🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51. يأكل التراب كل شيء من الإنسان إلا عجب ذنبه
مٹی انسان کی ہر چیز کھا جائے گی سوائے ریڑھ کی ہڈی کے آخری حصے (عجب الذنب) کے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9015
أخبرنا أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا موسى بن سهل ابن كَثير، حدثنا إسماعيل ابن عُليَّة، عن عطاء بن السائب، عن أبي عبد الرحمن السُّلَمي قال: نَزَلْنا من المدائن على فَرسَخ، فلما جاءت الجمعةُ، حضر [أَبي] وحضرتُ معه، فخَطَبَنا حذيفةُ فقال: إنَّ الله ﷿ يقول: ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَاَنشَقَّ الْقَمَرُ﴾، ألا وإنَّ الساعةَ قد اقتَرَبَت، ألا وإنَّ القمرَ قد انشقَّ، ألا وإنَّ الدنيا قد آذَنَتْ بفِراقٍ، ألا وإنَّ اليومَ المضمار وغدًا السِّباقُ. [فقلت] لأَبي: أيستبقُ الناسُ غدًا؟ قال: يا بنيَّ، إنك لجاهل، إنما يعني: العملُ اليومَ والجزاءُ غدًا، فلما جاءت الجمعةُ الأخرى، حَضَرْنا فَخَطَبَنا حذيفةُ فقال: إنَّ الله ﷿ يقول: ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ﴾، ألا وإنَّ الدنيا قد آذنت بِفراقٍ، ألا وإنَّ اليوم المضمارُ وغدًا السِّباقُ، ألا وإنَّ الغايةَ النارُ، والسابقُ من سَبَق إلى الجنة (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8800 - صحيح
سیدنا ابوعبدالرحمن سلمی بیان کرتے ہیں: آپ فرماتے ہیں: مدائن سے ایک فرسخ کے فاصلے پر ہم نے پڑاؤ ڈالا، جب جمعہ آیا تو ہم جمعہ پڑھنے آئے، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا، اور فرمایا: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے {اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ} [القمر: 1] پاس آئی قیامت اور شق ہو گیا چاند خبردار بے شک قیامت قریب ہے، خبردار، چاند دو ٹکڑے ہو چکا، خبردار! دنیا جدائی کے بالکل قریب ہے، خبردار! آج دوڑ ہے اور کل اس میں سبقت ہو گی۔ میں نے سیدنا ابی سے کہا: کیا لوگ کل سبقت حاصل کریں گے؟ آپ نے فرمایا: اے میرے پیارے بیٹے، تم نادان ہو، اس سے مراد یہ ہے کہ آج عمل کا دن ہے اور کل اعمال کی جزاء ملے گی، جب اگلا جمعہ آیا تو ہم پھر جمعہ کے لیے حاضر ہوئے، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے خبردار! دنیا جدائی کے قریب ہے، خبردار، آج مضمار ہے اور کل سباق ہے۔ خبردار انتہاء، دوزخ ہے۔ اور سبقت حاصل کرنے والا وہ ہے جو جنت کی جانب سبقت کر گیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الأهوال/حدیث: 9015]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 9015 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) خبر صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف موسى بن بن سهل، وقد توبع. أبو عبد الرحمن السلمي: هو عبد الله بن حبيب.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ خبر صحیح ہے، جبکہ یہ سند موسیٰ بن سہل کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے، تاہم ان کی متابعت کی گئی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو عبدالرحمٰن السلمی سے مراد عبداللہ بن حبیب ہیں۔
وأخرجه ابن أبي شيبة 2/ 115، والطبري في "تفسيره" 86/ 27 من طريق ابن علية، بهذا الإسناد. وأخرجه بنحوه عبد الرزاق في "مصنفه" (5285)، وابن أبي شيبة 13/ 378، وأبو داود في "الزهد" (288)، وابن أبي الدنيا في "الزهد" (233)، والطبري 27/ 86، والطحاوي في "مشكل الآثار" (706) و (707)، وأبو الشيخ في "طبقات المحدثين بأصبهان" 1/ 420 - 421، وأبو نعيم في "الحلية" 1/ 281 من طرق عن عطاء بن السائب، به. وفيهم مَن سمع من عطاء قبل اختلاطه.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے ابن ابی شیبہ (115/2) اور طبری نے اپنی "تفسیر" (27/86) میں ابن علیہ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اور اسی کی مثل عبدالرزاق نے اپنے "مصنف" (5285)، ابن ابی شیبہ (378/13)، ابو داود نے "الزہد" (288)، ابن ابی الدنیا نے "الزہد" (233)، طبری (86/27)، طحاوی نے "مشکل الآثار" (706 و 707)، ابو الشیخ نے "طبقات المحدثین باصبہان" 1/ 420-421، اور ابو نعیم نے "الحلیہ" 1/ 281 میں عطاء بن السائب سے مختلف طرق کے ذریعے روایت کیا ہے۔ اور ان راویوں میں وہ بھی شامل ہیں جنہوں نے عطاء (کے اختلاط) سے پہلے ان سے سنا تھا۔