المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
12. ذِكْرُ الْمَقَامِ الْمَحْمُودِ
مقامِ محمود کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8916
أخبرنا إسماعيل بن محمد بن الفَضْل الشَّعراني، حدثنا جدِّي، حدثنا إبراهيم بن حمزة الزُّبيري، حدثنا إبراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، عن علي بن حسين، عن جابر، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"تُمَدُّ الأرضُ يوم القيامة مدًّا لعَظَمِة الرحمن، ثم لا يكونُ لبشرٍ من بني آدم إلَّا مواضعَ قدميهِ، ثم أُدعَى أولَ الناس، فأَخِرُّ ساجدًا، ثم يُؤذَنُ لي فأَقومُ فأقول: يا ربِّ، أخبَرني هذا - لجبريلَ، وهو عن يمين الرحمن، واللهِ ما رآه جبريلُ قبلَها قطُّ أنك أَرسلْتَه إليَّ، قال: وجبريلُ ساكتٌ لا يتكلَّمُ، حتى يقول الله: صَدَقَ، ثم يُؤذَنُ لي في الشَّفاعة، فأقول: يا ربِّ، عبادك عَبَدُوك (1) في أطرافِ الأرض؛ فذلك المَقامُ المحمودُ" (2) . هذا إسنادٌ صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد أرسَلَه يونس بن يزيد ومعمرُ بن راشد عن الزُّهري. أما حديثُ يونسَ:
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن زمین کو رحمان کی عظمت کے لیے پھیلا دیا جائے گا، پھر کسی انسان کے لیے سوائے اس کے قدموں کی جگہ کے اور کوئی جگہ نہ ہوگی، پھر سب سے پہلے مجھے بلایا جائے گا تو میں سجدے میں گر جاؤں گا، پھر مجھے اجازت ملے گی تو میں کھڑا ہوں گا اور کہوں گا: اے میرے رب! اس نے - یعنی جبرائیل (علیہ السلام) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جو رحمان کے دائیں جانب ہوں گے، اور اللہ کی قسم جبرائیل نے اس سے پہلے اللہ کو کبھی نہیں دیکھا ہوگا - مجھے خبر دی تھی کہ تو نے انہیں میری طرف (رسول بنا کر) بھیجا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور جبرائیل خاموش ہوں گے، کچھ نہیں بولیں گے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اس نے سچ کہا، پھر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے گی تو میں عرض کروں گا: اے میرے رب! تیرے ان بندوں نے زمین کے گوشوں میں تیری عبادت کی تھی؛ پس یہی وہ ”مقام محمود“ ہے۔“
یہ سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ یونس بن یزید اور معمر بن راشد نے اسے زہری سے مرسل روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8916]
یہ سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ یونس بن یزید اور معمر بن راشد نے اسے زہری سے مرسل روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8916]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لاضطرابه، فقد اختلف فيه على ابن شهاب الزهري في وصله وإرساله وفي رفعه ووقفه، ولم نقف عليه مسندًا من حديث جابر عند غير المصنف، وقد انفرد إبراهيم بن حمزة الزبيري بذكر جابر فيه، وإبراهيم هذا صدوق ليس به بأس إلَّا أنه لم تكن له تلك المعرفة بالحديث كما ...» [ترقيم الرساله 8916] [ترقيم الشركة 8807]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لاضطرابه
حدیث نمبر: 8917
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وَهْب، أخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن علي بن الحسين، عن رجلٍ من أهل العِلْم - ولم يُسمَّه -: أنَّ الأرض تُمَدُّ يومَ القيامة؛ ثم ذكر الحديثَ بنحوه (1) . أما حديثُ مَعمَر:
علی بن حسین (امام زین العابدین) ایک صاحبِ علم (جن کا نام ذکر نہیں کیا) سے روایت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن زمین پھیلا دی جائے گی؛ پھر انہوں نے اسی کے مثل حدیث ذکر کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8917]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، وهو موقوف» [ترقيم الرساله 8917] [ترقيم الشركة 8808]
الحكم على الحديث: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 8918
فأخبرَناه محمدُ بن علي الصَّنعاني، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن الزُّهْري، عن علي بن الحسين قال: قال رسول الله ﷺ:"تُمَدُّ الأرضُ يومَ القيامة" ثم ذكر مثلَه سواء (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8701 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8701 - على شرط البخاري ومسلم
علی بن حسین (امام زین العابدین) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن زمین پھیلا دی جائے گی“ پھر انہوں نے اسی کے مانند روایت ذکر کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8918]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لاضطرابه كما تقدَّم إسحاق بن إبراهيم: هو ابن عبّاد الدَّبَري» [ترقيم الرساله 8918] [ترقيم الشركة 8809] [ترقيم العلميه 8701]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف