🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

106. ذِكْرُ خُرُوجِ السُّفْيَانِيِّ مِنْ دِمَشْقَ وَهَلَاكِهِ
دمشق سے سفیانی کے خروج اور اس کی ہلاکت کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8798
أخبرنا علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا محمد بن علي بن عفان العامري، حدثنا محمد بن عُبيد الطَّنافِسي، حدثنا يوسف بن صُهيب، حدثني موسى بن أبي المختار، عن بلال بن يحيى العَبْسي، عن حُذَيفة قال: بَعَثَ رسولُ الله ﷺ بعثًا إلى دُومةِ الجَندَل فقال:"انطلِقوا، فإنكم تَجِدُون أُكَيدِرَ دُومةَ خارجًا يقتنصُ الصيدَ، فخذوه أخْذًا"، فانطلَقوا فوجدوه كما قال لهم،، فأَخَذوه. وتحصَّنَ أهلُ المدينة وأَشرَفوا على المسلمين يكلِّمونهم، قال: يقول رجلٌ من المسلمين لبعض مَن أشرَفَ: أذكِّرُك الله، هل تجدون محمدًا في كتابِكم؟ قال: لا، قال آخرُ إلى جنبِه: نجدُه في كتابنا يُشبِه قريشيات (1) ، يَخطِرُه قلمٌ من الشيطان، فقال الرجل: يا أبا بكر، أليس قد كَفَرَ هؤلاء؟ قال: بلى، وأنتم ستَكفُرون. فلما رجع الجيشُ وخرج مُسيلِمةُ يتنبَّأ، قال الرجل لأبي بكر: أمَا تَذكُر قولَك ونحن بدُومةِ جَندلٍ: وأنتم سوف تكفرون؟ ذاك أمرُ مُسيلِمةَ؟ قال: لا، ذاك في آخرِ الزمان (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8585 - صحيح
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر دومۃ الجندل (علاقے) کی جانب روانہ فرمایا، اور ان کو یہ کہتے ہوئے روانہ فرمایا کہ تم جاؤ، تم دومہ کے ایک مٹیالے رنگ کے شخص کو باہر شکار کرتے ہوئے پاؤ گے۔ تم اس کو گرفتار کر لینا ۔ وہ لوگ روانہ ہو گئے، اور اس آدمی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق اس مقام پر پایا، ان لوگوں نے اس کو گرفتار کر لیا۔ شہر والے لوگ محفوظ مقام پر ہوں گے اور وہ مسلمانوں سے بات چیت کرنے لگ جائیں گے، ایک مسلمان غلبہ پانے والے سے کہے گا: میں تجھے اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا تم نے اپنی کتاب میں محمد کا ذکر پایا؟ اس نے کہا: نہیں۔ اس کے پہلو میں ایک دوسرا آدمی موجود تھا، اس نے کہا: ہم نے اپنی کتاب میں ان کا ذکر پایا ہے، وہ دو قریشی آدمیوں کے ساتھ مشابہت رکھتا ہو گا، اس کو شیطان کے قلم نے تراشا ہو گا۔ ایک آدمی نے کہا: اے ابوبکر! کیا ان لوگوں نے کفر نہیں کیا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ اور تم بھی عنقریب کفر کرو گے۔ جب لشکر واپس آیا اور مسیلمہ نے نبوت کا دعوی کر دیا، تو اس آدمی نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا: تمہیں اپنی وہ بات یاد ہے جب ہم لوگ دومۃ الجندل میں تھے۔ (اس وقت آپ نے کہا تھا) تم عنقریب کفر کرو گے، کیا اس سے آپ کی مراد مسیلمہ والا معاملہ تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، وہ آخری زمانے میں ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8798]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8799
حدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا زكريا بن يحيى السَّاجِي، حدثنا محمد بن إسماعيل بن أبي سَمِينة، حدثنا الوليد بن مُسلِم، حدثنا الأوزاعي، عن يحيى بن أبي كَثير، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"يخرج رجلٌ يقال له: السُّفْياني، في عُمْق دمشقَ، وعامَّةُ من يَتبَعُه من كَلْب، فيَقتُل حتى يَبقُرَ بطونَ النساءِ ويَقتُلَ الصِّبيان، فتَجمَعُ لهم قيسٌ فيقتلُها حتى لا تَمنَعَ ذَنَبَ تَلْعةٍ، ويخرج رجلٌ من أهل بيتي في الحَرَم فيَبلُغُ السُّفيانيَّ، فيبعثُ إليه جُندًا من جنده (1) ، فيَهزِمُهم، فيسير إليه السُّفيانيُّ بمن معه، حتى إذا صار ببَيداءَ من الأرض خُسِفَ بهم، فلا يَنجُو منهم إلَّا المُخبِرُ عنهم" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8586 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سفیانی نامی ایک شخص دمشق کے علاقے سے ظاہر ہو گا، اس کی پیروی کرنے والوں میں اکثریت قبیلہ کلب کی ہو گی، وہ لڑائی کرے گا، عورتوں کے پیٹ پھاڑ کر اس میں سے بچے نکالے گا اور بچوں کو قتل کر دے گا۔ اس کے لئے قیس کا قبیلہ جمع ہو گا، وہ ان کو بھی قتل کرے گا۔ اس کو کوئی روکنے والا نہیں ہو گا اور میرے اہل بیت میں سے ایک آدمی حرہ میں نکلے گا۔ وہ سفیانی تک پہنچے گا، اللہ تعالیٰ اپنا ایک لشکر اس کی مدد کے لئے بھیجے گا، اور وہ ان کو شکست دے دے گا۔ پھر سفیانی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پیش قدمی کرے گا اور جب وہ ہموار زمین تک پہنچے گا تو اس کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ ان لوگوں میں سے صرف وہی نجات پائے گا جو ان کے بارے میں خبر دے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8799]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں