المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
122. ذِكْرُ الْمُؤْمِنِ قَوِيِّ الْإِيمَانِ يَقْتُلُهُ الدَّجَّالُ ثُمَّ يُحْيِيهِ
ایک قوی الایمان مومن کا تذکرہ جسے دجال قتل کر کے دوبارہ زندہ کرے گا
حدیث نمبر: 8834
أخبرنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مِهرانَ، حدثنا أبي، أخبرنا أحمد بن عبد الرحمن بن وَهْب القُرشي، حدثنا عمِّي، أخبرني يونُس ابن يزيد، عن عطاءٍ الخُراساني، عن يحيى بن أبي عمرو السَّيباني، عن حديث عمرو الحَضْرمي من أهل حمص، عن أبي أُمامة الباهِلى قال: خَطَبَنا رسولُ الله ﷺ يومًا، فكان أكثرُ خطبته ذِكرَ الدَّجال يحدِّثُنا عنه حتى فَرَغَ من خطبته، فكان فيما قال لنا يومئذٍ:"إنَّ الله تعالى لم يَبعَثْ نبيًّا إلَّا حذَّر أمَّتَه الدجالَ، وإني آخرُ الأنبياء وأنتم آخرُ الأمم، وهو خارجٌ فيكم لا مَحَالةَ، فإنْ يَخرُجْ وأنا بين أظهُرِكم، فأنا حَجِيجُ كلِّ مسلمٍ، وإنْ يَخرجْ فيكم بعدي، فكلُّ امرِئٍ حجيجُ نفسِه، واللهُ خَليفتي على كلِّ مسلمٍ، إنه يخرج من خَلَّةٍ بين العراق والشام، فعاثَ يمينًا وعاثَ شِمالًا، يا عبادَ الله فاثْبُتوا، فإنه يبدأُ فيقول: أنا نبيٌّ، ولا نبيَّ بعدي، ثم يُثنِّي فيقول: أنا ربُّكم ولن تَرَوا ربَّكم (1) حتى تموتوا، وإنه مكتوبٌ بين عينيه: كافرٌ، يقرؤُه كلُّ مؤمنٍ، فمن لَقِيَه منكم فليَتفُلْ (2) في وجهه وليَقرأْ فواتحَ سورة أصحاب الكهف، وإنه يُسلَّط على نفسٍ من بني آدم فيقتلُها ثم يُحيِيها، وإنه لا يَعْدُو ذلك، ولا يُسلَّطُ على نفسٍ غيرها. وإنَّ من فتنتِه أنَّ معه جنةً ونارًا، فنارُه جنَّةٌ وجنَّتُه نارٌ، فمن ابتُلِيَ بنارِه فليُغمِضْ عينيه وليَستغِثْ بالله، تكون عليه بردًا وسلامًا كما كانت النار بردًا وسلامًا على إبراهيم، وإنَّ من فتنتِه أن يَمُرَّ على الحيِّ فيؤمنون به ويصدِّقونه فيدعو لهم، فتُمطِرُ السماءُ عليهم من يومهم، وتُخصِبُ لهم الأرضُ من يومها، وتَرُوحُ عليهم ماشيتُهم من يومها أعظمَ ما كانت وأسمنَه وأمدَّه خواصرَ وأدرَّه ضروعًا، ويمرُّ على الحيِّ فيكفرون به ويكذِّبونه فيدعو عليهم، فلا يُصبحُ لهم سارحٌ يَسرَحُ. وإنَّ أيامه أربعون، فيومٌ كسَنةٍ، ويومٌ كشهرٍ، ويومٌ كجُمعةٍ، ويومٌ كالأيام، وآخرُ أيامه كالسَّراب، تَقدُرون الأيامَ الطُّوالَ ثم تصلُّون، يُصبِحُ الرجلُ عند باب المدينة فيُمسي قبل أن يَبلُغَ بابَها الآخَر" قالوا: كيف نُصلِّي يا رسول الله في تلك الأيام القِصَار؟ قال:"تَقدُرون فيها ثم تصلُّون" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8620 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8620 - على شرط مسلم
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، اس دن زیادہ گفتگو دجال کے موضوع پر فرمائی۔ آپ نے اسی کے بارے میں باتیں کرتے کرتے خطبہ ختم فرما دیا۔ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے بارے میں جو کچھ بتایا اس میں سے یہ بھی تھا کہ ” اللہ تعالیٰ نے جس نبی کو بھی مبعوث فرمایا ہے، اس نے اپنی امت کو دجال کے خطرے سے آگاہ کیا، اور میں سب سے آخری نبی ہوں، اور تم آخری امت ہو۔ اور وہ تمہارے اندر لازمی ظاہر ہو گا، اگر وہ میری موجودگی میں تمہارے اندر ظاہر ہو گیا تو ہر مسلمان کی طرف سے اس کا مقابلہ میں کروں گا اور اگر وہ میرے بعد آیا تو ہر شخص اپنا ذمہ دار خود ہو گا۔ اور ہر مسلمان کا نگران خود اللہ رب العزت ہو گا، وہ عراق اور شام کے درمیان خلہ (کے مقام) سے نکلے گا، وہ دائیں اور بائیں بہت فساد پھیلائے گا، اے اللہ کے بندو، ثابت قدم رہنا، کیونکہ وہ شروع ہی میں نبوت کا دعوی کرے گا حالانکہ آخری نبی میں ہوں، پھر وہ مزید آگے بڑھے گا اور خدائی کا دعوی کر دے گا، کہے گا: میں تمہارا رب ہوں، حالانکہ زندگی میں تم رب کو دیکھ نہیں سکتے، اس کی آنکھوں کے درمیان ” کافر “ لکھا ہوا ہو گا، ہر مومن اس کو پڑھ سکے گا، جو شخص اس کو ملے، وہ اس کی طرف تھوک دے اور سورہ کہف کی ابتدائی آیات پڑھے، وہ ایک آدمی کو پکڑ کر قتل کر دے گا پھر اس کو زندہ کر دے گا، اور وہ اس ایک آدمی کے علاوہ اور کسی پر مسلط نہیں ہو سکے گا اور نہ کسی پر زیادتی کر سکے گا۔ اس کے فتنہ میں سے یہ بھی ہے کہ اس کے ساتھ جنت اور دوزخ ہو گی، ان کی دوزخ حقیقت میں جنت ہو گی اور اس کی جنت اصل میں آگ ہو گی، جو شخص اس کی آگ کی آزمائش کو قبول کر لے گا، اپنی آنکھوں کو بند کر کے اس میں داخل ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے گا تو وہ آگ اس کے لئے سلامتی والی ٹھنڈی ہو جائے گی، جیسا کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام پر آگ ٹھنڈی ہو گئی تھی۔ اس کے فتنے میں سے یہ بھی ہو گا کہ وہ جس قبیلے میں سے گزرے گا وہ اس پر ایمان لے آئیں گے اور اس کی تصدیق کریں گے۔ یہ ان کے لئے دعا کرے گا تو اسی دن آسمان سے ان پر برسات نازل ہو جائے گی، اسی دن پوری زمین سرسبز کر دے گا۔ ایک ہی دن میں ان کے مویشی پہلے سے تندرست اور توانا اور زیادہ دودھ والے ہو جائیں گے، وہ ایک اور قبیلے سے گزرے گا تو وہاں کے باشندے اس کا انکار کریں گے، اس کو جھٹلائیں گے، وہ ان کے لئے بددعا کرے گا تو ان کے لئے کوئی چرواہا نہیں رہے گا جو ان کے مال مویشی چرائے، وہ چالیس دن رہے گا۔ پہلا دن ایک سال کے برابر ہو گا، دوسرا ایک مہینے کے برابر، تیسرا ایک ہفتے کے برابر، اور اس کے بعد کے دن ہمارے عام دنوں کی طرح ہوں گے، اور اس کا آخری دن سراب کی طرح ہو گا، ایک آدمی مدینہ کے دروازے کے پاس صبح کرے گا، وہ دوسرے دروازے تک نہیں پہنچا ہو گا کہ شام ہو جائے گی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ ان چھوٹے چھوٹے دنوں میں ہم نماز کیسے پڑھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جیسے لمبے دنوں میں وقت کا حساب لگا کر نمازیں پڑھی ہوں گی اسی طرح ان مختصر ایام میں نمازیں پڑھنا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8834]