🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الْجَدِّ
باب: دادا کی میراث کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2896
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنً، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِنَّ ابْنَ ابْنِي مَاتَ فَمَا لِي مِنْ مِيرَاثِهِ، فَقَالَ: لَكَ السُّدُسُ فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ، فَقَالَ: لَكَ سُدُسٌ آخَرُ فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ، فَقَالَ: إِنَّ السُّدُسَ الْآخَرَ طُعْمَةٌ، قَالَ قَتَادَةُ: فَلَا يَدْرُونَ مَعَ أَيِّ شَيْءٍ وَرَّثَهُ قَالَ قَتَادَةُ: أَقَلُّ شَيْءٍ وَرِثَ الْجَدُّ السُّدُسُ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرا پوتا مر گیا ہے، مجھے اس کی میراث سے کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے چھٹا حصہ ہے، جب وہ واپس ہونے لگا تو آپ نے اس کو بلایا اور فرمایا: تمہارے لیے ایک اور چھٹا حصہ ہے، جب وہ واپس ہونے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسے بلایا اور فرمایا: یہ دوسرا «سدس» تمہارے لیے تحفہ ہے۔ قتادہ کہتے ہیں: معلوم نہیں دادا کو کس کے ساتھ سدس حصہ دار بنایا؟۔ قتادہ کہتے ہیں: سب سے کم حصہ جو دادا پاتا ہے وہ «سدس» ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 2896]
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا: میرا پوتا فوت ہو گیا ہے، تو میرے لیے اس کی وراثت میں سے کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے لیے چھٹا حصہ ہے۔ جب اس نے پشت پھیری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: تیرے لیے ایک اور چھٹا حصہ بھی ہے۔ جب اس نے پشت پھیری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: یہ دوسرا چھٹا حصہ تحفہ ہے۔ قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگ نہیں جان سکے کہ کس چیز کے ساتھ اسے وارث بنایا۔ قتادہ نے (یہ بھی) کہا: دادا کا کم از کم حصہ وراثت چھٹا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 2896]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الفرائض 9 (2099)، (تحفة الأشراف: 10801)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/428، 436) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے رواة قتادة اور حسن مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں، نیز حسن کے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے سماع میں بھی سخت اختلاف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2099)
قتادة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 104

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2897
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، أَنَّ عُمَرَ قَالَ:" أَيُّكُمْ يَعْلَمُ مَا وَرَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَدَّ، فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ: أَنَا وَرَّثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّدُسَ قَالَ: مَعَ مَنْ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ: لَا دَرَيْتَ فَمَا تُغْنِي إِذًا؟".
حسن بصری کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دادا کو ترکے میں سے جو دلایا ہے اسے تم میں کون جانتا ہے؟ معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے کہا: میں (جانتا ہوں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو چھٹا حصہ دلایا ہے، انہوں نے پوچھا: کس وارث کے ساتھ؟ وہ کہنے لگے: یہ تو معلوم نہیں، اس پر انہوں نے کہا: تمہیں پوری بات معلوم نہیں پھر کیا فائدہ تمہارے جاننے کا؟۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 2897]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا تم میں سے کوئی جانتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دادا کو کیا وراثت دی تھی؟ تو سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جانتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھٹا حصہ دیا تھا۔ انہوں نے پوچھا: کس کے ساتھ؟ کہا: مجھے نہیں معلوم۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے نہیں جانا (تمہارا ادھوری بات بتانے کا) کیا فائدہ؟ [سنن ابي داود/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 2897]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/ الکبری (6335)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 3 (2723)، (تحفة الأشراف: 11467)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/27) (صحیح)» ‏‏‏‏ (حسن بصری کا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے، لیکن دوسرے طرق اور شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود 8؍ 251)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2723)
الحسن عن عمر : لم يدركه (تحفة الأشراف 20/8) فالسند منقطع
والحديث السابق (الأصل : 2895) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 104

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں