علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
79. باب : دخول الكعبة
باب: کعبہ کے اندر داخلے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3064
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِي وَهُوَ قَرِيرُ الْعَيْنِ، طَيِّبُ النَّفْسِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيَّ وَهُوَ حَزِينٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خَرَجْتَ مِنْ عِنْدِي وَأَنْتَ قَرِيرُ الْعَيْنِ، وَرَجَعْتَ وَأَنْتَ حَزِينٌ، فَقَالَ:" إِنِّي دَخَلْتُ الْكَعْبَةَ، وَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ فَعَلْتُ، إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَكُونَ أَتْعَبْتُ أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے نکلے، آپ بہت خوش اور ہشاش بشاش تھے، پھر میرے پاس واپس آئے تو آپ غمگین تھے، یہ دیکھا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا بات ہے، ابھی میرے پاس سے آپ نکلے تو آپ بہت خوش تھے، اور واپس آئے ہیں تو غمگین ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کعبہ کے اندر گیا، پھر میرے جی میں آیا کہ کاش میں نے ایسا نہ کیا ہوتا، میں ڈرتا ہوں کہ اپنے بعد میں اپنی امت کو مشقت میں نہ ڈال دوں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3064]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے باہر تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مطمئن اور خوش تھے، پھر میرے پاس واپس آئے تو غمگین تھے، میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے تشریف لے گئے تو آپ مطمئن اور خوش تھے اور واپس آئے تو آپ غمگین (اور پریشان) ہیں (اس کی وجہ کیا ہے؟)“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کعبہ کے اندر داخل ہوا تھا، اب میرا جی چاہتا ہے کہ (کاش) میں نے ایسا نہ کیا ہوتا، مجھے خدشہ ہے کہ (اپنے اس عمل کی وجہ سے) میں اپنے بعد اپنی امت کو مشقت میں مبتلا نہ کر دوں۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3064]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/المناسک 95 (2029)، سنن الترمذی/الحج 45 (873)، (تحفة الأشراف: 16230)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/137) (ضعیف)» (سند میں اسماعیل بن عبدالملک منکر راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 3346)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2029) ترمذي (873)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 486
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2029) ترمذي (873)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 486
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
873
| دخلت الكعبة ووددت أني لم أكن فعلت إني أخاف أن أكون أتعبت أمتي من بعدي |
سنن أبي داود |
2029
| دخلت الكعبة ولو استقبلت من أمري ما استدبرت ما دخلتها إني أخاف أن أكون قد شققت على أمتي |
سنن ابن ماجه |
3064
| دخلت الكعبة ووددت أني لم أكن فعلت إني أخاف أن أكون أتعبت أمتي من بعدي |
Sunan Ibn Majah Hadith 3064 in Urdu
عبد الله بن أبي مليكة القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق