سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ: فَضْلِ الرِّبَاطِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
باب: اللہ کے راستے میں مورچہ بندی کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2766
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: خَطَبَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ النَّاسَ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي سَمِعْتُ حَدِيثًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ بِهِ إِلَّا الضِّنُّ بِكَمْ وَبِصَحَابَتِكُمْ فَلْيَخْتَرْ مُخْتَارٌ لِنَفْسِهِ أَوْ لِيَدَعْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ رَابَطَ لَيْلَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ سُبْحَانَهُ كَانَتْ كَأَلْفِ لَيْلَةٍ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا".
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں خطبہ دیا اور فرمایا: لوگو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی ہے جو میں نے تم سے صرف اس لیے نہیں بیان کی کہ میں تمہارا اور تمہارے ساتھ رہنے کا بہت حریص ہوں ۱؎، اب اس پر عمل کرنے اور نہ کرنے کا اختیار ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جس نے اللہ کے راستے میں ایک رات بھی سرحد پر پڑاؤ ڈالا، تو اسے ہزار راتوں کے صیام و قیام کے مثل ثواب ملے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2766]
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ”اے لوگو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی تھی جو تم سے صرف اس لیے بیان نہیں کی تھی کہ میں تمہیں اپنے ساتھ رکھنے کی شدید خواہش رکھتا تھا۔ اب (یہ حدیث سن کر) ہر شخص کو اختیار ہے، چاہے اپنی ذات کے لیے (اس عظیم عمل کا) انتخاب کرے یا نہ کرے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک رات محاذ پر رہتا ہے تو اسے ایک ہزار رات کے قیام و صیام کا ثواب ملتا ہے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2766]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9816، ومصباح الزجاجة: 976)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/61، 64) (ضعیف جدا)» (عبدالرحمن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں، ترمذی اور نسائی کے یہاں یہ روایت «صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا» کے بغیر موجود ہے)
وضاحت: ۱؎: کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ حدیث سنتے ہی تم جہاد کے لئے نکل جاؤ اور میں اکیلا رہ جاؤں۔
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد الرحمٰن بن زيد بن أسلم ضعيف
وللحديث شاھد ضعيف عند الحاكم (2/ 81)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 479
إسناده ضعيف
عبد الرحمٰن بن زيد بن أسلم ضعيف
وللحديث شاھد ضعيف عند الحاكم (2/ 81)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 479
حدیث نمبر: 2767
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَجْرَى عَلَيْهِ أَجْرَ عَمَلِهِ الصَّالِحِ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُ، وَأَجْرَى عَلَيْهِ رِزْقَهُ، وَأَمِنَ مِنَ الْفَتَّانِ، وَبَعَثَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ آمِنًا مِنَ الْفَزَعِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کے راستے میں «رباط» (سرحد پر پڑاؤ ڈالے ہوئے) مر جائے، تو جو وہ نیک عمل کرتا تھا اس کا ثواب اس کے لیے جاری رہے گا، جنت میں سے اس کا رزق مقرر ہو گا، قبر کے فتنہ سے محفوظ رہے گا، اور اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن ہر ڈر اور گھبراہٹ سے محفوظ اٹھائے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2767]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کی راہ میں محاذ جنگ پر جہاد کے لیے تیار ہونے کی حالت میں فوت ہوا تو وہ جو نیک عمل کرتا تھا اللہ اس کے لیے اس عمل کا ثواب جاری فرما دیتا ہے، اور اس کا رزق جاری فرما دیتا ہے، اسے آزمانے والوں (منکر نکیر) کا خوف نہیں ہوتا، اور اللہ اسے قیامت کے دن خوف سے محفوظ اٹھائے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2767]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14617، ومصباح الزجاجة: 978)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/404) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 2768
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سَمُرَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْلَى السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ صُبْحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَرِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنْ وَرَاءِ عَوْرَةِ الْمُسْلِمِينَ مُحْتَسِبًا مِنْ غَيْرِ شَهْرِ رَمَضَانَ، أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ عِبَادَةِ مِائَةِ سَنَةٍ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا، وَرِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنْ وَرَاءِ عَوْرَةِ الْمُسْلِمِينَ مُحْتَسِبًا مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، أَفْضَلُ عِنْدَ اللَّهِ وَأَعْظَمُ أَجْرًا، أُرَاهُ قَالَ: مِنْ عِبَادَةِ أَلْفِ سَنَةٍ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا، فَإِنْ رَدَّهُ اللَّهُ إِلَى أَهْلِهِ سَالِمًا لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ سَيِّئَةٌ أَلْفَ سَنَةٍ، وَتُكْتَبُ لَهُ الْحَسَنَاتُ، وَيُجْرَى لَهُ أَجْرُ الرِّبَاطِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ثواب کی نیت سے مسلمانوں کے ناکے پر (جہاں سے دشمن کے حملہ آور ہونے کا ڈر ہو) اللہ کی راہ میں سرحد پر ایک دن پڑاؤ کی حفاظت کا ثواب غیر رمضان میں سو سال کے روزوں، اور ان کے قیام اللیل صیام سے بڑھ کر ہے، اور اللہ کے راستے میں مسلمانوں کے ناکے پر ثواب کی نیت سے رمضان میں ایک دن کی سرحد کی نگرانی کا ثواب ہزار سال کے نماز سے بڑھ کر ہے، پھر اگر اللہ تعالیٰ نے اسے صحیح سالم گھر لوٹا دیا تو ایک ہزار سال تک اس کی برائیاں نہیں لکھی جائیں گی، نیکیاں لکھی جائیں گی، اور قیامت تک «رباط» کا ثواب جاری رہے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2768]
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کے سوا کسی اور مہینے میں مسلمانوں کی سرحد پر خطرے کی جگہ ایک دن ثواب کی نیت سے اللہ کی راہ میں ٹھہرنا سو سال کی عبادت، یعنی اتنے عرصے کے روزوں اور تہجد سے زیادہ ثواب کا باعث ہے۔ اور رمضان کے مہینے میں مسلمانوں کی سرحد پر خطرے کی جگہ اللہ کی راہ میں ایک دن ثواب کی نیت سے ٹھہرنا ایک ہزار سال کی عبادت، یعنی اتنے عرصے کے روزوں اور تہجد سے زیادہ ثواب کا باعث ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس (نیک عمل کے فاعل) کو صحیح سلامت اس کے گھر لے آیا تو ہزار سال تک اس کے گناہ نہیں لکھے جائیں گے اور نیکیاں لکھی جائیں گی، اور اسے قیامت تک سرحد کی رکھوالی کا ثواب ملتا رہے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2768]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 75، ومصباح الزجاجة: 979) (موضوع)» (سند میں عمر بن صبح ہے، جو وضع حدیث کرتا تھا، نیز محمد بن یعلی ضعیف راوی ہے، اور مکحول کی أبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده موضوع
عمر بن صبح: متروك كذبه ابن راھويه
ومحمد بن يعلي السلمي: ضعيف
وقال المنذري: ’’ وآثار الوضع ظاهرة عليه ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 479
إسناده موضوع
عمر بن صبح: متروك كذبه ابن راھويه
ومحمد بن يعلي السلمي: ضعيف
وقال المنذري: ’’ وآثار الوضع ظاهرة عليه ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 479