المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
111. مُحَاصَرَةُ الْحَجَّاجِ ابْنَ الزُّبَيْرِ
حجاج بن یوسف کے ہاتھوں سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا محاصرہ
حدیث نمبر: 8814
أخبرني أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا هاشم (3) بن يونس العصَّار بمصر، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا يحيى بن أيوب، حدثني عُمَارة بن غَزِيَّة، عن مسلم بن أبي حُرَّة قال: لما حُصِرَ ابن الزُّبير وتحصَّنَت أبوابُ المسجد من أهل الشام، سمع مَولَيَين له من خلفه وتكلَّما بكلامٍ، فالْتفَتَ إليهما وقال: ما تتبَّعَ أحدٌ من الكتب ما تتبعَّتُها، لقد قرأتُ الكتبَ وسمعتُ الأحاديث، فوجدتُ كلَّ شيء باطلًا إِلَّا ما في كتاب الله. قال: فخرج فاستلم الرُّكنَ، ثم دخل على أمِّه أسماءَ فقبَّلها، قبَّل ما بين الخِمار إلى الوجه فوقَ الجبهة، فقالت: ما حِسٌّ أسمعُه؟ فقيل لها: أهلُ الشام، قالت: كلُّهم مسلمون؟ قيل لها نعم، كذلك يَزعُمون، قالت: لقد رأيتُ الإسلام لو اجتَمعوا على شاةٍ ما أَكَلوها، ثم قالت: يا بنيَّ، متْ كريمًا ولا تَستسلِمْ فقال عبد الله: أين أهلُ مصر؟ قالوا له على الباب، بابِ بني جُمَحَ، وكان أكثرَ الأبواب بأسًا، فحَمَلَ عليهم فانكَشَفوا حتى السُّوق، قال: وإنَّ خُبيبًا ليَضربُهم بالسيف من ورائهم ويقول: احمِلُوا، وما أحدٌ يَدخُل عليه، قال: ثم يحمل فينكشفون، قال: فلما رأَوْا [ذلك أَدخلوا أسوَدَ، فلما رأوْه] (1) حوَّلوا ليَختِلَ له، قال: فدخل الأسودُ حتى كان بين أستارِ الكعبة، فلما جاءه خرج إليه فضربه ابن الزُّبير فأطَنَّ رِجلَيه كِلتَيهما، قال: فطَفِقَ يتحاملُ يستقلُّ، قال: ثم خَرَّ، فما الْتفَتَ إليه حتى جاءه حجرٌ فأصابه عند الأُذن فخَرَّ، فقتلوه (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8601 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8601 - صحيح
مسلم بن ابی حرہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب (سیدنا) ابن زبیر رضی اللہ عنہما کا محاصرہ کیا گیا اور اہل شام نے مسجد کے دروازوں پر پہرہ بٹھا دیا تو انہوں نے اپنے پیچھے اپنے دو غلاموں کو کچھ باتیں کرتے ہوئے سنا، وہ ان کی طرف مڑے اور فرمایا: ”کتابوں کی جتنی تلاش و جستجو میں نے کی ہے کسی نے نہیں کی ہوگی، میں نے کتابیں پڑھیں اور احادیث سنیں تو میں نے اللہ کی کتاب کے علاوہ ہر چیز کو باطل پایا۔“ راوی کہتے ہیں: پھر وہ باہر نکلے اور حجر اسود کا بوسہ لیا، پھر اپنی والدہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان کی پیشانی پر بوسہ دیا، انہوں نے پوچھا: یہ کیسی آواز ہے جو میں سن رہی ہوں؟ انہیں بتایا گیا کہ یہ اہل شام (کا لشکر) ہے، انہوں نے پوچھا: کیا وہ سب مسلمان ہیں؟ کہا گیا: جی ہاں، ان کا دعویٰ تو یہی ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے اسلام کو دیکھا ہے کہ اگر وہ سب ایک بکری پر بھی جمع ہو جاتے تو اسے (اتنے ہجوم میں) کھا نہ پاتے، پھر انہوں نے فرمایا: ”اے میرے بیٹے! عزت کی موت مرنا لیکن کبھی ہار نہ ماننا۔“ سیدنا عبداللہ نے پوچھا: اہل مصر کہاں ہیں؟ انہیں بتایا گیا کہ وہ بنو جمح کے دروازے پر ہیں اور وہ سب سے سخت مقابلہ کرنے والا دروازہ تھا، انہوں نے ان پر حملہ کیا تو وہ بازار تک پیچھے ہٹ گئے، راوی کہتے ہیں کہ خبیب پیچھے سے اپنی تلوار کے ساتھ ان پر وار کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے: ”حملہ کرو“، اور ان کے مقابلے پر کوئی نہ آتا تھا، پھر انہوں نے دوبارہ حملہ کیا تو وہ پیچھے ہٹ گئے، جب انہوں نے یہ دیکھا تو ایک سیاہ فام شخص کو آگے کیا تاکہ وہ دھوکے سے وار کرے، وہ شخص کعبہ کے پردوں کے درمیان داخل ہو گیا، جب سیدنا عبداللہ اس کے قریب آئے تو وہ باہر نکلا، انہوں نے اس پر ایسی ضرب لگائی کہ اس کی دونوں ٹانگیں کاٹ دیں، وہ شخص سہارا لے کر اٹھنے کی کوشش کرتا رہا پھر گر پڑا، انہوں نے اس کی طرف توجہ نہ دی یہاں تک کہ ایک پتھر آیا جو ان کے کان کے پاس لگا جس سے وہ گر پڑے اور لوگوں نے انہیں شہید کر دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8814]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8814]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين، هاشم بن يونس العصار روى عنه جمع من الحفاظ ولم يجرحه أحد منهم، ويحيى بن أيوب» [ترقيم الرساله 8814] [ترقيم الشركة 8704] [ترقيم العلميه 8601]
الحكم على الحديث: إسناده محتمل للتحسين