سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
137. . بَابُ: النَّهْيِ أَنْ يَرَى عَوْرَةَ أَخِيهِ
باب: اپنے مسلمان بھائی کی شرمگاہ (ستر) دیکھنے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 661
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَنْظُرِ الْمَرْأَةُ إِلَى عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ، وَلَا يَنْظُرِ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ الرَّجُلِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت عورت کے اور مرد مرد کے ستر کو نہ دیکھے“۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 661]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی عورت، دوسری عورت کے ستر کو نہ دیکھے، اور کوئی مرد کسی مرد کے ستر کو نہ دیکھے۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 661]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 17 (338)، سنن الترمذی/الأدب 38 (2793)، سنن ابی داود/الحمام 3 (4018)، (تحفةالأشراف: 4115)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/ 63) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 662
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ مَوْلًى لِعَائِشَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" مَا نَظَرْتُ أَوْ مَا رَأَيْتُ فَرْجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ"، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: كَانَ أَبُو نُعَيْمٍ يَقُولُ: عَنْ مَوْلَاةٍ لِعَائِشَةَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرمگاہ کبھی نہیں دیکھی۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں: ابونعیم «عن مولاة لعائشة» کہتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 662]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرمگاہ کو کبھی نہیں دیکھا۔“ ابوبکر نے کہا: ”ابو نعیم (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام کی بجائے) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی لونڈی سے بیان کیا کرتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 662]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17816، ومصباح الزجاجة: 250)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/63، 190) (ضعیف)» (اس حدیث کی سند میں مولیٰ عائشہ مجہول الحال ہیں، اس لئے یہ ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 1812، یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 1922)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث الآتي (1922)
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،مولي عائشة لم يسم ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 402
إسناده ضعيف
انظر الحديث الآتي (1922)
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،مولي عائشة لم يسم ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 402