المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
12. ذِكْرُ الْمَقَامِ الْمَحْمُودِ
مقامِ محمود کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8915
أخبرَناه أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق قال: سمعت عمرَو بنَ ميمون يُحدِّث عن عبد الله، في قوله ﷿: ﴿يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ﴾، قال: أرضٌ بيضاء نقيَّةٌ لم يُسفَكْ فيها دمٌ، ولم يُعمَلْ فيها بخطيئةٍ، يُسمِعُهم الداعي ويُنفِذُهم البصرُ، حفاةً عُراةً كما خُلِقوا، حتى يُلجِمَهم العرقُ (1) .
هذا حديث صحيح الإسنادَينِ جميعًا على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8700 - صحيح على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح الإسنادَينِ جميعًا على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8700 - صحيح على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ} [إبراهيم: 48] ”جس دن بدل دی جائے گی زمین، اس زمین کے سوا “ پھر فرمایا: زمین ایک صاف ستھرے سفید انڈے کی مانند ہو گی، اس میں خون کا ایک قطرہ تک نہیں بہایا گیا، اور نہ ہی اس میں کوئی گناہ کیا گیا تھا، پکارنے والا ان سب کو اپنی آواز سنا دے گا اور اس کی نظر سب پر برابر پہنچے گی، سب لوگ ننگے پاؤں اور ننگے بدن کھڑے ہوں گے، سب لوگ اپنے پسینے میں ڈوب رہے ہوں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8915]
حدیث نمبر: 8916
أخبرنا إسماعيل بن محمد بن الفَضْل الشَّعراني، حدثنا جدِّي، حدثنا إبراهيم بن حمزة الزُّبيري، حدثنا إبراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، عن علي بن حسين، عن جابر، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"تُمَدُّ الأرضُ يوم القيامة مدًّا لعَظَمِة الرحمن، ثم لا يكونُ لبشرٍ من بني آدم إلَّا مواضعَ قدميهِ، ثم أُدعَى أولَ الناس، فأَخِرُّ ساجدًا، ثم يُؤذَنُ لي فأَقومُ فأقول: يا ربِّ، أخبَرني هذا - لجبريلَ، وهو عن يمين الرحمن، واللهِ ما رآه جبريلُ قبلَها قطُّ أنك أَرسلْتَه إليَّ، قال: وجبريلُ ساكتٌ لا يتكلَّمُ، حتى يقول الله: صَدَقَ، ثم يُؤذَنُ لي في الشَّفاعة، فأقول: يا ربِّ، عبادك عَبَدُوك (1) في أطرافِ الأرض؛ فذلك المَقامُ المحمودُ" (2) . هذا إسنادٌ صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد أرسَلَه يونس بن يزيد ومعمرُ بن راشد عن الزُّهري. أما حديثُ يونسَ:
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی عظمت کی بناء پر زمین سمیٹ دی جائے گی، اور یہ صرف اتنی رہ جائے گی جتنی ایک انسان کے قدم رکھنے کی جگہ ہوتی ہے پھر مجھے بلایا جائے گا، میں سجدہ ریز ہو جاؤں گا، پھر مجھے اجازت ملے گی، میں سجدے سے اٹھ جاؤں گا اور عرض کروں گا: اے میرے رب مجھے اس شخص نے بتایا تھا، (سیدنا جبریل امین علیہ السلام اس وقت اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب کھڑے ہوں گے، اور اللہ کی قسم میں نے اس سے پہلے ان کو کبھی نہیں دیکھا تھا) کہ تو نے اس کو میری جانب بھیجا ہے، سیدنا جبریل امین علیہ السلام بالکل خاموش کھڑے ہوں گے، اور کوئی جواب نہیں دیں گے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ اس نے آپ سے سچ کہا تھا، پھر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے گی، میں کہوں گا: اے میرے رب، تیرے بندے زمین کے اطراف میں تیری عبادت کرتے رہے، یہ مقام محمود ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور اس حدیث کو زہری سے روایت کرنے میں یونس بن یزید اور عمر بن راشد نے ارسال کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8916]
حدیث نمبر: 8917
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وَهْب، أخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن علي بن الحسين، عن رجلٍ من أهل العِلْم - ولم يُسمَّه -: أنَّ الأرض تُمَدُّ يومَ القيامة؛ ثم ذكر الحديثَ بنحوه (1) . أما حديثُ مَعمَر:
سیدنا علی بن حسین ایک اہل علم کے حوالے سے بیان کرتے ہیں (آپ نے اس اہل علم کا نام ذکر نہیں کیا) کہ قیامت کے دن زمین سمیٹ دی جائے گی، اس کے بعد سابقہ حدیث کی مثل حدیث بیان کی۔ سیدنا معمر سے روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8917]