المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
50. خُطْبَةُ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي أَمْرِ السَّاعَةِ
قیامت کے معاملے میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے خطبے کا تذکرہ
حدیث نمبر: 9015
أخبرنا أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا موسى بن سهل ابن كَثير، حدثنا إسماعيل ابن عُليَّة، عن عطاء بن السائب، عن أبي عبد الرحمن السُّلَمي قال: نَزَلْنا من المدائن على فَرسَخ، فلما جاءت الجمعةُ، حضر [أَبي] وحضرتُ معه، فخَطَبَنا حذيفةُ فقال: إنَّ الله ﷿ يقول: ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَاَنشَقَّ الْقَمَرُ﴾، ألا وإنَّ الساعةَ قد اقتَرَبَت، ألا وإنَّ القمرَ قد انشقَّ، ألا وإنَّ الدنيا قد آذَنَتْ بفِراقٍ، ألا وإنَّ اليومَ المضمار وغدًا السِّباقُ. [فقلت] لأَبي: أيستبقُ الناسُ غدًا؟ قال: يا بنيَّ، إنك لجاهل، إنما يعني: العملُ اليومَ والجزاءُ غدًا، فلما جاءت الجمعةُ الأخرى، حَضَرْنا فَخَطَبَنا حذيفةُ فقال: إنَّ الله ﷿ يقول: ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ﴾، ألا وإنَّ الدنيا قد آذنت بِفراقٍ، ألا وإنَّ اليوم المضمارُ وغدًا السِّباقُ، ألا وإنَّ الغايةَ النارُ، والسابقُ من سَبَق إلى الجنة (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8800 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8800 - صحيح
ابوعبدالرحمن سلمی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نے مدائن سے ایک فرسخ (تقریباً تین میل) کے فاصلے پر پڑاؤ ڈالا۔ جب جمعہ کا دن آیا تو میرے والد حاضر ہوئے اور میں بھی ان کے ساتھ حاضر ہوا۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا تو فرمایا: ”بے شک اللہ عزوجل فرماتا ہے: ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ﴾ ”قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا۔“ [سورة القمر: 1] سن لو! بے شک قیامت قریب آ گئی ہے، سن لو! بے شک چاند شق ہو چکا ہے، سن لو! بے شک دنیا نے اپنی جدائی کا اعلان کر دیا ہے، سن لو! بے شک آج کا دن تیاری کا میدان ہے اور کل دوڑ (مقابلہ) ہے۔“ میں نے اپنے والد سے پوچھا: کیا لوگ کل ایک دوسرے سے دوڑ کا مقابلہ کریں گے؟ انہوں نے فرمایا: ”اے میرے بیٹے! تم نادان ہو۔ ان کی مراد تو یہ ہے کہ آج عمل کا دن ہے اور کل اس کی جزا ملے گی۔“ پھر جب اگلا جمعہ آیا، ہم حاضر ہوئے تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: ”بے شک اللہ عزوجل فرماتا ہے: ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ﴾ ”قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا۔“ [سورة القمر: 1] سن لو! دنیا نے اپنی جدائی کا اعلان کر دیا ہے، سن لو! آج کا دن تیاری کا میدان ہے اور کل دوڑ ہے، سن لو! اس دوڑ کی انتہا (ناکام ہونے والوں کے لیے) جہنم ہے، اور کامیاب (آگے نکلنے والا) وہ ہے جو جنت کی طرف سبقت لے جائے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 9015]
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 9015]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف موسى بن بن سهل، وقد توبع» [ترقيم الرساله 9015] [ترقيم الشركة 8906] [ترقيم العلميه 8800]
الحكم على الحديث: خبر صحيح