المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
111. مُحَاصَرَةُ الْحَجَّاجِ ابْنَ الزُّبَيْرِ
حجاج بن یوسف کے ہاتھوں سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا محاصرہ
حدیث نمبر: 8813
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا أحمد بن مِهْران بن خالد الأصبهاني، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا يونس بن أبي إسحاق، عن هلال بن خبَّاب، عن عِكْرمة، عن عبد الله بن عمرو قال: كنت جالسًا عند النبيِّ ﷺ، فذكر الفتنة أو ذُكِرَت له، فقال:"إذا الناسُ قد مَرِجَت عهودُهم، وخفَّت أماناتُهم، وصاروا هكذا" وشبَّك بين أصابعه، فقمتُ إليه فقلت: كيف أصنعُ عند ذلك يا رسول الله، جعلني اللهُ فِداك؟ قال:"املِكْ عليك لسانَك، واجلِسْ في بيتِك، وخُذْ ما تعرفُ ودَعْ ما تُنكِر، وعليك بخاصَّةِ نفسِك ودَعْ عنك أمرَ العامَّة" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8600 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8600 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنے کا ذکر کیا، اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کے وعدے خراب ہو جائیں گے، اور امانتیں ہلکی سمجھی جائیں گی، اور لوگ یوں ہو جائیں گے، یہ کہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ میں ڈالیں، میں اٹھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور عرض کی: یا رسول اللہ، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے، اس وقت میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی زبان سنبھال کر رکھنا، اپنے گھر میں بیٹھے رہنا، جو پہچانتا ہے، بھلائی کو اپنا لینا، برائی سے بچنا، تو اپنے آپ کو بچانا، لوگوں کا معاملہ ان کے سپرد کر دینا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8813]