المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
13. تَدْنُو الشَّمْسُ مِنَ الْأَرْضِ فَيَعْرَقُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
قیامت کے دن سورج زمین کے قریب ہو جائے گا اور لوگ پسینے میں ڈوب جائیں گے
حدیث نمبر: 8918
فأخبرَناه محمدُ بن علي الصَّنعاني، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن الزُّهْري، عن علي بن الحسين قال: قال رسول الله ﷺ:"تُمَدُّ الأرضُ يومَ القيامة" ثم ذكر مثلَه سواء (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8701 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8701 - على شرط البخاري ومسلم
معمر نے زہری سے روایت کیا ہے کہ سیدنا علی بن حسین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن زمین سمیٹ دی جائے گی۔ اس کے بعد سابقہ حدیث کی مثل پوری حدیث بیان کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8918]
حدیث نمبر: 8919
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ أبا عُشَّانةَ المَعافِري حدَّثه، أنه سمع عُقْبةَ بن عامر الجُهَني يقول: رأيتُ رسول الله ﷺ يقول:"تَدْنو الشمسُ من الأرض فيَعرَقُ الناسُ، فمِن الناسِ من يَبْلُغُ عَرَقُه إلى كَعَبَيهِ، ومنهم من يَبلُغ إلى نصفِ الساق، ومنهم من يَبلُغ إلى رُكبَتيهِ، ومنهم من يَبلُغ العَجُزَ، ومنهم من يَبلُغ الخاصرةَ، ومنهم من يَبلُغ مَنكِبيَه، ومنهم من يَبلُغ عُنقَه، ومنهم من يَبلُغ وَسَطَ فيه - وأشار بيده فألجَمَها فاه؛ رأيت رسول الله ﷺ هكذا. ومنهم من يُغطِّيه عَرَقُه" وضَرَبَ بيده إشارةً، فَأَمَرَ يدَه فوق رأسه من غير أن يصيبَ الرأسَ دَوْرُ راحتِه (1) ، يمينًا وشمالًا (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8704 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8704 - صحيح
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سورج زمین کے بالکل قریب آ جائے گا، لوگ پسینے میں شرابور ہوں گے، کسی کا پسینہ اس کے ٹخنوں تک ہو گا، کوئی آدھی پنڈلی تک پسینے میں ڈوبا ہو گا، بعض گھٹنوں تک اور بعض کمر تک پسینے میں ڈوبے ہوں گے، کچھ لوگوں کا پسینہ سینے تک اور کچھ کا کندھوں تک ہو گا، بعض کا پسینہ گردن تک ہو گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: کچھ لوگوں کو یہاں تک پسینہ آ رہا ہو گا، اور اس کا پسینہ اس کے منہ میں پڑ رہا ہو گا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں دیکھا، کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو اپنے پسینے میں ڈوب چکے ہوں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اپنے سر کے اردگرد گھماتے ہوئے اپنی ہتھیلی کو دائیں اور بائیں گھمایا اور ہاتھ سر کو نہ لگنے دیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8919]