المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
15. مَوْتُ ابْنِ وَهْبٍ بِسَمْعِ كِتَابِ الْأَهْوَالِ
کتابِ اہوال (قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر) سن کر ابن وہب کی وفات کا قصہ
حدیث نمبر: 8926
أخبرني أبو محمد عبد الله بن محمد بن زياد العَدْل قال: سمعتُ الإمامَ أبا بكر محمدَ بن إسحاق بن خُزَيمة يقول: سألتُ يونسَ بنَ عبد الأعلى الصَّدَفيَّ عن سبب موت عبد الله بن وَهْب، فقال: كان يُقرأُ عليه كتابُ الأهوال، فقُرئَ عليه خبرٌ فخَرَّ مَغشيًّا عليه، فحَمَلْناه وأدخَلْناه الدارَ، فلم يَزَلْ مريضًا حتى تُوفِّيَ.
امام ابو بکر محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے یونس بن عبد الاعلی صدفی سے عبداللہ بن وہب کی وفات کا سبب پوچھا تو انہوں نے بتایا: ان کے سامنے ”کتاب الاہوال“ (قیامت کی ہولناکیوں کا بیان) پڑھی جا رہی تھی، جب ایک خبر پڑھی گئی تو وہ (خوفِ خدا سے) غش کھا کر گر پڑے، ہم انہیں اٹھا کر ان کے گھر لے گئے، وہ مسلسل بیمار رہے یہاں تک کہ ان کی وفات ہو گئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8926]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 8926] [ترقيم الشركة 8817]
حدیث نمبر: 8927
أخبرني أبو بكر محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا النُّفَيلي، حدثنا موسى بن أَعيَن عن ليث عن (3) أبي إسحاق، عن صِلَة بن زُفَر، عن حُذَيفة، عن النبي ﷺ قال:"أنا سيِّدُ الناس يومَ القيامة، يَدعُوني ربي فأقول: لبَّيك وسَعدَيك، تباركتَ لبَّيْكَ وحَنَانيكَ، والمَهديُّ من هَدَيتَ، وعَبدُك بين يديك، لا مَلجأَ ولا مَنجَى منك إلَّا إليك، تباركتَ ربَّ البيت". قال:"وإِنَّ قَذَفَ المُحصنة لَيهدِمُ عملَ مئة سنة" (1) . رواةُ هذا الحديث عن آخرهم محتجٌّ بهم غيرَ ليث بن أبي سُليم، وقد أخرجه مسلمٌ شاهدًا (2) .
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں قیامت کے دن تمام لوگوں کا سردار ہوں گا، میرا رب مجھے پکارے گا تو میں عرض کروں گا: «لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، تَبَارَكْتَ لَبَّيْكَ وَحَنَانَيْكَ، وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ، وَعَبْدُكَ بَيْنَ يَدَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ رَبَّ الْبَيْتِ» ”میں حاضر ہوں اور تیری اطاعت کے لیے ہمہ وقت تیار ہوں، تو بابرکت ہے، میں حاضر ہوں اور تیری رحمت کا طلب گار ہوں، ہدایت یافتہ وہی ہے جسے تو ہدایت دے، تیرا بندہ تیرے سامنے حاضر ہے، تیرے سوا نہ کوئی جائے پناہ ہے اور نہ نجات کا راستہ مگر تیری ہی طرف، اے بیت اللہ کے رب! تو نہایت بابرکت ہے۔““ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: ”بے شک پاکدامن عورت پر تہمت لگانا سو سال کے (نیک) اعمال کو برباد کر دیتا ہے۔“
اس حدیث کے تمام راوی سوائے لیث بن ابی سلیم کے قابلِ حجت ہیں، اور امام مسلم نے اسے بطورِ شاہد روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8927]
اس حدیث کے تمام راوی سوائے لیث بن ابی سلیم کے قابلِ حجت ہیں، اور امام مسلم نے اسے بطورِ شاہد روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8927]
تخریج الحدیث: «الشطر الأول منه صحيح، قد روي من غير وجه عن أبي إسحاق لكن موقوفًا كما سلف بيانه عند المصنف برقم (3424)» [ترقيم الرساله 8927] [ترقيم الشركة 8818]
الحكم على الحديث: الشطر الأول منه صحيح
حدیث نمبر: 8928
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا أَسَد بن موسى، حدثنا أبو معاوية محمد بن خازِم، عن موسى بن مُسِلم - وهو الصَّغير - عن هلال بن يِسَاف عن أم الدرداء قالت: قلت لأبي الدرداء: ألا تبتغي لأضيافِك ما يبتغي الرجالُ لأضيافهم؟ فقال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"إِنَّ أمَامَكُم عَقَبَةٌ كَؤُودٌ، لا يَجُوزها المُثقِلون"، فأُحِبُّ أن أتخفَّفَ لتلك العَقَبة (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8713 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8713 - صحيح
سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ اپنے مہمانوں کے لیے وہ آسائشیں تلاش نہیں کرتے جو دیگر لوگ اپنے مہمانوں کے لیے کرتے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تمہارے سامنے ایک نہایت کٹھن اور دشوار گزار گھاٹی ہے، جس سے بوجھ تلے دبے ہوئے لوگ نہیں گزر سکیں گے“، لہٰذا میں پسند کرتا ہوں کہ اس گھاٹی کو پار کرنے کے لیے اپنا بوجھ ہلکا رکھوں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8928]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8928]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8928] [ترقيم الشركة 8819] [ترقيم العلميه 8713]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8929
