🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

15. مَوْتُ ابْنِ وَهْبٍ بِسَمْعِ كِتَابِ الْأَهْوَالِ
کتابِ اہوال (قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر) سن کر ابن وہب کی وفات کا قصہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8925
حدثني علي بن عيسى بن إبراهيم الحِيرِي، حدثنا الحسين بن محمد ابن زياد القَبّاني (1) ، حدثني محمد بن يحيى القُطَعي، حدثنا يحيى بن راشد المازِني، حدثنا داود بن أبي هند، عن عِكْرمة عن ابن عبَّاس قال: سأله نافعُ بن الأزرق عن قوله ﷿: ﴿هَذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُونَ﴾ [المرسلات: 35] و ﴿فَلَا تَسْمَعُ إِلَّا هَمْسًا﴾ [طه:108] ﴿وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ﴾ [الصافات: 27] و ﴿هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ﴾ [الحاقة: 19] ، فما هذا؟ قال: وَيحَكَ، هل سألتَ عن هذا أحدًا قبلي؟ قال: لا، قال: أَمَا إِنَّكَ لو كنت سألتَ هَلَكتَ، أليس قال الله ﵎: ﴿وَإِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ﴾ [الحج:47] ؟ قال: بلى، وإنَّ لكلِّ مقدارِ يومٍ من هذه الأيام لونًا من هذه الألوان (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8710 - يحيى ضعفه النسائي
داؤد بن ابی ہند بیان کرتے ہیں کہ نافع بن ازرق نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ان آیات کے بارے میں پوچھا هَذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُونَ} [المرسلات: 35] یہ دن ہے کہ وہ نہ بول سکیں گے وَ {لَا تَسْمَعُ إِلَّا هَمْسًا} تو نہ سنے گا مگر بہت آہستہ آواز {وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ} [الصافات: 27] اور ان میں ایک نے دوسرے کی طرف منہ کیا، آپس میں پوچھتے ہوئے بولے {هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ} کہے گا لو میرے نامہ اعمال پڑھو ان کا کیا مطلب ہے؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تیرے لئے ہلاکت ہو، کیا تو نے مجھ سے پہلے ان آیات کے بارے میں کسی سے پوچھا؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: اچھا کیا۔ اگر تو کسی سے پوچھ لیتا تو مارا جاتا، کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: {وَإِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ} [الحج: 47] اور بے شک تمہارے رب کے یہاں ایک دن ایسا ہے جیسے تم لوگوں کی گنتی میں ہزار برس اس نے کہا: جی ہاں۔ ان ایام میں سے ہر دن کی ایک مقدار ہے اور رنگوں میں سے ایک رنگ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8925]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8926
أخبرني أبو محمد عبد الله بن محمد بن زياد العَدْل قال: سمعتُ الإمامَ أبا بكر محمدَ بن إسحاق بن خُزَيمة يقول: سألتُ يونسَ بنَ عبد الأعلى الصَّدَفيَّ عن سبب موت عبد الله بن وَهْب، فقال: كان يُقرأُ عليه كتابُ الأهوال، فقُرئَ عليه خبرٌ فخَرَّ مَغشيًّا عليه، فحَمَلْناه وأدخَلْناه الدارَ، فلم يَزَلْ مريضًا حتى تُوفِّيَ.
امام ابوبکر محمد بن اسحاق بن خزیمہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے یونس بن عبدالاعلی صدفی سے سیدنا عبداللہ بن وہب کی وفات کا سبب پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ان کے سامنے کتاب الاہوال اکثر پڑھی جاتی تھی، ایک دفعہ آخرت کا کوئی قصہ پڑھا گیا، وہ سنتے ہی ان پر بیہوشی طاری ہو گئی، ہم نے ان کو اٹھا کر گھر پہنچایا، اس دن سے وہ بیمار ہوئے اور اس بیماری سے جانبر نہ ہو سکے اور وفات پا گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8926]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8927
أخبرني أبو بكر محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا النُّفَيلي، حدثنا موسى بن أَعيَن عن ليث عن (3) أبي إسحاق، عن صِلَة بن زُفَر، عن حُذَيفة، عن النبي ﷺ قال:"أنا سيِّدُ الناس يومَ القيامة، يَدعُوني ربي فأقول: لبَّيك وسَعدَيك، تباركتَ لبَّيْكَ وحَنَانيكَ، والمَهديُّ من هَدَيتَ، وعَبدُك بين يديك، لا مَلجأَ ولا مَنجَى منك إلَّا إليك، تباركتَ ربَّ البيت". قال:"وإِنَّ قَذَفَ المُحصنة لَيهدِمُ عملَ مئة سنة" (1) . رواةُ هذا الحديث عن آخرهم محتجٌّ بهم غيرَ ليث بن أبي سُليم، وقد أخرجه مسلمٌ شاهدًا (2) .
