🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. رِحَالُ الْمُتَّقِينَ الذَّهَبُ وَأَزِمَّتُهَا الزَّبَرْجَدُ
متقیوں کی سواریاں سونے کی ہوں گی جن کی لگامیں زبرجد کی ہوں گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8901
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا أَسَد ابن موسى، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن أبي قَزَعة، عن حَكيم بن معاوية، عن أبيه (2) قال: سمعت رسول الله ﷺ: يقول:"يُحشَرون هاهنا حُفاةً مُشاةً ورُكْبانًا وعلى وجوههم، تُعرَضون على الله على أَفواهِكم الفِدَامُ، وإنَّ أوّل ما يُعرِبُ عن أحدِكم فَخِذُه (3) .
ابوقزعہ حکیم بن معاویہ سے، وہ اپنے والد سے، اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم یہاں پر ننگے بدن، ننگے پاؤں، پیدل اور سوار جمع کئے جاؤ گے اور کچھ لوگوں کو ان کے چہرے کے بل گھسیٹ کر لایا جائے گا، تم سب کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیا جائے گا، تمہارے منہ پر پٹی باندھ دی جائے گی اور تمہارے اعضاء میں سب سے پہلے ران ظاہر ہوں گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8901]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8902
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا موسى بن إسحاق القاضي، حدثنا مِنجابُ بن الحارث، حدثنا علي بن مُسهِر، عن عبد الرحمن بن إسحاق، عن النُّعمان بن سعد قال: كنا جلوسًا عند علي بن أبي طالب فقرأ: ﴿يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا﴾ [مريم: 85] قال: لا والله ما على أرجلهم يُحشَرون، ولا يُساقُون سَوْقًا، ولكنهم يُؤتون بنُوقٍ من نُوق الجنَّة لم (1) تَنظُرِ الخلائق إلى مثلِها (2) ، رِحالُهم الذهبُ وأزِمَّتُها الزَّبَرجَد، فيَقعُدون عليها حتى يَقرَعوا بابَ الجنة (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8688 - ليس بصحيح
سیدنا نعمان بن سعد بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا [مريم: 85] پڑھی اور فرمایا: اللہ کی قسم! وہ اپنے قدموں پر چل کر میدان محشر میں نہیں آئیں گے اور نہ ان کو چلایا جائے گا، بلکہ ان کو جنتی سواریوں پر سوار کر کے لایا جائے گا، اس جیسی سواری مخلوق نے کبھی دیکھی ہی نہیں ہو گی، ان کے کجاوے سونے کے ہوں گے، ان کی لگامیں زبرجد کی ہوں گی، وہ ان کجاوں پر جلوہ گر ہوں گے حتی کہ جنت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8902]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں