🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

121. إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمْ يَبْعَثْ نَبِيًّا إِلَّا حَذَّرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ
اللہ تعالیٰ نے ایسا کوئی نبی نہیں بھیجا جس نے اپنی امت کو دجال سے نہ ڈرایا ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8833
أخبرنا أبو سهل أحمد بن محمد بن عبد الله بن زياد القطَّان ببغداد، حدثنا أحمد بن عبيد الله النَّرْسي، حدثنا أَزهَر بن سعد، حدثنا عبد الله بن عَوْن، عن عِمران بن مسلم الخيَّاط، عن زيد بن وهب قال: كنا عند حُذَيفة في هذا المسجد فقال: أتَتكم أظلَّتكم تَرمي بالنَّشَف (4) ، ثم التي بعدها تَرمي بالرَّضْف، ثم التي بعدها المُظلِمة، ما فيكم رجل حيٌّ (1) يَرى ما ترون، لم يرَ فتنةَ المسيح فيراها أبدًا، قال: وفينا أعرابيٌّ من ربيعةَ ما فينا حيٌّ غيره، قال سبحانَ الله يا أصحاب محمد! كيف بالمَسيح وقد وُصِفَ لنا عريضَ الكَبْهة، مُشرِفَ الكَتَدِ (2) ، بعيد ما بين المَنكِبَين؟! فأنا رأيت حذيفةَ رُدِعَ منها رَدْعةً (3) ، قال: نَشَدتُك بالله، هل تدري كيف قلت؟ قال: قلتَ: ما فيكم رجل حيٌّ يَرى ما ترون، لم يرَ فتنةً الدجال فيراها أبدًا، قال: فأنا رأيتُ حذيفةَ تَسايَرَ عن (4) وجهه، قال: قلتُ: لأنه حَفِظَ الحديثَ على وجهه؟ قال: نعم. قال: ثم قال كلمةً ضعيفةً: أرأيتم يومَ الدارِ أمس، فإنها كانت فتنةً عامةً عمَّت الناس، قال: وفينا أعرابيٌّ من ربيعةَ ما فينا حيٌّ غيرُه، قال: سبحانَ الله يا أصحابَ محمد! فأين الذين يُبعِّقون لِقاحَنا (5) ، ويَنقُبون بيوتَنا؟! قال: أولئك هم الفاسقون، مرتين، قال: ولقد خرجتُ يومَ الجَرَعَة (1) ولقد علمتُ أنه لم يُهرَقُ فيها مِحجَمةٌ من دم، وما نهيتُ عنها إلَّا ابن الحصرامة، وفينا أعرابي من ربيعةَ ما فينا حيٌّ غيرُه، قال: سبحانَ الله يا أصحابَ محمد، ابن الحصرامةِ دونَ الناس! فقال: إنها إذا أقبلَتْ كانت للقائم والقائل، وإنَّ ابنَ الحصرامةِ رجلٌ قوَّالةٌ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، فقد احتجَّا بعِمران بن مسلم (3) ، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8619 - على شرط البخاري ومسلم
زید بن وہب بیان کرتے ہیں: ہم سیدنا حذیفہ کے ہمراہ اس مسجد میں تھے، انہوں نے فرمایا: تم پر فتنے آئیں گے، جو تمہیں ظلم و ستم میں دھکیل دیں گے پھر اس کے بعد والے فتنے میں تمہارے اندر ٹوٹ پھوٹ ہو گی، پھر اس کے بعد اندھیرا ہی اندھیرا ہو گا، تم میں کوئی بھی ایسا نہیں ہو گا جو وہ کچھ دیکھ سکے جو وہ دیکھتے ہیں، جس نے مسیح کا فتنہ نہیں دیکھا ہو گا، وہ اس کو ہمیشہ دیکھے گا اور فرمایا: ہم میں ربیعہ کا ایک دیہاتی ہے، ہم میں اس کے علاوہ کوئی شخص زندہ نہیں ہے، کہا: سبحان اللہ! اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابیو، مسیح کا معاملہ کیسا ہو گا؟ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نشانیاں ہمیں بتائی ہیں، اس کی پیشانی چوڑی ہو گی، گردن لمی ہو گی، دونوں کندھوں کے درمیان چوڑائی زیادہ ہو گی، میں نے حذیفہ کو دیکھا ہے، اس سے جدا ہوا ہوں، اس نے کہا: میں تجھے اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا تم سمجھ گئے ہو کہ میں نے کیا کہا؟ انہوں نے کہا: تم نے کہا تھا کہ تمہارے اندر ایسا کوئی آدمی ہے ہی نہیں جو وہ دیکھے جو تم دیکھ رہے ہو، جس نے فتنہ دجال نہیں دیکھا، وہ اس کو ہمیشہ دیکھے گا۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا حذیفہ کو دیکھا، وہ ان سے جھگڑ رہے تھے، آپ فرماتے ہیں: میں نے کہا: اس لئے کہ انہوں نے ان کے سامنے حدیث یاد کی تھی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ پھر اس کے بعد ایک ضعیف سا کلمہ بولا۔ وہ یہ تھا کیا تم نے گزشتہ کل دار کے دن دیکھا تھا کہ وہ عام فتنہ تھا اور سب لوگوں تک پہنچ گیا تھا، انہوں نے کہا: اور ہم میں ربیعہ سے تعلق رکھنے والا ایک دیہاتی تھا، آج اس کے علاوہ اس وقت کے لوگوں میں سے اور کوئی شخص زندہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: سبحان اللہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیو! وہ لوگ کہاں ہیں جو ہماری حاملہ عورتوں پر الزام لگاتے تھے اور ہمارے گھروں کو نقب لگاتے تھے۔ وہی لوگ فاسق ہیں، یہ بات دو مرتبہ کہی۔ فرمایا: جرعہ کے دن میں نکلا، میں یہ جان چکا تھا کہ اس میں خون کا ایک قطرہ بھی نہیں بہے گا، اور میں نے اس سے صرف حصرامہ کے بیٹے کو منع کیا تھا۔ اور ہم میں ربیعہ کا ایک دیہاتی شخص موجود ہے، اس کے علاوہ ہم میں کوئی شخص زندہ نہیں ہے۔ فرمایا: سبحان اللہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابیو، حصرامہ کا بیٹا لوگوں سے دور ہے۔ فرمایا: جب وہ آئے گا تو کھڑے ہوئے اور بولنے والے کے لئے ہو گا۔ اور ابن حصرامہ بہت شیریں کلام شخص ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ حالانکہ دونوں بزرگوں نے عمران بن مسلم کی روایات نقل کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8833]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں