيت لها عليَّ غَضَاضةً، فقال:"يا عَدِيَّ بنَ حاتم، أسلِمْ تَسلَمٍ" مرتين، فقال:"قد أُراني - أو قد أظنُّ" أو كما قال رسول الله ﷺ (4) ، فقال رسول الله ﷺ:"فلعلَّه إنما يمنعُك عن الإسلام أنك تَرى بمن حَوْلي خَصَاصةً، وأنك ترى الناسَ علينا أَلْبًا" ثم قال:"هل رأيتَ الحِيرةَ؟ قلت: لم أرها، وقد عرفتُ مكانها، قال:"فَلَيُوشِكنَّ أنَّ الظَّعينةَ تَرحَلُ من الحِيرةِ بغير جوَارٍ حتى تطوفَ بالبيت، ولتُفتحَنَّ علينا كنوزُ كِسرى بن هُرمُز" قلت: كِسرى بنُ هُرمُز؟! قال:"كِسرى بنُ هُرمُز، ويوشكُ أن لا يجدَ الرجلُ صدقةً" (1) . [قال] : فرأيتُ الظَّعينةَ ترحلُ، وأَحلِفُ لتُفتحَنَّ الثالثةُ لقول رسول الله ﷺ، وهو الحقُّ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8582 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8582 - على شرط البخاري ومسلم
ابوعبیدہ فرماتے ہیں: میں لوگوں سے عدی بن حاتم کی حدیث کے بارے میں پوچھا کرتا تھا حالانکہ وہ کوفہ میں ہی رہائش پذیر تھے۔ میں ان کے پاس آیا اور کہا: ایک حدیث ہے جو میں آپ کے حوالے سے بیان کرتا ہوں، آپ وہ حدیث خود مجھے سنایئے، انہوں نے کہا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا، مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت نفرت تھی، میں عرب کے دور دراز کے علاقے میں نکل گیا اور نفرت اسی طرح برقرار تھی، پھر میں روم میں چلا گیا، لیکن ابھی بھی نفرت میں کمی نہیں آئی تھی، (ایک دفعہ بیٹھے بٹھائے) میں نے سوچا کہ مجھے اس آدمی کے پاس جانا چاہئے، اگر یہ سچ بولے گا تو میں ضرور اس کی بات سنوں گا اور اگر یہ جھوٹ بول رہا ہو گا تو اس سے وہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ چنانچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کرنے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا، (میں نے ابھی کچھ بھی اظہار خیال نہیں کیا تھا اور نہ اپنی آمد کا مقصد بیان کیا تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسی چیز کے بارے میں سوال کرنے کے لئے آئے ہو جو تمہارے دین میں حلال نہیں ہے۔ گویا کہ میں آپ کو ذلت میں دیکھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عدی بن حاتم، تم اسلام قبول کر لو، سلامتی پاؤ گے۔ اور شاید کہ تمہیں اسلام قبول کرنے سے یہ چیز مانع ہے کہ میرے قریب غریب لوگ ہیں۔ تم میرے پاس لوگوں کا جمگھٹا دیکھتے ہو، پھر فرمایا: کیا تم نے حیرہ (ایک جگہ کا نام ہے) دیکھا ہے؟ میں نے کہا: میں نے نہیں دیکھا، البتہ میں اس جگہ کو جانتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا: قریب ہے کہ ایک نوجوان لڑکی بغیر کسی ہمراہی کے، اکیلی وہاں سے بیت اللہ کے طواف کو آئے۔ اور ہم پر کسریٰ کے خزانے کھل جائیں گے۔ میں نے پوچھا: کسریٰ بن ہرمز؟ انہوں نے فرمایا: کسریٰ بن ہرمز، اور کوئی شخص صدقے کا مال نہیں لے گا۔ آپ فرماتے ہیں: پھر میں نے دیکھ بھی لیا ہے کہ ایک عورت اکیلی سفر کرتی ہے۔ اور دوسری بات پر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے برحق ہونے کی قسم بھی کھا سکتا ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8795]