🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

106. ذِكْرُ خُرُوجِ السُّفْيَانِيِّ مِنْ دِمَشْقَ وَهَلَاكِهِ
دمشق سے سفیانی کے خروج اور اس کی ہلاکت کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8799
حدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا زكريا بن يحيى السَّاجِي، حدثنا محمد بن إسماعيل بن أبي سَمِينة، حدثنا الوليد بن مُسلِم، حدثنا الأوزاعي، عن يحيى بن أبي كَثير، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"يخرج رجلٌ يقال له: السُّفْياني، في عُمْق دمشقَ، وعامَّةُ من يَتبَعُه من كَلْب، فيَقتُل حتى يَبقُرَ بطونَ النساءِ ويَقتُلَ الصِّبيان، فتَجمَعُ لهم قيسٌ فيقتلُها حتى لا تَمنَعَ ذَنَبَ تَلْعةٍ، ويخرج رجلٌ من أهل بيتي في الحَرَم فيَبلُغُ السُّفيانيَّ، فيبعثُ إليه جُندًا من جنده (1) ، فيَهزِمُهم، فيسير إليه السُّفيانيُّ بمن معه، حتى إذا صار ببَيداءَ من الأرض خُسِفَ بهم، فلا يَنجُو منهم إلَّا المُخبِرُ عنهم" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8586 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دمشق کے کسی دور افتادہ مقام سے ایک شخص نکلے گا جسے سفیانی کہا جائے گا، اس کے اکثر پیروکار قبیلہ بنو کلب سے ہوں گے، وہ اس قدر قتل و غارت کرے گا کہ عورتوں کے پیٹ چاک کر دے گا اور بچوں کو قتل کر دے گا، ان کے مقابلے کے لیے قبیلہ قیس جمع ہوگا مگر وہ انہیں اس طرح مٹا دے گا کہ کوئی بچانے والا نہ رہے گا، پھر میرے اہل بیت میں سے ایک شخص حرم (مکہ) میں ظاہر ہوگا، سفیانی اس کی طرف اپنا ایک لشکر بھیجے گا مگر وہ لشکر شکست کھا جائے گا، پھر سفیانی خود اپنے لاؤ لشکر سمیت اس کی طرف بڑھے گا، یہاں تک کہ جب وہ زمین کے ایک چٹیل میدان (بیداء) میں پہنچیں گے تو انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا اور ان میں سے سوائے اس شخص کے کوئی نہ بچے گا جو ان کی خبر دے گا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8799]
تخریج الحدیث: «غريب منكر، رجال إسناده ثقات إلّا أنَّ الوليد بن مسلم كان معروفًا بتدليس التسوية، وهو أن يسقط من الإسناد شيخَ شيخه أو مَن فوقه، وقد فعل هذا بالأوزاعي، ففي ترجمته من "تاريخ دمشق" لابن عساكر 63/ 291 أنَّ الهيثم بن خارجة قال له: قد أفسدتَ حديث الأوزاعي؛ وذكر له أنَّ ...» [ترقيم الرساله 8799] [ترقيم الشركة 8689] [ترقيم العلميه 8586]

الحكم على الحديث: غريب منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8800
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا المعتمِر بن سليمان قال: سمعت حُميدًا، حدثنا الحسن، حدثني حِطَّانُ بن عبد الله الرَّقَاشي: أنهم أَقبلوا مع أبي موسى من غزاةٍ، فلما نزلوا مَنزلًا قال: كنا نتحدَّث أنَّ بين يدي الساعةِ هَرْجًا، قالوا: وما الهَرْجُ أيها الأمير؟ قال: القتلُ، قلنا: أكثرَ مما نَقتلُ؟! إنا نقتلُ في السَّنة إن شاء الله أكثرَ من مئة ألف، قال: ليس قتلَكم المشركين، ولكنْ قتلُ بعضِكم بعضًا، قال: قلنا: ومعنا عقولُنا يومئذٍ؟! قال أبو موسى: تُنزَعُ عقولُ أكثر ذلك الزمان، ويَخلُفُ هَباءٌ من الناس، يَحسَبُ أكثرُهم أنهم على شيءٍ، والله ما أَجِدُ لي ولكم إنْ هي أدرَكَتْني وإياكم فيما نَقرأُ من كتاب ربِّنا وفيما عَهِدَ إلينا نبُّينا، إلّا أن نَخرُجَ منها كما دَخَلْنا فيها (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8587 - على شرط البخاري ومسلم
حطان بن عبداللہ رقاشی سے روایت ہے کہ وہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک غزوے سے واپس آ رہے تھے، جب انہوں نے ایک مقام پر پڑاؤ کیا تو انہوں نے فرمایا: ہم یہ تذکرہ کیا کرتے تھے کہ قیامت سے پہلے ہرج ہوگا، لوگوں نے دریافت کیا: اے امیر! ہرج سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: قتل، ہم نے عرض کیا: کیا اس سے بھی زیادہ جتنا ہم اب قتل کرتے ہیں؟ ہم تو سال بھر میں اللہ کے حکم سے ایک لاکھ سے زائد (دشمنوں کو) قتل کر دیتے ہیں، انہوں نے فرمایا: وہ مشرکین کا قتل نہیں ہوگا بلکہ تمہارا ایک دوسرے کو قتل کرنا ہوگا، ہم نے عرض کیا: کیا اس وقت ہمارے ہوش و حواس قائم ہوں گے؟ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس زمانے کے اکثر لوگوں کی عقلیں سلب کر لی جائیں گی اور پیچھے ایسے لوگ بچیں گے جن کی حیثیت گرد و غبار جیسی ہوگی، ان میں سے اکثر یہ گمان کریں گے کہ وہ کسی حق بات پر ہیں، اللہ کی قسم! اپنے اور تمہارے لیے میں اس صورتحال میں کوئی بچاؤ کی راہ نہیں پاتا جس کا ذکر ہم اللہ کی کتاب اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں پڑھتے ہیں، سوائے اس کے کہ ہم اس دنیا سے ویسے ہی بے گناہ نکل جائیں جیسے اس میں داخل ہوئے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8800]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8800] [ترقيم الشركة 8690] [ترقيم العلميه 8587]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں