المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
5. النَّاسُ يُحْشَرُونَ ثَلَاثَةَ أَفْوَاجٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
قیامت کے دن لوگ تین گروہوں کی شکل میں محشر کی طرف لائے جائیں گے
حدیث نمبر: 8899
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، أخبرنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثني الوليد بن جُمَيع القُرشي، حدثني أبو الطُّفَيل عامر بن واثلةَ، عن حُذيفة بن أَسِيد، عن أبي ذرٍّ قال: حدثني الصادقُ المصدوقُ: ﷺ"أنَّ الناس يُحشرون ثلاثةَ أفواج: فوجًا طَاعِمِينَ كاسِينَ راكبينَ، وفوجًا يَمشُون ويَسعَوْن، وفوجًا تَسحَبُهم الملائكةُ على وجوهِهم إلى النار". فقلنا: با أبا ذر، قد عَرفْنا هؤلاء وهؤلاء، فما بالُ الذين يمشون ويَسعَون؟ قال: يُلقي اللهُ الآفةَ على الظَّهْر فلا ظهرَ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد إلى الوليد بن جميع، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد إلى الوليد بن جميع، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ”صادق و مصدوق“ (سچے اور جس کی سچائی کی تصدیق کی گئی ہو) صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا: ”لوگ تین گروہوں کی صورت میں محشور کیے جائیں گے: ایک گروہ وہ ہوگا جو کھاتے پیتے، لباس پہنے ہوئے اور سوار ہوں گے، دوسرا گروہ وہ ہوگا جو پیدل چل رہے ہوں گے اور دوڑ رہے ہوں گے، اور تیسرا گروہ وہ ہوگا جنہیں فرشتے ان کے چہروں کے بل آگ کی طرف گھسیٹ کر لے جائیں گے۔“ ہم نے عرض کیا: اے ابوذر! ہم نے پہلے اور تیسرے گروہ کو تو پہچان لیا، لیکن ان لوگوں کا کیا معاملہ ہے جو پیدل چلیں گے اور دوڑیں گے؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ سواریوں پر کوئی آفت بھیج دے گا جس کی وجہ سے کوئی سواری باقی نہیں رہے گی۔
یہ حدیث ولید بن جمیع تک صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8899]
یہ حدیث ولید بن جمیع تک صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8899]
تخریج الحدیث: «حديث حسن إن شاء الله، وقد سلف الكلام عليه عند المصنف برقم (3429) حيث رواه هناك من طريق يزيد بن هارون عن الوليد بن جُميع» [ترقيم الرساله 8899] [ترقيم الشركة 8790]
الحكم على الحديث: حديث حسن إن شاء الله
حدیث نمبر: 8900
حدثنا أبو بكر أحمد بن سلمان بن الحسن الفقيه ببغداد، حدثنا أحمد بن سعيد الجمَّال، حدثنا يزيد بن هارون وعلي بن عاصم قالا: حدثنا بَهز بن حكيم بن معاوية. وحدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ - واللفظُ له حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا المعتمِر قال: سمعتُ بهزَ بنَ حَكيم يُحدِّث عن أبيه، عن جدِّه قال: قلت: يا رسول الله، أين تأمرُني؟ خِرْ لي، قال: فنَحَا بيدِه نحوَ الشام، فقال:"إنَّكم محشورون رجالًا ورُكْبانًا وتُجَرُّون على وجوهكم هاهنا"؛ ونَحا بيدِه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه أبو قَزَعة سُوَيدُ بن حُجَير عن حَكيم بن معاوية مثلَ رواية بَهْزٍ، على أنَّ بهزًا أيضًا ثقةً مأمونٌ لا يحتاج في روايته إلى مُتابعٍ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8686 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه أبو قَزَعة سُوَيدُ بن حُجَير عن حَكيم بن معاوية مثلَ رواية بَهْزٍ، على أنَّ بهزًا أيضًا ثقةً مأمونٌ لا يحتاج في روايته إلى مُتابعٍ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8686 - صحيح
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے کہاں (جانے کا) حکم دیتے ہیں؟ میرے لیے (کسی جگہ کا) انتخاب فرمائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے شام کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”تم لوگ پیدل، سوار اور یہاں اپنے چہروں کے بل گھسیٹے جاتے ہوئے محشور کیے جاؤ گے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اسے ابو قزعہ سوید بن حجیر نے بھی حکیم بن معاویہ سے بہز کی روایت کی طرح روایت کیا ہے، اگرچہ بہز بذاتِ خود ثقہ اور مامون ہیں اور ان کی روایت میں کسی متابعت کی ضرورت نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8900]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اسے ابو قزعہ سوید بن حجیر نے بھی حکیم بن معاویہ سے بہز کی روایت کی طرح روایت کیا ہے، اگرچہ بہز بذاتِ خود ثقہ اور مامون ہیں اور ان کی روایت میں کسی متابعت کی ضرورت نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8900]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل بهز بن حَكيم وأبيه حكيم» [ترقيم الرساله 8900] [ترقيم الشركة 8791] [ترقيم العلميه 8686]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8901
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا أَسَد ابن موسى، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن أبي قَزَعة، عن حَكيم بن معاوية، عن أبيه (2) قال: سمعت رسول الله ﷺ: يقول:"يُحشَرون هاهنا حُفاةً مُشاةً ورُكْبانًا وعلى وجوههم، تُعرَضون على الله على أَفواهِكم الفِدَامُ، وإنَّ أوّل ما يُعرِبُ عن أحدِكم فَخِذُه (3) .
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”لوگ یہاں ننگے پاؤں، پیدل، سوار اور اپنے چہروں کے بل (گھسیٹتے ہوئے) اکٹھے کیے جائیں گے، تم اللہ کے حضور اس حال میں پیش کیے جاؤ گے کہ تمہارے مونہوں پر «الفِدَامُ» (کپڑے کے ٹکرے یا مہریں جو بولنے سے روک دیں) ہوں گی، اور تم میں سے سب سے پہلے جو عضو تمہاری طرف سے کلام کرے گا وہ ران ہوگی۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8901]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل حكيم بن معاوية» [ترقيم الرساله 8901] [ترقيم الشركة 8792]
الحكم على الحديث: إسناده حسن