🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. النَّاسُ يُحْشَرُونَ ثَلَاثَةَ أَفْوَاجٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
قیامت کے دن لوگ تین گروہوں کی شکل میں محشر کی طرف لائے جائیں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8898
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو عُتْبة، حدثنا بَقيَّة، حدثنا محمد بن الوليد الزُّبيدي، عن الزُّهْري، عن عُرْوة بن الزبير، عن عائشة، أنَّ النبي ﷺ قال:"يُبعَثُ الناسُ يومَ القيامة حُفاةً عُراةً غُرْلًا" فقالت عائشة: يا رسول الله، فكيفَ بالعَوْرات؟ فقال:"لكلِّ امرئٍ منهم يومئذٍ شأنٌ يُغنيهِ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه بهذه الزيادة (1) ، إنما اتَّفق الشيخان ﵄ على حديثَي عَمْرو بن دينار والمُغيرة بن النُّعمان عن سعيد بن جُبَير عن ابن عباس بطوله دون ذِكْر العَوْراتِ فيه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8684 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگ قیامت کے دن ننگے بدن، ننگے پاؤں اور غیر مختون اٹھائے جائیں گے، ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی شرمگاہوں کا کیا بنے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس دن ہر شخص ایسی مصیبت میں گرفتار ہو گا جو اس کو ایسی تمام چیزوں سے بے نیاز کر دے گی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس اضافے کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے عمرو بن دینار اور مغیرہ بن نعمان کی دو طویل روایات نقل کی ہیں جو انہوں نے سعید بن جبیر کے واسطے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے، لیکن ان میں عورات کا ذکر نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8898]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8899
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، أخبرنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثني الوليد بن جُمَيع القُرشي، حدثني أبو الطُّفَيل عامر بن واثلةَ، عن حُذيفة بن أَسِيد، عن أبي ذرٍّ قال: حدثني الصادقُ المصدوقُ: ﷺ"أنَّ الناس يُحشرون ثلاثةَ أفواج: فوجًا طَاعِمِينَ كاسِينَ راكبينَ، وفوجًا يَمشُون ويَسعَوْن، وفوجًا تَسحَبُهم الملائكةُ على وجوهِهم إلى النار". فقلنا: با أبا ذر، قد عَرفْنا هؤلاء وهؤلاء، فما بالُ الذين يمشون ويَسعَون؟ قال: يُلقي اللهُ الآفةَ على الظَّهْر فلا ظهرَ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد إلى الوليد بن جميع، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے صادق و مصدوق علیہ السلام نے بتایا ہے کہ قیامت کے دن لوگ تین گروہوں میں اٹھائے جائیں گے، ایک جماعت سیر شدہ، لباس پہنے ہوئے اور سواریوں پر سوار ہو گی، ایک جماعت پیدل چلتے اور دوڑتے ہو گی اور ایک جماعت کے لوگوں کو فرشتے منہ کے بل گھسیٹ کر دوزخ میں پھینکیں گے۔ ہم نے کہا: اے ابوذر! ہم ان سب کو پہچانتے ہیں، ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جو پیدل چل رہے ہوں گے اور دوڑ رہے ہوں گے؟ انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ان کی پشت پر مصیبت نازل فرمائے گا جس کی وجہ سے ان کی پشت ہی نہیں رہے گی۔ ٭٭ یہ حدیث ولید بن جمیع تک صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8899]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8900
حدثنا أبو بكر أحمد بن سلمان بن الحسن الفقيه ببغداد، حدثنا أحمد بن سعيد الجمَّال، حدثنا يزيد بن هارون وعلي بن عاصم قالا: حدثنا بَهز بن حكيم بن معاوية. وحدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ - واللفظُ له حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا المعتمِر قال: سمعتُ بهزَ بنَ حَكيم يُحدِّث عن أبيه، عن جدِّه قال: قلت: يا رسول الله، أين تأمرُني؟ خِرْ لي، قال: فنَحَا بيدِه نحوَ الشام، فقال:"إنَّكم محشورون رجالًا ورُكْبانًا وتُجَرُّون على وجوهكم هاهنا"؛ ونَحا بيدِه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه أبو قَزَعة سُوَيدُ بن حُجَير عن حَكيم بن معاوية مثلَ رواية بَهْزٍ، على أنَّ بهزًا أيضًا ثقةً مأمونٌ لا يحتاج في روايته إلى مُتابعٍ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8686 - صحيح
بہز بن حکیم بن معاویہ اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں کہ) میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے کہاں کا حکم دیتے ہیں؟ آپ میرے لئے کوئی خطہ پسند فرمایئے، راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے ملک شام کی جانب اشارہ کر کے فرمایا: تم سوار اور پیدل اور کچھ اپنے چہروں کے بل گھسیٹتے ہوئے یہاں پر جمع کئے جاؤ گے۔ یہ کہتے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اشارہ فرمایا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اسی حدیث کو ابوقزعہ سوید بن حجیر نے حکیم بن معاویہ سے بہر کی روایت کی طرح نقل کیا ہے، لیکن بہز بھی مامون ہیں ان کی روایت کے لئے کسی متابع کی حاجت نہیں ہوتی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8900]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں