🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

48. حِكَايَةُ هَارُوتَ وَمَارُوتَ
ہاروت اور ماروت کا قصہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9011
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن عَمْرَوَيهِ الصَّفّار ببغداد، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني (1) ، حدثنا أبو الجوَّاب، حدثنا يحيى بن سَلَمة بن كُهَيل، عن أبيه، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عمر، أنه كان يقول: أَطَلَعَت الحمراءُ بعدُ؟ فإذا رآها قال: لا مَرحبًا، ثم قال: إنَّ مَلكين من الملائكة، هَارُوتَ وَمَارُوتَ، سَأَلَا اللهَ تعالى أن يَهبِطا إلى الأرض، فأهبطا إلى الأرض، فكانا يَقضِيان بين الناس، فإذا أمسيَا تكلَّما بكلماتٍ وعَرَجا بها إلى السماء، فقُيِّضَ لهما بامرأةٍ من أحسن الناس، وأُلقيت عليهما الشَّهوةُ، فجعلا يؤخِّرانها، وأُلقيت في أنفُسِهما، فلم يزالا يفعلانِ حتى وَعَدَتهما ميعادًا، فأتتهما للميعادِ فقالت: علِّماني الكلمةَ التي تَعرُجانِ بها، فعلَّماها الكلمة، فتكلَّمت بها، فعَرَجَت بها إلى السماء، فمُسِخَت فجُعِلَت كما ترونَ، فلما أَمسَيًا تكلّما بالكلمة التي كانا يَعرُجانِ بها إلى السماء، فلم يَعرُجا، فبُعِث إليهما: إن شئتُما فعذابُ الآخرة، وإن شئتُما فعذاب الدنيا إلى أن تقومَ الساعةُ، على أنْ تلتقيانِ (2) الله تعالى، فإن شاء عذَّبَكما، وإن شاء رَحِمَكما، فنَظَرَ أحدُهما إلى صاحبه، فقال أحدُهما لصاحبه: بل نختارُ عذابَ الدنيا ألفَ ألفِ ضعفٍ؛ فهما يُعذِّبَانِ إلى أن تقومَ الساعة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وترك حديث يحيى بن سَلَمة عن أبيه من المُحالات التي يردُّها العقلُ! فإنه لا خلاف أنه من أهل الصَّنعة (2) ، فلا يُنكَر لأبيه أن يَخُصَّه بأحاديث يتفرَّد بها عنه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8796 - قال النسائي متروك
سیدنا سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پوچھا کرتے تھے: کیا وہ سرخ ستارہ (زہرہ) طلوع ہوا ہے؟ پس جب وہ اسے دیکھتے تو فرماتے: اسے کوئی خوش آمدید نہ ہو۔ پھر فرماتے: بے شک فرشتوں میں سے دو فرشتے ہاروت اور ماروت تھے، انہوں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ انہیں زمین پر اتارا جائے، پس انہیں زمین پر اتار دیا گیا۔ وہ لوگوں کے درمیان فیصلے کیا کرتے تھے، اور جب شام ہوتی تو وہ کچھ کلمات پڑھتے اور ان کے ذریعے آسمان پر چڑھ جاتے۔ پھر ان کی آزمائش کے لیے لوگوں میں سے ایک انتہائی خوبصورت عورت مقدر کی گئی، اور ان کے اندر شہوت ڈال دی گئی، تو وہ اسے (برائی پر) مائل کرنے لگے۔ جب ان کے دلوں میں شہوت پختہ ہو گئی اور وہ مسلسل کوشش کرتے رہے یہاں تک کہ اس نے ان سے ایک وقت مقرر کر لیا۔ جب وہ مقررہ وقت پر ان کے پاس آئی تو کہنے لگی: مجھے وہ کلمہ سکھا دو جس کے ذریعے تم آسمان پر چڑھتے ہو۔ تو انہوں نے اسے وہ کلمہ سکھا دیا۔ اس نے وہ کلمہ پڑھا تو اس کے ذریعے آسمان پر چڑھ گئی، پھر اسے مسخ کر دیا گیا اور وہ ویسا ہی (ستارہ) بنا دی گئی جیسا تم دیکھتے ہو۔ پھر جب ان دونوں (فرشتوں) نے شام کی اور وہ کلمہ پڑھا جس کے ذریعے وہ آسمان پر چڑھتے تھے، لیکن وہ نہ چڑھ سکے۔ تو ان کی طرف یہ پیغام بھیجا گیا: اگر تم چاہو تو آخرت کا عذاب چن لو، اور اگر چاہو تو قیامت قائم ہونے تک دنیا کا عذاب چن لو، اور پھر تم اللہ تعالیٰ سے ملو گے تو اگر وہ چاہے گا تو تمہیں عذاب دے گا، اور اگر چاہے گا تو تم پر رحم فرمائے گا۔ تو ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی کی طرف دیکھا اور کہا: ہم دنیا کا عذاب دس لاکھ گنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ چنانچہ انہیں قیامت قائم ہونے تک عذاب دیا جا رہا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یحییٰ بن سلمہ کی اپنے والد سے مروی حدیث کو ترک کر دینا ان محال باتوں میں سے ہے جنہیں عقل تسلیم نہیں کرتی! کیونکہ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ وہ فنِ حدیث کے ماہرین میں سے ہیں، لہٰذا ان کے والد کا انہیں کچھ ایسی احادیث کے ساتھ خاص کر دینا جن میں وہ متفرد ہوں، کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 9011]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًا،، يحيى بن سلمة بن كهيل متروك الحديث، وبه أعلّه الذهبي في "تلخيص المستدرك"» [ترقيم الرساله 9011] [ترقيم الشركة 8902] [ترقيم العلميه 8796]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں