المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
112. مُكَالَمَةُ أَسْمَاءَ مَعَ الْحَجَّاجِ بَعْدَ ابْنِ الزُّبَيْرِ
سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کی حجاج سے گفتگو
حدیث نمبر: 8814
أخبرني أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا هاشم (3) بن يونس العصَّار بمصر، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا يحيى بن أيوب، حدثني عُمَارة بن غَزِيَّة، عن مسلم بن أبي حُرَّة قال: لما حُصِرَ ابن الزُّبير وتحصَّنَت أبوابُ المسجد من أهل الشام، سمع مَولَيَين له من خلفه وتكلَّما بكلامٍ، فالْتفَتَ إليهما وقال: ما تتبَّعَ أحدٌ من الكتب ما تتبعَّتُها، لقد قرأتُ الكتبَ وسمعتُ الأحاديث، فوجدتُ كلَّ شيء باطلًا إِلَّا ما في كتاب الله. قال: فخرج فاستلم الرُّكنَ، ثم دخل على أمِّه أسماءَ فقبَّلها، قبَّل ما بين الخِمار إلى الوجه فوقَ الجبهة، فقالت: ما حِسٌّ أسمعُه؟ فقيل لها: أهلُ الشام، قالت: كلُّهم مسلمون؟ قيل لها نعم، كذلك يَزعُمون، قالت: لقد رأيتُ الإسلام لو اجتَمعوا على شاةٍ ما أَكَلوها، ثم قالت: يا بنيَّ، متْ كريمًا ولا تَستسلِمْ فقال عبد الله: أين أهلُ مصر؟ قالوا له على الباب، بابِ بني جُمَحَ، وكان أكثرَ الأبواب بأسًا، فحَمَلَ عليهم فانكَشَفوا حتى السُّوق، قال: وإنَّ خُبيبًا ليَضربُهم بالسيف من ورائهم ويقول: احمِلُوا، وما أحدٌ يَدخُل عليه، قال: ثم يحمل فينكشفون، قال: فلما رأَوْا [ذلك أَدخلوا أسوَدَ، فلما رأوْه] (1) حوَّلوا ليَختِلَ له، قال: فدخل الأسودُ حتى كان بين أستارِ الكعبة، فلما جاءه خرج إليه فضربه ابن الزُّبير فأطَنَّ رِجلَيه كِلتَيهما، قال: فطَفِقَ يتحاملُ يستقلُّ، قال: ثم خَرَّ، فما الْتفَتَ إليه حتى جاءه حجرٌ فأصابه عند الأُذن فخَرَّ، فقتلوه (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8601 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8601 - صحيح
مسلم ابن ابی حرہ بیان کرتے ہیں: جب ابن زبیر کا محاصرہ ہو گیا، اور شامیوں نے مسجد کے دروازوں کو اپنے لئے قلعے بنا لیا تھا، آپ نے اپنے پیچھے دو غلاموں کو باتیں کرتے ہوئے سنا، آپ ان کی جانب متوجہ ہوئے اور بولے: کتابوں کا جس قدر میں نے تتبع کیا ہے، اور کسی نے نہیں کیا، میں نے کتابیں بھی پڑھی ہیں، اور احادیث بھی سنی ہیں، میں نے کتاب اللہ کے علاوہ سب کتابیں باطل پائی ہیں۔ پھر آپ نکلے، رکن کا استلام کیا، پھر اپنی والدہ سیدہ اسماء کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کا بوسہ لیا، ان کے سر کا بوسہ لیا، آپ کی والدہ نے پوچھا: میں یہ کیا آواز سن رہی ہوں؟ آپ نے فرمایا: شامی لوگوں کی آوازیں ہیں۔ آپ کی والدہ نے پوچھا: سب لوگ مسلمان ہیں؟ آپ کو بتایا گیا کہ جی ہاں سب خود کو مسلمان ہی سمجھتے ہیں، آپ فرماتی ہیں: میں نے اسلام کو دیکھا ہے، اگر یہ سب ایک بکری پر جمع ہو جائیں تو اس کو نہیں کھا سکتے۔ پھر فرمایا: اے میرے پیارے بیٹے، عزت کی موت مرنا، اور (باطل کے آگے) سر نہیں جھکانا، سیدنا عبداللہ نے کہا: مصر والے کہاں ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ دروازے پر۔ بنی جمع کے دروازے پر۔ اکثر دروازوں پر لوگ موجود تھے، انہوں نے ان پر حملہ کر دیا، لوگ بازار تک پیچھے ہٹ گئے، سیدنا خبیب پیچھے سے تلوار کے ساتھ ان کو مار رہے تھے، اور فرما رہے تھے، حملہ کرو، اور ان پر کوئی بھی داخل نہیں ہو رہا تھا، آپ نے پھر حملہ کیا تو لوگ پھر منتشر ہو گئے، جب لوگوں نے یہ معاملہ دیکھا تو اسود کو داخل کیا، جب انہوں نے اس کو دیکھا تو اس کو دھوکہ دینے کے لئے پھر گئے، پھر اسود داخل ہوا، وہ کعبہ کے پردوں کے پیچھے تھا، جب وہ کعبہ کے قریب آیا تو ابن زبیر نے اس پر حملہ کر دیا اور اس کے دونوں پاؤں کاٹ ڈالے، وہ اٹھنے کی کوشش کرتا لیکن گر جاتا، آپ اس کی جانب متوجہ نہ ہوئے، حتی کہ ایک پتھر آ کر ان کے کان کے قریب لگا جس کی وجہ سے آپ شہید ہو گئے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8814]
حدیث نمبر: 8815
فحدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي، حدثنا رَوْح بن عُبَادة، حدثنا عَوف، حدثنا أبو الصِّدِّيق قال: لما ظَفِرَ الحجّاجُ على ابن الزُّبير فقتله ومَثَّل به، ثم دخل على أم عبد الله، وهي أسماءُ بنت أبي بكر، فقالت: كيف تستأذنُ علي وقد قتلتَ ابني؟! فقال: إِنَّ ابنك أَلحَدَ في حَرَم الله، فقتلتُه مُلحِدًا عاصيًا، حتى أذاقه الله عذابًا أليمًا، وفَعَلَ به وفَعَل، فقالت: كذبت يا عدوَّ الله وعدوَّ المسلمين، والله لقد قتلته صوّامًا قوامًا بَرًّا بوالديه، حافظًا لهذا الدِّين، ولئِن أفسدتَ عليه دُنْياه، لقد أفسد عليك آخرتكَ، ولقد حدَّثَنا رسول الله ﷺ: أنه يخرج من ثَقيفٍ كذَّابانِ، الآخِرُ منهما أشرُّ من الأول، وهو المُبِير، وما هو إلَّا أنت يا حجَّاجُ (1) .
ابوالصدیق بیان کرتے ہیں کہ جب حجاج نے ابن زبیر پر چڑھائی کر لی اور ان کو شہید کر کے ان کا مثلہ کر دیا، پھر وہ ام عبداللہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر کے پاس آیا، آپ نے فرمایا: تو میرے بیٹے کو قتل کر کے، میرے پاس کیوں آیا ہے؟ اس نے کہا: تیرے بیٹے نے اللہ تعالیٰ کے حرم میں بددینی کی ہے، میں نے اس کو بددین اور گنہگار (ہونے کی وجہ سے) قتل کیا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اسے دردناک عذاب دیا ہے، اور اس کا بہت برا حشر کیا ہے۔ سیدہ اسماء نے فرمایا: اے اللہ کے اور مسلمانوں کے دشمن، تو جھوٹ بول رہا ہے، اللہ کی قسم! تو نے اس کو قتل کیا، وہ روزہ دار، شب زندہ دار، اور ماں باپ کا فرمانبردار تھا، اس دین کا محافظ تھا، تو نے اس کی صرف دنیا تباہ کی ہے، لیکن تو نے اپنی آخرت برباد کر لی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا تھا کہ قبیلہ ثقیف سے دو کذاب ظاہر ہوں گے، ان میں سے دوسرا پہلے سے زیادہ برا ہو گا، اور وہ ” مبیر “ (یعنی ہلاک کرنے والا) ہو گا۔ اے حجاج، وہ تو ہی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8815]
حدیث نمبر: 8816
أخبرَناهُ الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا أبو عُمر (2) الحَوْضي وعَمْرو (3) بن مرزوق قالا: حدثنا شُعبة، عن حُصَين؛ فذكر الحديث بنحوه، وزاد فيه: فقال: الحجَّاج: صَدَقَ رسول الله ﷺ وَصَدَقتِ، أنا المُبيرُ؛ أُبِيرُ المنافقين (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8603 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8603 - صحيح
مذکورہ سند کے ہمراہ بھی سابقہ حدیث مروی ہے، اس میں یہ الفاظ زائد ہیں ” حجاج نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالکل سچ فرمایا ہے اور آپ بھی سچ فرما رہی ہیں، میں مبیر (ہلاک کرنے والا) ہوں۔ میں واقعی مبیر (ہلاک کرنے والا) ہوں۔ میں منافقوں کو ہلاک کرتا ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8816]
حدیث نمبر: 8817
أخبرني محمد بن موسى بن عمران المؤذِّن، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المثنَّى، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعبة قال: سمعت أبا جَمْرة يحدِّث عن إياس بن قَتَادة، عن قيس بن عُبَاد قال: كنت أَقدَمُ المدينة ألقى ناسًا من أصحاب الرسول ﷺ، فكان أحبَّهم إليَّ لقاءً أُبيُّ بنُ كعب، قال: فَقَدِمتُ زمنَ عمر إلى المدينة، فأقاموا صلاةَ الصبح، فخرج عمرُ وخرج معه رجالٌ، فإذا رجلٌ من القوم يَنظُرُ في وجوه القوم، فعَرَفَهم وأنكَرَني فَدَفَعَني فقام مقامي، فصلَّيتُ وما أَعقِلُ صلاتي، فلما صلَّى قال: يا بنيَّ، لا يَسُؤُكَ الله، إني [لم] (2) أَفعل الذي فعلتُ لجهالةٍ؛ إنَّ رسول الله ﷺ قال لنا:"كونوا في الصفِّ الذي يَلِيني"، وإني نظرتُ في وجوه القوم فعرفتُهم غيرَك. وجلس، فما رأيتُ الرجالَ مَتَحَت (3) أعناقَها إلى شيء مُتُوحَها (4) إليه، فإذا هو أُبيُّ بن كعب، وكان فيما قال: هَلَكَ أهلُ العَقْد وربِّ الكعبة، هَلَك أهلُ العَقْد وربِّ الكعبة، والله ما آسَى عليهم، إنما أسَى على مَن أهلَكوا من المسلمين (5) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8604 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8604 - صحيح
سیدنا قیس بن عبادہ فرماتے ہیں: میں مدینہ میں آیا، نماز فجر کی جماعت کھڑی ہوئی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کی ہمراہی میں تشریف لائے، ان میں ایک آدمی لوگوں کو دیکھ رہا تھا، اس نے سب کو پہچان لیا لیکن مجھے نہیں پہچانا، اس نے مجھے روک دیا اور خود میری جگہ پر کھڑا ہو گیا، میں نے نماز پڑھی، لیکن اس نماز کی مجھے کوئی ہوش نہ تھی۔ جب اس نے نماز پڑھ لی تو اس نے کہا: اے پیارے بیٹے، اللہ تعالیٰ تجھے تکلیف نہ دے، میں نے تیرے ساتھ جو کچھ کیا ہے، وہ لاعلمی میں نہیں کیا، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تم اس صف میں کھڑے ہوا کرو جو صف میرے ساتھ متصل ہے، میں نے لوگوں پر ایک نظر ماری، میں نے تیرے سوا سب کو پہچان لیا، پھر وہ بیٹھ گیا، میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ ان ہی کی جانب متوجہ تھے، اور وہ اپنی گردنیں کسی اور جانب پھیر ہی نہیں رہے تھے، وہ تو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ رب کعبہ کی قسم اہل عقد ہلاک ہو گئے، رب کعبہ کی قسم! اہل عقد ہلاک ہو گئے، رب کعبہ کی قسم! اہل عقد ہلاک ہو گئے، اللہ کی قسم، مجھے ان پر افسوس نہیں ہو رہا، مجھے افسوس ان لوگوں پر ہے جنہوں نے مسلمانوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8817]
حدیث نمبر: 8818
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّورِي، حدثنا أبو داود الطَّيالِسي، حدثنا شُعبة، عن سِمَاك بن حَرْب قال: سمعت مالك بن ظالم يحدِّث عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"هلاكُ أمَّتي على يَدَيْ أُغَيلِمةٍ من قُريش" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه لخلاف بين شعبةَ وسفيان الثَّوريِّ فيه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8605 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه لخلاف بين شعبةَ وسفيان الثَّوريِّ فيه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8605 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت کی ہلاکت قریش کے ایک چھوکرے کے ہاتھ سے ہو گی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ کیونکہ اس میں شعبہ کا اور سفیان ثوری کا اختلاف ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8818]
حدیث نمبر: 8819
أخبرناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا سفيان. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطيعي، حدثنا حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أَبي، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، عن سفيان، عن سِمَاك، حدثني عبد الله بن ظالم قال: سمعت أبا هريرة يقول: سمعت أبا القاسم ﷺ يقول:"إنَّ فسادَ أمتي على يَدَي أُغيلمَةٍ سفهاءَ من قُريش" (2) . فسمعت أبا عبد الله محمدَ بنَ يعقوب يقول: سمعت الحسين بن محمد القَبّاني يقول: سمعت عمرو بن علي يقول: الصحيحُ مالكُ بن ظالم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8606 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8606 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت کا فساد قریش کے ایک ناسمجھ لڑکے کے ہاتھ سے ہو گا۔ ٭٭ اس حدیث کی سند میں سماک نے عبداللہ بن ظالم کا نام ذکر کیا ہے جبکہ عمرو بن علی کا بیان ہے کہ صحیح نام ” مالک بن ظالم “ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8819]