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن میں تمام لوگوں کا سردار ہوں گا، میرا رب مجھے بلائے گا، میں جواباً کہوں گا: میں حاضر ہوں، اور نیک بختی تیرے ہاتھ میں ہے، تو ہی برکت والا ہے، میں حاضر ہوں، اور ہدایت یافتہ وہی ہے جس کو تو ہدایت دے اور تیرا بندہ تیرے سامنے حاضر ہے، کوئی نجات کی جگہ اور کوئی پناہ گاہ تیرے سوا کوئی نہیں ہے، تو ہی برکت والا ہے، اے بیت اللہ کے رب۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی پاکدامنہ پر تہمت لگانے سے ایک سال کے نیک اعمال برباد ہو جاتے ہیں۔ امام مسلم نے اس حدیث کو شاہد کے طور پر نقل کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8927]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8928
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا أَسَد بن موسى، حدثنا أبو معاوية محمد بن خازِم، عن موسى بن مُسِلم - وهو الصَّغير - عن هلال بن يِسَاف عن أم الدرداء قالت: قلت لأبي الدرداء: ألا تبتغي لأضيافِك ما يبتغي الرجالُ لأضيافهم؟ فقال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"إِنَّ أمَامَكُم عَقَبَةٌ كَؤُودٌ، لا يَجُوزها المُثقِلون"، فأُحِبُّ أن أتخفَّفَ لتلك العَقَبة (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8713 - صحيح
ام درداء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے کہا: جس طرح لوگ اپنے مہمانوں کے لئے تکلف کرتے ہیں، آپ اپنے مہمانوں کے لئے ایسا کیوں نہیں کرتے؟ آپ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہارے سامنے ایک خاردار گھاٹی ہے۔ بھاری بوجھ والے اس سے گزر نہیں سکیں گے، اس لئے میں اس گھاٹی سے گزرنے کے لئے اپنا بوجھ ہلکا رکھنا چاہتا ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8928]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8929
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيَه وأبو بكر أحمد بن جعفر ببغداد قالا: حدثنا عبد الله بن أحمد بن حَنبَل [حدثنا أَبي] (1) حدثنا أبو داود، حدثنا شُعْبة، عن خالدٍ الحذَاء قال: سمعت أبا عثمان النَّهْديَّ يُحدِّث، أنَّ النبي ﷺ قال:"يُرفع للرجل (2) الصحيفةُ يومَ القيامة حتى يُرَى أنه [ناجٍ] (3) فما تزالُ مظالمُ بني آدم تَتْبعُه حتى ما تبقى حسنةٌ، ويُزادُ عليه من سيِّئاتِهم". قال: فقلت له - أو قال: فقال له عاصم -: عمَّن يا أبا عثمان؟ فقال: عن سلمان وسعدٍ وابن مسعود، حتى عدَّ ستةً أو سبعةً من أصحاب رسول الله ﷺ. قال شعبةُ: فسألتُ عاصمًا عن هذا الحديث، فحدَّثَنيه عن أبي عثمان عن سلمان. وأخبرني عثمان بن غياث: أنه سمع أبا عثمانَ يُحدِّث بهذا عن سلمانَ وأصحابِ رسول الله ﷺ (4)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8714 - على شرط البخاري ومسلم
ابوعثمان نہدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن آدمی کا صحیفہ اٹھایا جائے گا، انسان کا کیا ہوا ہر ظلم اس وقت تک اس کے تعاقب میں رہے گا جب تک کہ اس کے نامہ اعمال میں ایک بھی نیکی باقی ہو گی، پھر (جب لوگوں کو دینے کے لئے نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو) لوگوں کے گناہ اس کے نامہ اعمال میں ڈالے جانے لگیں گے، عاصم نے ابوعثمان سے پوچھا: اے ابوعثمان آپ یہ حدیث کس کے حوالے سے بیان کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: سلمان سے، سعد سے، اور ابن مسعود سے، یوں انہوں نے چھ یا سات صحابہ کرام کے نام گنوا دیئے، سیدنا شعبہ فرماتے ہیں: میں نے عاصم سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ حدیث مجھے ابوعثمان نے سلمان کے واسطے سے بیان کی ہے، اور عثمان بن عتاب نے مجھے بتایا ہے کہ انہوں نے ابوعثمان کو سلمان کے واسطے سے اور دیگر کئی صحابہ کرام کے واسطے سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8929]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں