🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

122. ذِكْرُ الْمُؤْمِنِ قَوِيِّ الْإِيمَانِ يَقْتُلُهُ الدَّجَّالُ ثُمَّ يُحْيِيهِ
ایک قوی الایمان مومن کا تذکرہ جسے دجال قتل کر کے دوبارہ زندہ کرے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8835
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن إسحاق البَغَوي العدل ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا محمد بن سابق، حدثنا أبو معاوية شَيْبان بن عبد الرحمن، عن فِراس، عن عطيَّة العَوْفِي، عن أبي سعيد الخُدْري، أنه سمع رسول الله ﷺ يقول:"أَلَا كلُّ نبيٍّ قد أَنذَرَ أمَّتَه الدجالَ، وإنه يومَه هذا قد أكل الطعامَ، وإني عاهدٌ عهدًا لم يَعهَذه نبيٌّ لأمّتِه قبلي، ألا إنَّ عينَه اليمنى ممسوحة، الحَدَقةُ [جاحظةٌ] فلا تَخفَى (2) ، كأنها نُخاعةٌ في جنب حائط، ألا وإنَّ عينه اليسرى كأنها كوكبٌ دُرِّيٌّ، معه مثلُ الجنة ومثلُ النار، فالنارُ روضةٌ خضراءُ والجنةُ غَبراءُ ذاتُ دخان، ألا وإنَّ بين يديه رَجُلين (3) يُنذِران أهلَ القرى، كلَّما دخلا قريةً أُنذِرَ أهلُها، فإذا خرجا منها دخلها أولُ أصحاب الدَّجّال، ويدخل القرى كلَّها غيرَ مكةَ والمدينةِ، حُرِّما عليه. والمؤمنون متفرِّقون في الأرض، فيَجمَعُهم اللهُ له، فيقول رجل من المؤمنين لأصحابه: واللهِ لأَنطلقنَّ إلى هذا الرجل فلأَنظُرَنَّ: هو الذي أَنذَرَنا رسولُ الله ﷺ أم لا، ثم ولَّى، فقال له أصحابه: والله لا نَدعُك، ولو أنَّا نعلمُ أنه يقتلُك إذا أتيتَه خلَّينا سبيلَك، ولكنا نخاف أن يَفتِنَك، فأَبَى عليهم الرجلُ المؤمن إلَّا أن يأتيَه، فانطلق يمشي حتى أَتى مسلَحةً من مَسالحِه، فأخذوه فسألوه: ما شأنُك وما تريد؟ قال لهم: أريد الدجالَ الكذابَ، قالوا: إنك تقول ذلك؟! قال: نعم، فأَرسَلوا إلى الدجال: أنّا قد أخَذْنا [مَن] يقول: كذا وكذا، فنقتلُه أو نرسلُه إليك؟ قال: أَرسِلوه إليَّ، فانطُلِقَ به حتى أُتِيَ به الدجالُ، فلما رآه عَرَفَه لنَعْتِ رسولِ الله ﷺ، فقال له الدجال: ما شأنُك؟ فقال له العبدُ المؤمن: أنت الدجالُ الكذابُ الذي أَنذَرَناك رسولُ الله ﷺ، قال له الدجال: أنت تقولُ هذا؟ قال: نعم، قال له الدجال: أتُطِيعُني فيما أمرتُك أو لأَشُقَّنَّكَ شِقَّينِ؟ فنادى العبدُ المؤمن فقال: أيها الناس، هذا المسيحُ الكذَّابُ، فمَن عصاه فهو في الجنة، ومَن أطاعه فهو في النار، فقال له الدجال: والذي أَحلِفُ به لتُطِيعَنِّي أو لأشُقَّنَّكَ شِقَّين، فنادى العبدُ المؤمن فقال: أيها الناس، هذا المسيحُ الكذَّابُ، فمَن عصاه فهو في الجنة، ومن أطاعه فهو في النار. فمَدَّ برجله فوَضَعَ حديدةً على عَجْبِ ذَنَبِه فشقَّه شِقَّينِ، فلما فُعِلَ به ذلك، قال الدجالُ لأوليائه: أرأيتم إن أحييتُ هذا لكم، ألستم تعلمون أني ربُّكم؟ قالوا: بلى". قال عطيّة: فحدَّثنَي أبو سعيد الخُدْري، أنَّ نبيَّ الله ﷺ قال:"فضرب أحدَ شِقَّيه أو الصعيدَ عنده فاستوى قائمًا، فلما رآه أولياؤُه صدَّقوه وأيقَنوا أنه ربُّهم، وأجابوه واتَّبعوه، قال الدجال للعبد المؤمن: ألا تؤمنُ بي؟ قال له المؤمن: لأنا أشدُّ الآنَ فيك بصيرةً من قبلُ، ثم نادى في الناس: ألا إنَّ هذا المسيحُ الكذَّابُ، فمن أطاعه فهو في النار، ومن عَصَاه فهو في الجنة، فقال الدجال: والذي أَحلِفُ به لَتُطِيعَنِّي أو لأذبحنَّك، أو لأُلقينَّك في النار، فقال له المؤمن: والله لا أُطيعُك أبدًا، فأَمر به فأُضجِعَ"، قال: فقال لي أبو سعيد: إنَّ نبي الله ﷺ قال:"جعل [اللهُ] (1) صفحتين من نُحاسٍ بين تَراقِيهِ ورقبته - قال: وقال أبو سعيد: ما كنت أدري ما النحاسُ قبلَ يومئذٍ - فذهب ليذبحَه فلم يستطع، ولم يُسلَّطْ عليه بعد قتلِه إياه" قال: فإِنَّ نبيَّ الله ﷺ قال:"فأَخذ بيديه ورِجْليه فألقاه في الجنة، وهي غبراءُ ذات دخانٍ يَحْسَبُها النارَ". قال: فقال أبو سعيد: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"ذاك الرجلُ أقربُ أمتي مني إذا رُفع إلى درجةٍ يومَ القيامة" (1) . قال: فقال أبو سعيد: ما كان أصحابُ محمدٍ ﷺ يَحسَبون ذلك الرجلَ إِلَّا عمرَ بنَ الخطّاب، حتى سَلَكَ عمرُ سبيلَه. قال: ثم قلت له: فكيف يَهلِكُ؟ قال: الله أعلمُ، قال: فقلت: أخبِرتُ أنَّ عيسى ابن مريم ﵇ هو يهلكُه، فقال: اللهُ أعلمُ، غيرَ أنه يهلكُه اللهُ ومن تَبِعَه، قال: قلت: فمن يكون بعدَه، قال: حدثني نبيُّ الله ﷺ: أنهم يَغرِسون بعدُ الغُروسَ، ويَتَّخِذون من بعدِه الأموال؟! قال: قلت: سبحانَ الله، أبعدَ الدَّجالِ يَغرِسون الغروسَ، ويتخذون من بعدِه الأموال؟! قال: نعم، حدَّثَني بذلك رسولُ الله ﷺ (2) . هذا أعجبُ حديثٍ في ذكر الدجال، تفرَّد به عطيةُ بن سعد عن أبي سعيد الخُدْري، ولم يحتجَّ الشيخان بعطيّة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8621 - عطية ضعيف
عطیہ عوفی سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: سن لو! ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ہے۔ اور وہ آج کے دن کھانا کھا چکا ہے (یعنی پیدا ہو چکا ہے)۔ اور میں تمہیں ایک ایسی پختہ خبر دے رہا ہوں جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے اپنی امت کو نہیں دی۔ سن لو! اس کی دائیں آنکھ ممسوح (کانی) ہوگی، اس کی پتلی ابھری ہوئی ہوگی جو چھپی نہیں رہے گی، گویا وہ دیوار کے پہلو میں لگا ہوا بلغم ہو۔ سن لو! اس کی بائیں آنکھ چمکتے ہوئے ستارے کی طرح ہوگی۔ اس کے ساتھ جنت اور جہنم جیسی چیزیں ہوں گی، پس (اس کی) جہنم دراصل ایک سرسبز باغ ہوگا، اور (اس کی) جنت ایک غبار آلود اور دھوئیں والی جگہ ہوگی۔ سن لو! اس کے آگے دو آدمی ہوں گے جو بستیوں والوں کو خبردار کریں گے، وہ جس بستی میں بھی داخل ہوں گے وہاں کے لوگوں کو ڈرائیں گے، پھر جب وہ وہاں سے نکلیں گے تو دجال کے ساتھیوں کا ہراول دستہ اس بستی میں داخل ہو جائے گا۔ اور وہ مکہ اور مدینہ کے سوا تمام بستیوں میں داخل ہوگا، ان دونوں کو اس پر حرام کر دیا گیا ہے۔ اور مومن زمین میں بکھرے ہوئے ہوں گے، پس اللہ انہیں اس کے لیے جمع فرمائے گا۔ تو مومنوں میں سے ایک شخص اپنے ساتھیوں سے کہے گا: اللہ کی قسم! میں اس شخص کے پاس ضرور جاؤں گا اور دیکھوں گا کہ آیا یہ وہی ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ڈرایا تھا یا نہیں، پھر وہ مڑے گا۔ اس کے ساتھی اس سے کہیں گے: اللہ کی قسم ہم تمہیں نہیں چھوڑیں گے (جانے نہیں دیں گے)، اگر ہمیں یہ معلوم ہوتا کہ جب تم اس کے پاس جاؤ گے تو وہ تمہیں قتل کر دے گا تو ہم تمہیں جانے دیتے، لیکن ہمیں ڈر ہے کہ کہیں وہ تمہیں فتنے میں نہ ڈال دے۔ لیکن اس مومن شخص نے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا اور اس کے پاس جانے کی ٹھان لی۔ چنانچہ وہ چل پڑا یہاں تک کہ دجال کی ایک چوکی (محافظوں کے دستے) کے پاس پہنچا۔ انہوں نے اسے پکڑ لیا اور اس سے پوچھا: تمہارا کیا ارادہ ہے اور تم کیا چاہتے ہو؟ اس نے ان سے کہا: میں اس جھوٹے دجال کے پاس جانا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا: کیا تم یہ بات کہتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ تو انہوں نے دجال کی طرف پیغام بھیجا: ہم نے ایک ایسے شخص کو پکڑا ہے جو اس اس طرح کی باتیں کر رہا ہے، کیا ہم اسے قتل کر دیں یا آپ کے پاس بھیجیں؟ اس نے کہا: اسے میرے پاس بھیج دو۔ چنانچہ اسے لے جایا گیا یہاں تک کہ دجال کے سامنے پیش کر دیا گیا۔ جب اس نے اسے دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے اوصاف سے اسے پہچان لیا۔ دجال نے اس سے پوچھا: تمہارا کیا معاملہ ہے؟ اس مومن بندے نے اس سے کہا: تو وہ جھوٹا دجال ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ڈرایا تھا۔ دجال نے اس سے کہا: کیا تو یہ بات کہتا ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ دجال نے اس سے کہا: کیا تو میرے احکامات کی اطاعت کرے گا یا پھر میں تجھے چیر کر دو ٹکڑے کر دوں؟ تو اس مومن بندے نے پکار کر کہا: اے لوگو! یہ جھوٹا مسیح (دجال) ہے، جس نے اس کی نافرمانی کی وہ جنت میں جائے گا، اور جس نے اس کی اطاعت کی وہ جہنم میں جائے گا۔ دجال نے اس سے کہا: اس ذات کی قسم جس کی میں قسم کھاتا ہوں! تو میری اطاعت کر ورنہ میں تجھے چیر کر دو ٹکڑے کر دوں گا۔ مومن بندے نے پھر پکار کر کہا: اے لوگو! یہ جھوٹا مسیح ہے، جس نے اس کی نافرمانی کی وہ جنت میں جائے گا، اور جس نے اس کی اطاعت کی وہ جہنم میں جائے گا۔ پس دجال نے اپنی ٹانگ پھیلائی اور اس کی ریڑھ کی ہڈی کے نچلے حصے پر لوہا رکھ کر اسے چیر کر دو ٹکڑے کر دیا۔ جب اس کے ساتھ یہ سلوک کر لیا گیا تو دجال نے اپنے پیروکاروں سے کہا: تمہارا کیا خیال ہے، اگر میں اسے تمہارے لیے زندہ کر دوں، تو کیا تم یہ نہیں جان لو گے کہ میں تمہارا رب ہوں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ عطیہ کہتے ہیں: تو مجھے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اس (دجال) نے اس کے دو ٹکڑوں میں سے ایک کو، یا اپنے پاس موجود مٹی کو مارا تو وہ سیدھا کھڑا ہو گیا۔ جب اس کے پیروکاروں نے اسے دیکھا تو اس کی تصدیق کی اور انہیں یقین ہو گیا کہ وہ ان کا رب ہے، اور انہوں نے اسے قبول کر لیا اور اس کی پیروی کی۔ دجال نے اس مومن بندے سے کہا: کیا تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے؟ مومن نے اس سے کہا: اب تو میں تیرے بارے میں پہلے سے بھی زیادہ بصیرت (یقین) رکھتا ہوں۔ پھر اس نے لوگوں میں پکار کر کہا: سن لو! یہ جھوٹا مسیح ہے، جس نے اس کی اطاعت کی وہ جہنم میں جائے گا، اور جس نے اس کی نافرمانی کی وہ جنت میں جائے گا۔ دجال نے کہا: اس ذات کی قسم جس کی میں قسم کھاتا ہوں! تو میری اطاعت کر ورنہ میں تجھے ذبح کر دوں گا، یا تجھے آگ میں ڈال دوں گا۔ مومن نے اس سے کہا: اللہ کی قسم! میں کبھی تیری اطاعت نہیں کروں گا۔ پس دجال نے حکم دیا تو اسے لٹا دیا گیا۔ راوی کہتے ہیں: تو ابوسعید رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس کی ہنسلی کی ہڈیوں اور اس کی گردن کے درمیان تانبے کی دو تختیاں رکھ دیں (ابوسعید نے فرمایا: اس دن سے پہلے میں نہیں جانتا تھا کہ تانبا کیا ہوتا ہے)، تو دجال اسے ذبح کرنے لگا لیکن وہ ایسا کرنے کی طاقت نہ پا سکا، اور اسے ایک بار قتل کرنے کے بعد دوبارہ اس پر غلبہ نہیں دیا گیا۔ راوی کہتے ہیں: پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چنانچہ اس نے اس (مومن) کے ہاتھ پاؤں پکڑے اور اسے (اپنی) جنت میں پھینک دیا، حالانکہ وہ غبار آلود دھوئیں والی جگہ تھی جسے وہ شخص جہنم سمجھ رہا تھا۔ راوی کہتے ہیں: پھر سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: وہ شخص قیامت کے دن درجات کی بلندی کے اعتبار سے میری امت میں میرے سب سے زیادہ قریب ہوگا۔ راوی کہتے ہیں: پھر سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اس شخص کے بارے میں یہی گمان کرتے تھے کہ وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہوں گے، یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ اپنے راستے پر چلے گئے (یعنی وفات پا گئے)۔ راوی عطیہ کہتے ہیں: پھر میں نے ان (ابوسعید رضی اللہ عنہ) سے پوچھا: تو وہ (دجال) کیسے ہلاک ہوگا؟ انہوں نے فرمایا: اللہ بہتر جانتا ہے۔ میں نے کہا: مجھے تو یہ خبر ملی ہے کہ عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام اسے ہلاک کریں گے۔ تو انہوں نے فرمایا: اللہ بہتر جانتا ہے، البتہ اسے اور اس کے پیروکاروں کو اللہ ہی ہلاک کرے گا۔ میں نے کہا: تو اس کے بعد کیا ہوگا؟ انہوں نے فرمایا: مجھے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث بیان کی ہے کہ: لوگ اس کے بعد بھی پودے لگائیں گے اور اس کے بعد بھی مال و اسباب بنائیں گے! میں نے کہا: سبحان اللہ! کیا دجال کے بعد بھی لوگ درخت لگائیں گے اور اس کے بعد بھی مال و اسباب بنائیں گے؟! انہوں نے فرمایا: ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہی حدیث بیان فرمائی ہے۔
دجال کے تذکرے میں یہ سب سے عجیب حدیث ہے، جسے روایت کرنے میں عطیہ بن سعد نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے تفرد اختیار کیا ہے، اور شیخین (امام بخاری و مسلم) نے عطیہ کی روایات سے حجت نہیں پکڑی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8835]
تخریج الحدیث: «أصل الحديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية بن سعد العوفي، وبه أعلّه الذهبي في "التلخيص"، وقد توبع على أبعاضه» [ترقيم الرساله 8835] [ترقيم الشركة 8724] [ترقيم العلميه 8621]

الحكم على الحديث: أصل الحديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں