مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ
نماز میں رفع یدین (ہاتھ اٹھانے) کا بیان
حدیث نمبر: 192
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَبَعْدَ مَا يَرْفَعُ، وَلَا يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان فرماتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے یہاں تک کہ ان کو کندھوں کے برابر کرتے، اور جب رکوع کا ارادہ کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے (تو بھی ہاتھوں کو اٹھاتے تھے) اور (ہاتھوں کو) سجدوں کے درمیان نہیں اٹھاتے تھے۔“ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 192]
تخریج الحدیث: «أخرجہ البخاری، الأذان، باب الٰی أین یرفع یدیہ: 738، 726 - ومسلم، الصلاۃ، باب استحباب رفع الیدین حذو المنکبین مع تکبیرۃ الاحرام والرکوع... الخ: 390.»
حدیث نمبر: 193
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ ص: 254 ] كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ، وَكَانَ لَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ. قَالَ أَبُو الْعَبَّاسِ: كَتَبْنَا حَدِيثَ سُفْيَانَ عَنِ الزُّهْرِيِّ بِمِثْلِهِ قَبْلَ هَذَا.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو پھر اسی طرح ہاتھوں کو اٹھاتے۔ البتہ سجدوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 193]
تخریج الحدیث: «أخرجہ البخاری، الأذان، باب رفع الیدین فی التکبیرۃ الأولی مع الافتتاح سواء: 735.»
حدیث نمبر: 194
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ كَانَ إِذَا ابْتَدَأَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا دُونَ ذَلِكَ.
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ جب نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو دونوں ہاتھوں کو اس سے تھوڑا کم اٹھاتے۔ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 194]
تخریج الحدیث: «أخرجہ البخاری، الاذان، باب رفع الیدین اذا قام من الرکعتین: 739.»
حدیث نمبر: 195
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا ابْتَدَأَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ.
اور اسی سابقہ سند سے ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جب نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے اور جب رکوع سے اٹھتے تو بھی اسی طرح ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے۔ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 195]
تخریج الحدیث: «أخرجہ البخاری، الاذان، باب رفع الیدین اذا قام من الرکعتین: 739.»
حدیث نمبر: 196
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تُحَاذِيَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَبَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَلَا يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان فرماتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھ اٹھاتے حتیٰ کہ انہیں کندھے کے برابر کر لیتے اور جب رکوع کرنے لگتے اور رکوع سے سر اٹھاتے (تو اسی طرح رفع الیدین کرتے) اور دو سجدوں کے درمیان ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔“ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 196]
تخریج الحدیث: «أخرجہ البخاری، الأذان، باب الٰی أین یرفع یدیہ: 738، 726 - ومسلم، الصلاۃ، باب استحباب رفع الیدین حذو المنکبین مع تکبیرۃ الاحرام والرکوع... الخ: 390.»
حدیث نمبر: 197
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: حَدَّثَنِي وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ وَبَعْدَمَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ. قَالَ وَائِلٌ: ثُمَّ أَتَيْتُهُمْ فِي الشِّتَاءِ فَرَأَيْتُهُمْ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ [ ص: 255 ] فِي الْبَرَانِسِ.
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے اسی طرح جب رکوع کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے (تو بھی رفع الیدین کرتے)۔ وائل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”پھر میں ان کے پاس سردیوں میں آیا تو میں نے دیکھا (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے چادریں اوڑھی ہوئی تھیں) اور وہ ان کے اندر سے رفع الیدین کرتے تھے۔“ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 197]
تخریج الحدیث: «أخرجہ ابو داود، الصلاۃ، باب رفع الیدین فی الصلوۃ: 726، 727 - والنسائی، الافتتاح، باب موضع الیمین من الشمال فی الصلاۃ: 890 - وصححہ ابن خزیمہ: 480، 714، 690 - وابن الجارود: 208.»
حدیث نمبر: 198
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ. قَالَ سُفْيَانُ: ثُمَّ قَدِمْتُ الْكُوفَةَ فَلَقِيتُ يَزِيدَ، فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ هَكَذَا بِهَا وَزَادَ فِيهِ، ثُمَّ لَا يَعُودُ فَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ لَقَّنُوهُ. قَالَ سُفْيَانُ: هَكَذَا سَمِعْتُ يَزِيدَ يُحَدِّثُ بِهِ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُهُ هَكَذَا وَيَزِيدُ فِيهِ، ثُمَّ لَا يَعُودُ. قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَذَهَبَ سُفْيَانُ إِلَى أَنْ يَغْلَطَ يَزِيدُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَيَقُولُ: كَأَنَّهُ لُقِّنَ هَذَا الْحَرْفَ الْآخَرَ، فَلُقِّنُهُ وَلَمْ يَكُنْ سُفْيَانُ يَرَى يَزِيدَ بِالْحِفْظِ كَذَلِكَ. [ ص: 256 ] أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ وَإِلَى آخِرِ الرَّابِعِ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ وَإِلَى آخِرِ السَّابِعِ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
”براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے۔ سفیان کہتے ہیں پھر میں کوفہ آیا اور یزید بن ابی زیاد سے ملا، تو میں نے سنا وہ یہ حدیث اس زیادتی سے بیان کرتا ہے کہ پھر وہ نہیں لوٹاتے تھے میں سمجھا کہ انہوں نے ان کو ”تلقین“ کی ہے۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے یزید کو اس طرح بیان کرتے ہوئے سنا پھر میں نے (بعد میں) ان کو اس کے ساتھ یہ زیادتی بھی بیان کرتے سنا کہ ”پھر وہ رفع الیدین نہیں کرتے تھے“۔ ربیع بن سلیمان المرادی کہتے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: سفیان رحمہ اللہ نے اس حدیث میں یزید کو غلط قرار دیا ہے اور فرماتے ہیں گویا انہیں اس آخری حرف کی تلقین کی گئی جس کو انہوں نے لے لیا اور سفیان رحمہ اللہ یزید کو مضبوط حافظے والا نہیں سمجھتے تھے۔“ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 198]
تخریج الحدیث: «اسنادہ ضعیف لضعف یزید بن ابی زیاد، واتفق الحفاظ علی ان قولہ ”ثم لم یعد“ مدرج (التلخیص الحبیر: 1/221) - وأخرجہ ابو داود، الصلاۃ، باب من لم یذکر الرفع عند الرکوع: 749، 750.»