🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. باب فِي الْخَلِيطَيْنِ
باب: کشمش اور کھجور کو یا کچی اور پکی کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3703
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ" نَهَى أَنْ يُنْتَبَذَ الزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا، وَنَهَى أَنْ يُنْتَبَذَ الْبُسْرُ وَالرُّطَبُ جَمِيعًا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کشمش اور کھجور کو ایک ساتھ ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا، نیز کچی اور پکی کھجور ملا کر نبیذ بنا نے سے منع فرمایا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3703]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کشمش اور کھجور ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے اور ایسے ہی تازہ (پختہ) کھجور اور نیم پختہ (گدری ہوئی) کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے روکا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3703]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الأشربة 5 (1986)، سنن الترمذی/الأشربة 9 (1876)، سنن النسائی/الأشربة 9 (5558)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 11 (3395)، (تحفة الأشراف: 2478)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأشربة 11 (5601)، مسند احمد (3/294، 300، 302، 317، 363، 369) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5601) صحيح مسلم (1986)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3704
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ:" نَهَى عَنْ خَلِيطِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ، وَعَنْ خَلِيطِ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ، وَعَنْ خَلِيطِ الزَّهْوِ وَالرُّطَبِ، وَقَالَ: انْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدَ عَلَى حِدَةٍ"، قَالَ: وحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کشمش اور کھجور ملا کر اور پکی اور کچی کھجور ملا کر اور اسی طرح ایسی کھجور جس میں سرخی یا زردی ظاہر ہونے لگی ہو اور تازی پکی کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع کیا، اور آپ نے فرمایا: ہر ایک کی الگ الگ نبیذ بناؤ۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3704]
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ کشمش اور کھجور (خشک) کو ملانا، نیم پختہ اور (خشک) کھجور کو ملانا اور ناپختہ کھجور (جس نے ابھی سرخ یا زرد رنگ پکڑا ہو) اور تازہ کھجور کو ملا کر نبیذ بنانا منع ہے۔ کہا کہ ان چیزوں میں سے ہر ایک سے علیحدہ علیحدہ طور پر نبیذ بناؤ۔ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3704]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأشربة 11 (5602)، صحیح مسلم/الأشربة 5 (1988)، سنن النسائی/الأشربة 6 (5553)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 11 (3397)، (تحفة الأشراف: 12107)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأشربة 3 (8)، مسند احمد (5/295، 307، 309، 310)، سنن الدارمی/الأشربة 15 (2156) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5602) صحيح مسلم (1988)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3705
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ: حَفْصٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" نَهَى عَنِ الْبَلَحِ وَالتَّمْرِ، وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ".
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی کھجور کو پکی ہوئی کھجور کے ساتھ اور کشمش کو کھجور کے ساتھ ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3705]
ابن ابی لیلیٰ ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی کھجور اور پختہ کھجور اور اسی طرح کشمش اور کھجور کو ملانے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3705]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الأشربة 4 (5549)، (تحفة الأشراف: 15623)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/314) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه النسائي (5549 وسنده صحيح) الحكم بن عتيبة صرح بالسماع عند أحمد (4/314) ورواية شعبة عن المدلسين محمولة بالسماع

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3706
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُمَارَةَ، حَدَّثَتْنِي رَيْطَةُ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَتْ:" سَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُ؟، قَالَتْ: كَانَ" يَنْهَانَا أَنْ نَعْجُمَ النَّوَى طَبْخًا، أَوْ نَخْلِطَ الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ".
کبشہ بنت ابی مریم کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ان چیزوں کے متعلق پوچھا جن سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منع کرتے تھے، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کھجور کو زیادہ پکانے سے جس سے اس کی گٹھلی ضائع ہو جائے، اور کشمش کے ساتھ کھجور ملا کر نبیذ بنانے سے منع کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3706]
کبثہ بنت ابی مریم کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز سے منع کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں منع کرتے تھے کہ کھجور کو اس قدر پکائیں کہ اس کی گٹھلی ہی ختم ہو جائے یا کشمش اور کھجور کو ملانے سے منع کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3706]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 18286)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/296) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ثابت لین الحدیث اور ربطہ مجہول ہیں،اور کبشہ بھی غیر معروف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ريطة: لا تعرف،وكبشة بنت أبي مريم،لا يعرف حالھا (تقريب التهذيب: 8592،8670)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 132

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3707
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوَدَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُنْبَذُ لَهُ زَبِيبٌ فَيُلْقِي فِيهِ تَمْرًا، وَتَمْرٌ فَيُلْقِي فِيهِ الزَّبِيبَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کشمکش کی نبیذ بنائی جاتی تو اس میں کھجور ڈال دی جاتی اور جب کھجور کی نبیذ بنائی جاتی تو اس میں انگور ڈال دیا جاتا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3707]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کشمش کی نبیذ بنائی جاتی اور پھر اس میں کھجور ڈال دی جاتی تھی یا کھجور کی نبیذ بنائی جاتی اور پھر اس میں کشمش ڈال دی جاتی تھی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3707]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17995) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں امرأة مبہم راویہ ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
امرأة من بني أسد : مجهولة كما قال المنذري (انظر عون المعبود 384/3)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 132

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3708
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ، حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْحِمَّانِيُّ، حَدَّثَتْنِي صَفِيَّةُ بِنْتُ عَطِيَّةَ، قَالَتْ:" دَخَلْتُ مَعَ نِسْوَةٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى عَائِشَةَ، فَسَأَلْنَاهَا عَنِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ؟ فقالت: كُنْتُ آخُذُ قَبْضَةً مِنْ تَمْرٍ، وَقَبْضَةً مِنْ زَبِيبٍ، فَأُلْقِيهِ فِي إِنَاءٍ، فَأَمْرُسُهُ، ثُمَّ أَسْقِيهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
صفیہ بنت عطیہ کہتی ہیں میں عبدالقیس کی چند عورتوں کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، اور ہم نے آپ سے کھجور اور کشمش ملا کر (نبیذ تیار کرنے کے سلسلے میں) پوچھا، آپ نے کہا: میں ایک مٹھی کھجور اور ایک مٹھی کشمش لیتی اور اسے ایک برتن میں ڈال دیتی، پھر اس کو ہاتھ سے مل دیتی پھر اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پلاتی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3708]
صفیہ بنت عطیہ کہتی ہیں کہ میں وفدِ عبد القیس کی خواتین کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، ہم نے آپ سے کھجور اور کشمش کو ملانے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: میں ایک مٹھی کھجور اور ایک مٹھی کشمش لیتی اور انہیں پانی میں ڈال دیتی، پھر انہیں اپنے ہاتھ سے مسلتی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتی اور انہیں پلایا کرتی تھی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3708]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17869) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی عتاب لین الحدیث، اور صفیہ مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
صفية بنت عطية لا تعرف (تق : 8625) وأبو بحر عبد الرحمٰن بن عثمان البكراوي ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 132

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں