یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب : من حبسه العذر عن الجهاد
باب: جو شخص عذر کی وجہ سے جہاد میں شریک نہ ہو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2765
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بِالْمَدِينَةِ رِجَالًا مَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا وَلَا سَلَكْتُمْ طَرِيقًا إِلَّا شَرِكُوكُمْ فِي الْأَجْرِ، حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: أَوْ كَمَا قَالَ: كَتَبْتُهُ لَفْظًا.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ تم جس وادی سے بھی گزرے، یا جس راہ پر چلے ثواب میں ہر جگہ وہ تمہارے شریک رہے، انہیں عذر نے روک رکھا تھا“۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: ایسا ہی کچھ احمد بن سنان نے کہا میں نے اسے لفظ بلفظ لکھ لیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2765]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ میں کچھ افراد ہیں، تم نے جو وادی طے کی اور جس راستے پر چلے (ان سب میں) وہ تمہارے ساتھ ثواب میں شریک رہے (کیونکہ) انہیں عذر نے (جہاد میں جانے سے) روک دیا تھا۔“ امام ابوعبداللہ ابن ماجہ رحمہ اللہ نے کہا: ”یا جس طرح شیخ (احمد بن سنان) نے کہا: میں نے اس حدیث کو ویسے ہی لفظ بلفظ لکھا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2765]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة 48 (1911)، (تحفة الأشراف: 2304)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/300) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
4932
| بالمدينة لرجالا ما سرتم مسيرا ولا قطعتم واديا إلا كانوا معكم حبسهم المرض |
سنن ابن ماجه |
2765
| بالمدينة رجالا ما قطعتم واديا ولا سلكتم طريقا إلا شركوكم في الأجر حبسهم العذر |
Sunan Ibn Majah Hadith 2765 in Urdu
طلحة بن نافع القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري