سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. باب فِي الْغِيبَةِ
باب: غیبت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4874
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قِيلَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْغِيبَةُ؟ قَالَ: ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ قِيلَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ، قَالَ: إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدْ بَهَتَّهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! غیبت کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرنا کہ اسے ناگوار ہو“ عرض کیا گیا: اور اگر میرے بھائی میں وہ چیز پائی جاتی ہو جو میں کہہ رہا ہوں تو آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ چیز اس کے اندر ہے جو تم کہہ رہے ہو تو تم نے اس کی غیبت کی، اور اگر جو تم کہہ رہے ہو اس کے اندر نہیں ہے تو تم نے اس پر بہتان باندھا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4874]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ”اے اللہ کے رسول! غیبت کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اپنے بھائی کا ایسے انداز میں ذکر کرنا جسے وہ ناپسند کرتا ہو۔“ کہا گیا: ”جو بات میں کہہ رہا ہوں اگر وہ میرے بھائی میں (فی الواقع) ہو؟ (تو بھی وہ غیبت ہو گی؟)“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس میں وہ بات موجود ہو اور تم کہو، تب ہی تو غیبت ہے۔ اگر تم کوئی ایسی بات کہو جو اس میں نہ ہو، تو تم نے اس پر بہتان لگایا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4874]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/البر والصلة 23 (1934)، (تحفة الأشراف: 14054)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/البر والصلة 20 (2589)، مسند احمد (2/230، 458)، سنن الدارمی/الرقاق 6 (2756) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2589)
حدیث نمبر: 4875
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَسْبُكَ مِنْ صَفِيَّةَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: غَيْرُ مُسَدَّدٍ تَعْنِي قَصِيرَةً، فَقَالَ لَقَدْ قُلْتِ كَلِمَةً لَوْ مُزِجَتْ بِمَاءِ الْبَحْرِ لَمَزَجَتْهُ , قَالَتْ: وَحَكَيْتُ لَهُ إِنْسَانًا، فَقَالَ: مَا أُحِبُّ أَنِّي حَكَيْتُ إِنْسَانًا وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ کے لیے تو صفیہ رضی اللہ عنہا کا یہ اور یہ عیب ہی کافی ہے، یعنی پستہ قد ہونا تو آپ نے فرمایا: ”تم نے ایسی بات کہی ہے کہ اگر وہ سمندر کے پانی میں گھول دی جائے تو وہ اس پر بھی غالب آ جائے“ اور میں نے ایک شخص کی نقل کی تو آپ نے فرمایا: ”مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میں کسی انسان کی نقل کروں اگرچہ میرے لیے اتنا اور اتنا (مال) ہو“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4875]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دیا: ”آپ کو صفیہ رضی اللہ عنہا میں یہی کافی ہے کہ وہ ایسے ایسے ہے،“ مسدد کے علاوہ دوسرے نے وضاحت کی کہ اس سے ان کی مراد سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا پستہ قد ہونا تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ایسا کلمہ کہا ہے کہ اگر اسے سمندر میں ملا دیا جائے تو کڑوا ہو جائے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی کی نقل اتاری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کسی کی نقل اتارنا پسند نہیں کرتا، خواہ مجھے اتنا اتنا مال بھی ملے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4875]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/صفة القیامة 51 (2502، 2503)، (تحفة الأشراف: 16132)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/128، 136، 189، 206) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4853)
أخرجه الترمذي (2502 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (4853)
أخرجه الترمذي (2502 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 4876
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُسَيْنٍ، حَدَّثَنَا نَوْفَلُ بْنُ مُسَاحِقٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ مِنْ أَرْبَى الرِّبَا الِاسْتِطَالَةَ فِي عِرْضِ الْمُسْلِمِ بِغَيْرِ حَقٍّ".
سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بڑی زیادتی یہ ہے کہ آدمی ناحق کسی مسلمان کی بے عزتی کرے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4876]
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بڑا سود (سب سے بڑی زیادتی) یہ ہے کہ انسان ناحق کسی کی عزت سے کھیلے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4876]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 4468)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/190) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (5045)
عبد الله ھو ابن عبد الرحمن بن أبي حسين
مشكوة المصابيح (5045)
عبد الله ھو ابن عبد الرحمن بن أبي حسين
حدیث نمبر: 4877
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ اسْتِطَالَةَ الْمَرْءِ فِي عِرْضِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ حَقٍّ وَمِنَ الْكَبَائِرِ السَّبَّتَانِ بِالسَّبَّةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑے گناہوں میں سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی ناحق کسی مسلمان کی بے عزتی میں زبان دراز کرے، اور یہ بھی کبیرہ گناہوں میں سے ہے کہ ایک گالی کے بدلے دو گالیاں دی جائیں“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4877]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک کبیرہ گناہوں میں ایک بڑا کبیرہ گناہ یہ ہے کہ انسان اپنے مسلمان بھائی کی ناحق ہتک اور توہین کر دے، اور کبیرہ گناہوں میں یہ بھی ہے کہ کوئی ایک کے بدلے دو گالیاں دے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4877]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14020) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عمرو بن أبي سلمة : شامي وقال الحافظ ابن حجر في ترجمة زھير بن محمد التميمي : ’’ رواية أھل الشام عنه غير مستقيمة ‘‘ إلخ (تقريب التهذيب: 2049)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 169
إسناده ضعيف
عمرو بن أبي سلمة : شامي وقال الحافظ ابن حجر في ترجمة زھير بن محمد التميمي : ’’ رواية أھل الشام عنه غير مستقيمة ‘‘ إلخ (تقريب التهذيب: 2049)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 169
حدیث نمبر: 4878
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ , وَأَبُو الْمُغِيرَةِ , قَالَا: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمَّا عُرِجَ بِي مَرَرْتُ بِقَوْمٍ لَهُمْ أَظْفَارٌ مِنْ نُحَاسٍ يَخْمُشُونَ وُجُوهَهُمْ وَصُدُورَهُمْ فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاسِ وَيَقَعُونَ فِي أَعْرَاضِهِمْ" , قَالَ أَبُو دَاوُد: حَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ بَقِيَّةَ لَيْسَ فِيهِ أَنَسٌ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مجھے معراج کرائی گئی، تو میرا گزر ایسے لوگوں پر سے ہوا، جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے منہ اور سینے نوچ رہے تھے، میں نے پوچھا: جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ کہا: یہ وہ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے (غیبت کرتے) اور ان کی بے عزتی کرتے تھے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہم سے اسے یحییٰ بن عثمان نے بیان کیا ہے اور بقیہ سے روایت کر رہے تھے، اس میں انس موجود نہیں ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4878]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مجھے معراج کرائی گئی تو میرا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے جو اپنے چہروں اور سینوں کو چھیل رہے تھے۔ میں نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ وہ ہیں جو دوسرے لوگوں کا گوشت کھاتے اور ان کی عزتوں سے کھیلتے ہیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس روایت کو یحییٰ بن عثمان نے بقیہ سے روایت کیا، مگر اس میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں (مرسل روایت کیا)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4878]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 828)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/224) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (5046)
مشكوة المصابيح (5046)
حدیث نمبر: 4879
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ أَبِي عِيسَى السَّيْلَحِينِيُّ، عَنْ أَبِي الْمُغِيرَةِ، كَمَا قَالَ ابْنُ الْمُصَفَّى.
ابومغیرہ سے بھی اسی طرح مروی ہے جیسا کہ ابن مصفیٰ نے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4879]
عیسیٰ بن ابی عیسیٰ السیلحینی نے ابومغیرہ سے اسی طرح روایت کیا، جیسے کہ (مذکورہ بالا حدیث میں) ابن مصفیٰ نے کہا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4879]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 828)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4878)
انظر الحديث السابق (4878)
حدیث نمبر: 4880
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يَدْخُلِ الْإِيمَانُ قَلْبَهُ لَا تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِينَ وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ، فَإِنَّهُ مَنِ اتَّبَعَ عَوْرَاتِهِمْ يَتَّبِعُ اللَّهُ عَوْرَتَهُ وَمَنْ يَتَّبِعِ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ فِي بَيْتِهِ".
ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو اپنی زبان سے اور حال یہ ہے کہ ایمان اس کے دل میں داخل نہیں ہوا ہے مسلمانوں کی غیبت نہ کرو اور ان کے عیوب کے پیچھے نہ پڑو، اس لیے کہ جو ان کے عیوب کے پیچھے پڑے گا، اللہ اس کے عیب کے پیچھے پڑے گا، اور اللہ جس کے عیب کے پیچھے پڑے گا، اسے اسی کے گھر میں ذلیل و رسوا کر دے گا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4880]
سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے وہ لوگو جو اپنی زبانوں سے ایمان لائے ہو مگر ایمان ان کے دلوں میں نہیں اترا ہے! مسلمانوں کی بدگوئی نہ کیا کرو اور نہ ان کے عیبوں کے درپے ہوا کرو، بلاشبہ جو ان کے عیبوں کے درپے ہو گا اللہ بھی اس کے عیبوں کے درپے ہو گا، اور اللہ جس کے عیبوں کے درپے ہو گیا تو اسے اس کے گھر کے اندر رسوا کر دے گا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4880]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11596)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/420، 421) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وله شاھد عند الترمذي (2032 وسنده حسن)
وله شاھد عند الترمذي (2032 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 4881
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ وَقَّاصِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَكَلَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ أَكْلَةً فَإِنَّ اللَّهَ يُطْعِمُهُ مِثْلَهَا مِنْ جَهَنَّمَ، وَمَنْ كُسِيَ ثَوْبًا بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَكْسُوهُ مِثْلَهُ مِنْ جَهَنَّمَ، وَمَنْ قَامَ بِرَجُلٍ مَقَامَ سُمْعَةٍ وَرِيَاءٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَقُومُ بِهِ مَقَامَ سُمْعَةٍ وَرِيَاءٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
مستورد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مسلمان کا عیب بیان کر کے ایک نوالا کھائے گا تو اس کو اللہ اتنا ہی جہنم سے کھلائے گا، اور جو شخص کسی مسلمان کا عیب بیان کر کے ایک کپڑا پہنے گا تو اللہ اسے اسی جیسا لباس جہنم میں پہنائے گا، اور جو شخص کسی شخص کو شہرت اور ریا کے مقام پر پہنچائے گا تو قیامت کے دن اللہ اسے خوب شہرت اور ریا کے مقام پر پہنچا دے گا“ (یعنی اس کی ایسی رسوائی ہو گی کہ سارے لوگوں میں اس کا چرچا ہو گا)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4881]
سیدنا مستورد (مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مسلمان کی وجہ سے ایک بھی لقمہ کھایا ہوگا (اس کی غیبت یا ہتک وغیرہ کر کے کسی سے کوئی عوض لیا ہوگا) تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے اسی طرح کا لقمہ کھلائے گا، اور جسے کسی مسلمان کی وجہ سے کوئی کپڑا پہنایا گیا تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے اسی طرح کا کپڑا پہنائے گا، اور جس نے کسی کی تشہیر کی اور اسے دکھلاوے کے مقام پر پہنچایا ہو (اس کا چرچا کیا ہو) تو اللہ قیامت کے روز اس کی تشہیر کرے گا اور دکھلاوے کے مقام پر کھڑا کرے گا۔“ (ایسا عذاب دے گا یا ایسی جگہ عذاب دے گا کہ اس کا سب لوگوں میں چرچا ہوگا)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4881]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11261)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/229) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
بقية مدلس ولم يصرح بالسماع وقال الحافظ : ’’ صدوق كثير التدليس عن الضعفاء ‘‘ (تق : 734)
وللحديث شاهد ضعيف عند أحمد (229/4) و الحاكم (127/4،128) فيه ابن جريج وعنعن (تقدم: 19) ولم يصرح بالسماع إلا في رواية سفيان بن وكيع عنه (ضعيف تقدم : 4837)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 170
ضعيف
بقية مدلس ولم يصرح بالسماع وقال الحافظ : ’’ صدوق كثير التدليس عن الضعفاء ‘‘ (تق : 734)
وللحديث شاهد ضعيف عند أحمد (229/4) و الحاكم (127/4،128) فيه ابن جريج وعنعن (تقدم: 19) ولم يصرح بالسماع إلا في رواية سفيان بن وكيع عنه (ضعيف تقدم : 4837)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 170
حدیث نمبر: 4882
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ مَالُهُ وَعِرْضُهُ وَدَمُهُ حَسْبُ امْرِئٍ مِنْ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کی ہر چیز اس کا مال، اس کی عزت اور اس کا خون دوسرے مسلمان پر حرام ہے، اور آدمی میں اتنی سی برائی ہونا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4882]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک مسلمان کے لیے دوسرے مسلمان کا مال، عزت اور خون حرام ہے۔ بندے کے لیے یہی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4882]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/البر والصلة 18 (1927)، (تحفة الأشراف: 12319)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/البر والصلة 10 (2564)، سنن ابن ماجہ/الزہد 23 (4213) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه الترمذي (1927 وسنده حسن) وله شاھد عند مسلم (2564)
أخرجه الترمذي (1927 وسنده حسن) وله شاھد عند مسلم (2564)