🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. بَابُ: الطَّلاَقِ
باب: ہمیں سوید بن سعید نے بیان کیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2016
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی پھر رجوع کر لیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2016]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی، پھر رجوع فرما لیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2016]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الطلاق 38 (2283)، سنن النسائی/الطلاق 76 (3590)، (تحفة الأشراف: 10493)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطلاق 2 (2310) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2017
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَلْعَبُونَ بِحُدُودِ اللَّهِ، يَقُولُ أَحَدُهُمْ: قَدْ طَلَّقْتُكِ قَدْ رَاجَعْتُكِ قَدْ طَلَّقْتُكِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان لوگوں کا کیا حال ہے جو اللہ کے حدود سے کھیل کرتے ہیں، ان میں سے ایک اپنی بیوی سے کہتا ہے: میں نے تجھے طلاق دے دی پھر تجھ سے رجعت کر لی، پھر تجھے طلاق دے دی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2017]
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اللہ کی حدود (اور اس کے قوانین) کو کھیل بنا لیتے ہیں، آدمی (اپنی بیوی سے) کہتا ہے: میں نے تجھے طلاق دی، میں نے تجھ سے رجوع کیا، میں نے تجھے طلاق دی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2017]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9120، ومصباح الزجاجة: 716) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں مؤمل بن اسماعیل مختلف فیہ راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الثوري و أبو إسحاق عنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 451

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2018
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيِّ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللَّهِ الطَّلَاقُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حلال چیزوں میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور مبغوض چیز طلاق ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2018]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حلال کاموں میں سے اللہ کو سب سے زیادہ ناپسند کام طلاق ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2018]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطلاق 3 (1277، 1278)، (تحفة الأشراف: 7411) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں عبید اللہ بن الولید ضعیف راوی ہیں، صواب اس حدیث کا مرسل ہونا ہے اور ثقات نے اسے مرسلاً ہی روایت کیا ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں