المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
16. جَعْلُ اللَّهِ الْقِصَاصَ بَيْنَ الدَّوَابِّ
اللہ تعالیٰ نے جانوروں کے درمیان بھی قصاص (برابری کا بدلہ) رکھا ہے
حدیث نمبر: 8930
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا محمد بن مَسلَمة (1) الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون حدثنا همَّام بن يحيى، حدثنا القاسم بن عبد الواحد، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن جابر بن عبد الله قال: بَلَغَني عن رجل من أصحاب رسول الله ﷺ حديثٌ (2) سمعه من رسول الله ﷺ في القِصَاص لم أسمَعْه منه، فابتعَتُ بعيرًا فَشَدَدتُ رَحْلي، ثم سِرتُ إليه شهرًا حتى قدمتُ مصرَ - أو قال: الشام - فأتيت عبدَ الله بنَ أُنيس، فقلت: حديثٌ بَلَغَني عنك تحدِّثُ به، سمعتَه من رسول الله ﷺ ولم أسمعه في القصاص، خَشِيتُ أن أموتَ قبل أن أسمعَه، فقال عبد الله: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"يوم يُحشَرُ العبادُ - أو قال: الناس - عُراةً غُرْلًا بُهْمًا ليس معهم شيءٌ، ثم يناديهم بصوتٍ يَسمعُه من بَعُدَ كما يسمعُه من قَرُبَ: أنا المَلِكُ، أنا الدَّيَّانُ، لا ينبغي لأحدٍ من أهل الجنة أن يدخلَ الجنة ولأحدٍ من أهل النار عليه مَظلِمةٌ حتى أُقِصَّه منه، ولا ينبغي لأحدٍ من أهل النار أن يدخلَ النارَ ولأحدٍ من أهل الجنة [عنده] مَظلِمةٌ حتى أُقِصَّه منه، حتى اللَّطْمةُ"، قال: قلنا: كيف وإنَّا إِنَّما نأتي الله ﷿ عُراةً حُفاةً غُرْلًا بُهْمًا؟ قال: الحَسَناتُ والسَّيِّئَاتُ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8715 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8715 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما مجھے ایک صحابی کے حوالے سے قصاص کے بارے میں ایک حدیث معلوم ہوئی ہے جو کہ میں نے خود ان سے نہیں سنی تھی، میں نے اس کے لئے ایک اونٹ خریدا، اپنا رخت سفر باندھا، پھر میں پورے ایک مہینے کا سفر کر کے مصر یا شام پہنچا، میں سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، اور عرض کی: مجھے پتا چلا ہے کہ آپ قصاص کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فرمان بیان کرتے ہیں، وہ میں نے نہیں سنا، مجھے ڈر تھا کہ کہیں وہ فرمان مصطفی سننے سے پہلے کہیں موت نہ آ جائے، تب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس دن لوگوں کو ننگے بدن اور ننگے پاؤں جمع کیا جائے گا، ان کے جسم پر کوئی چیز نہ ہو گی پھر ان کو ایسی آواز میں نداء دی جائے گی، جو قریب و بعید سے یکساں سنائی دے گی، کہنے والا کہے گا: میں بادشاہ ہوں، میں بدلہ دینے والا ہوں، کسی جنتی کو جنت میں اور کسی دوزخی کو دوزخ میں اس وقت تک جانے کی اجازت نہیں ہے جب تک میں اس کے تمام مظالم کا بدلہ نہ لے لوں، حتی کہ کسی کو طمانچہ بھی مارا ہو گا تو اس کا بھی بدلہ لوں گا، راوی کہتے ہیں: ہم نے کہا: جب ہم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ننگے پاؤں، ننگے بدن خالی ہاتھ حاضر ہوں گے تو بدلہ کس چیز سے دلوایا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیکیوں اور برائیوں کے ساتھ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8930]