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيَه وأبو بكر أحمد بن جعفر ببغداد قالا: حدثنا عبد الله بن أحمد بن حَنبَل [حدثنا أَبي] (1) حدثنا أبو داود، حدثنا شُعْبة، عن خالدٍ الحذَاء قال: سمعت أبا عثمان النَّهْديَّ يُحدِّث، أنَّ النبي ﷺ قال:"يُرفع للرجل (2) الصحيفةُ يومَ القيامة حتى يُرَى أنه [ناجٍ] (3) فما تزالُ مظالمُ بني آدم تَتْبعُه حتى ما تبقى حسنةٌ، ويُزادُ عليه من سيِّئاتِهم". قال: فقلت له - أو قال: فقال له عاصم -: عمَّن يا أبا عثمان؟ فقال: عن سلمان وسعدٍ وابن مسعود، حتى عدَّ ستةً أو سبعةً من أصحاب رسول الله ﷺ. قال شعبةُ: فسألتُ عاصمًا عن هذا الحديث، فحدَّثَنيه عن أبي عثمان عن سلمان. وأخبرني عثمان بن غياث: أنه سمع أبا عثمانَ يُحدِّث بهذا عن سلمانَ وأصحابِ رسول الله ﷺ (4)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8714 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8714 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا سلمان فارسی، سیدنا سعد اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہم سمیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چھ یا سات صحابہ کرام سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن کسی شخص کا نامہ اعمال پیش کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ سمجھے گا کہ وہ نجات پا گیا ہے، مگر پھر لوگوں کے حقوق اور ان پر کیے گئے مظالم اس کا تعاقب کریں گے یہاں تک کہ اس کی کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی اور ان کے گناہ اس کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8929]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8929]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8929] [ترقيم الشركة 8820] [ترقيم العلميه 8714]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8930
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا محمد بن مَسلَمة (1) الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون حدثنا همَّام بن يحيى، حدثنا القاسم بن عبد الواحد، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن جابر بن عبد الله قال: بَلَغَني عن رجل من أصحاب رسول الله ﷺ حديثٌ (2) سمعه من رسول الله ﷺ في القِصَاص لم أسمَعْه منه، فابتعَتُ بعيرًا فَشَدَدتُ رَحْلي، ثم سِرتُ إليه شهرًا حتى قدمتُ مصرَ - أو قال: الشام - فأتيت عبدَ الله بنَ أُنيس، فقلت: حديثٌ بَلَغَني عنك تحدِّثُ به، سمعتَه من رسول الله ﷺ ولم أسمعه في القصاص، خَشِيتُ أن أموتَ قبل أن أسمعَه، فقال عبد الله: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"يوم يُحشَرُ العبادُ - أو قال: الناس - عُراةً غُرْلًا بُهْمًا ليس معهم شيءٌ، ثم يناديهم بصوتٍ يَسمعُه من بَعُدَ كما يسمعُه من قَرُبَ: أنا المَلِكُ، أنا الدَّيَّانُ، لا ينبغي لأحدٍ من أهل الجنة أن يدخلَ الجنة ولأحدٍ من أهل النار عليه مَظلِمةٌ حتى أُقِصَّه منه، ولا ينبغي لأحدٍ من أهل النار أن يدخلَ النارَ ولأحدٍ من أهل الجنة [عنده] مَظلِمةٌ حتى أُقِصَّه منه، حتى اللَّطْمةُ"، قال: قلنا: كيف وإنَّا إِنَّما نأتي الله ﷿ عُراةً حُفاةً غُرْلًا بُهْمًا؟ قال: الحَسَناتُ والسَّيِّئَاتُ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8715 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8715 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے قصاص کے متعلق ایک حدیث معلوم ہوئی جو انہوں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنی تھی، چنانچہ انہوں نے ایک اونٹ خریدا، اس پر کجاوہ کسا اور ایک ماہ کی مسافت طے کر کے مصر (یا شام) پہنچے اور سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے ملے اور کہا: مجھے آپ سے ایک حدیث کے متعلق معلوم ہوا ہے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے لیکن میں نے قصاص کے بارے میں اسے نہیں سنا، مجھے اندیشہ ہوا کہ اسے سنے بغیر کہیں میری موت نہ آ جائے، تو سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس دن بندوں کو - یا فرمایا: لوگوں کو - اس حال میں محشور کیا جائے گا کہ وہ ننگے بدن، غیر مختون اور «بُهْمًا» (خالی ہاتھ) ہوں گے، ان کے پاس کچھ بھی نہ ہوگا، پھر اللہ تعالیٰ انہیں ایسی آواز میں پکارے گا جسے دور والا بھی ویسے ہی سنے گا جیسے قریب والا سنتا ہے: میں بادشاہ ہوں، میں جزا و سزا دینے والا ہوں، کسی جنتی کے لیے یہ لائق نہیں کہ وہ جنت میں داخل ہو جائے جبکہ کسی دوزخی کا اس پر کوئی حق (مظلمہ) باقی ہو یہاں تک کہ میں اسے اس کا قصاص دلا دوں، اور کسی دوزخی کے لیے یہ لائق نہیں کہ وہ دوزخ میں داخل ہو جائے جبکہ کسی جنتی کا اس پر کوئی حق باقی ہو یہاں تک کہ میں اسے اس کا قصاص دلا دوں، یہاں تک کہ ایک تھپڑ کا بھی (بدلہ لیا جائے گا)“، ہم نے عرض کیا: یہ کیسے ممکن ہے جبکہ ہم اللہ کے حضور ننگے بدن اور خالی ہاتھ حاضر ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(یہ بدلہ) نیکیوں اور برائیوں کے ذریعے ہوگا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8930]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8930]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن في المتابعات والشواهد من أجل القاسم بن عبد الواحد وابن عقيل. ومحمد بن مسلمة» [ترقيم الرساله 8930] [ترقيم الشركة 8821] [ترقيم العلميه 8715]
الحكم على الحديث: إسناده حسن