سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب كيف الرقى
باب: جھاڑ پھونک کیسے ہو؟
حدیث نمبر: 3894
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ أَثَرَ ضَرْبَةٍ فِي سَاقِ سَلَمَة، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ؟ قَالَت: أَصَابَتْنِي يَوْمَ خَيْبَرَ، فَقَالَ النَّاسُ: أُصِيبَ سَلَمَةُ فَأُتِيَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَفَثَ فِيَّ ثَلَاثَ نَفَثَاتٍ فَمَا اشْتَكَيْتُهَا حَتَّى السَّاعَةِ".
یزید بن ابی عبید کہتے ہیں کہ میں نے سلمہ رضی اللہ عنہ کی پنڈلی میں چوٹ کا ایک نشان دیکھا تو میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے یہ چوٹ خیبر کے دن لگی تھی، لوگ کہنے لگے تھے: سلمہ رضی اللہ عنہ کو ایسی چوٹ لگی ہے (اب بچ نہیں سکیں گے) تو مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ نے تین بار مجھ پر دم کیا اس کے بعد سے اب تک مجھے اس میں کوئی تکلیف نہیں محسوس ہوئی۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3894]
جناب یزید بن ابو عبید کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا سلمہ (سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) کی پنڈلی پر تلوار لگنے کا نشان دیکھا، میں نے پوچھا کہ ”یہ کیسا نشان ہے؟“ تو انہوں نے بتایا کہ ”یہ مجھے خیبر کے روز لگی تھی اور لوگ کہنے لگے کہ ”سلمہ تو گیا!“ تو مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر تین بار پھونک ماری (جس میں ہلکا سا لعاب دہن بھی تھا) تو اس کے بعد سے اب تک مجھے اس کی کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3894]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 38 (4206)، (تحفة الأشراف: 4546)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/48) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4206)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4206
| نفث فيه ثلاث نفثات فما اشتكيتها حتى الساعة |
سنن أبي داود |
3894
| نفث في ثلاث نفثات فما اشتكيتها حتى الساعة |
Sunan Abi Dawud Hadith 3894 in Urdu
يزيد بن أبي عبيد الأسلمي ← سلمة بن الأكوع الأسلمي