سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. بَابُ: مَا عَوَّذَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا عُوِّذَ بِهِ
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (دوسروں پر) دم کی دعائیں اور آپ پر کئے جانے والے دم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3520
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا جَرِيرٌ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ أَبِي الضُّحَى , عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْمَرِيضَ فَدَعَا لَهُ , قَالَ:" أَذْهِبْ الْبَاسْ رَبَّ النَّاسْ , وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي , لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مریض کے پاس آتے تو آپ اس کے لیے دعا فرماتے، اور کہتے: «أذهب الباس رب الناس واشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» ”اے لوگوں کے رب! تو بیماری دور فرما، اور صحت عطا کر، تو ہی صحت عطا کرنے والا ہے، شفاء اور صحت وہی ہے جو تو عطا کرے، تو ایسی شفاء عطا کر کہ پھر کوئی بیماری باقی نہ رہ جائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3520]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی بیمار کے پاس تشریف لے جاتے اور اس کے لیے دعا کرتے تو فرماتے: «أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، اشْفِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» ”بیماری دور کر دے، اے لوگوں کے رب! اور شفا عطا فرما۔ تو ہی شفا دینے والا ہے۔ تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں، ایسی شفا دے کہ بیماری کو بالکل نہ رہنے دے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3520]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 84 (4437)، المرضی 19 (5675)، صحیح مسلم/السلام 19 (2191)، سنن الترمذی/الدعوات 77 (3496)، (تحفة الأشراف: 17638)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز 15 (46) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 3521
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ , عَنْ عَمْرَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ مِمَّا يَقُولُ لِلْمَرِيضِ بِبُزَاقِهِ بِإِصْبَعِهِ:" بِسْمِ اللَّهِ تُرْبَةُ أَرْضِنَا بِرِيقَةِ بَعْضِنَا , لِيُشْفَى سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی میں تھوک لگا کر بیمار کے لیے یوں کہتے: «بسم الله بتربة أرضنا بريقة بعضنا ليشفى سقيمنا بإذن ربنا» ”اللہ کے نام سے، ہماری زمین کی مٹی سے، ہم میں سے بعض کے لعاب سے ملی ہوئی ہے تاکہ ہمارا مریض ہمارے رب کے حکم سے شفاء پا جائے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3521]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مریض کی شفا یابی کے لیے انگلی پر لعاب دہن لگا کر یوں فرماتے تھے: «بِسْمِ اللّٰهِ، تُرْبَةُ أَرْضِنَا، بِرِيقَةِ بَعْضِنَا، يُشْفَى سَقِيمُنَا، بِإِذْنِ رَبِّنَا» ”اللہ کے نام سے، ہماری زمین کی مٹی، ہم میں سے بعض کے لعاب دہن سے مل کر، ہمارے رب کے حکم سے، ہمارے مریض کی شفا یابی کا ذریعہ ہوگی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3521]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطب 38 (5745، 5746)، صحیح مسلم/السلام 21 (2194)، سنن ابی داود/الطب 19 (3895)، (تحفة الأشراف: 17906)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/93) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دم کو پڑھتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کلمہ شہادت کی انگلی پر تھوکتے اور اس کو مٹی سے لگا کر بیمار کے بدن پر یا بیماری کے مقام پر ملتے، اور یہ دم پڑھتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3522
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ , عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ , أَنَّهُ قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِي وَجَعٌ قَدْ كَادَ يُبْطِلُنِي , فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْعَلْ يَدَكَ الْيُمْنَى عَلَيْهِ , وَقُلْ: بِسْمِ اللَّهِ , أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ" , سَبْعَ مَرَّاتٍ , فَقُلْتُ ذَلِكَ: فَشَفَانِيَ اللَّهُ.
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، مجھے ایسا درد تھا کہ لگ رہا تھا وہ مجھے ہلاک کر دے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اپنا دایاں ہاتھ اس پر رکھ کر «أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد وأحاذر» ”اللہ کے نام سے میں اللہ تعالیٰ کی عزت اور اس کی قدرت کی پناہ مانگتا ہوں اس تکلیف کے شر سے جو میں محسوس کرتا ہوں اور جس سے ڈرتا ہوں“ سات مرتبہ پڑھو“، میں نے یہ دعا پڑھی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے شفاء عطا کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3522]
حضرت عثمان بن ابو العاص ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ مجھے اتنا (شدید) درد ہو رہا تھا کہ میں مرا جا رہا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اپنا دایاں ہاتھ درد کے مقام پر رکھ کر سات بار کہو: «بِسْمِ اللّٰهِ، أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللّٰهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ» ”اللہ کے نام سے، میں اللہ کی عظمت و قدرت کی پناہ میں آتا ہوں اس برائی سے جو میں پاتا ہوں اور جس سے ڈرتا ہوں۔“ میں نے یہ دعا (اس طرح) پڑھی تو اللہ تعالیٰ نے شفا دے دی۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3522]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/السلام 24 (2202)، سنن ابی داود/الطب 19 (3891)، سنن الترمذی/الطب 29 (2080)، (تحفة الأشراف: 9774)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العین 4 (9)، مسند احمد (4/21، 217) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3523
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ , عَنْ أَبِي نَضْرَةَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , أَنَّ جِبْرَائِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ , اشْتَكَيْتَ؟ قَالَ:" نَعَمْ" , قَالَ:" بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ , مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَيْنٍ أَوْ حَاسِدٍ , اللَّهُ يَشْفِيكَ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اے محمد! کیا آپ بیمار ہو گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کیا: ”ہاں“، جبرائیل علیہ السلام نے کہا: «بسم الله أرقيك من كل شيء يؤذيك من شر كل نفس أو عين أو حاسد الله يشفيك بسم الله أرقيك» اللہ کے نام سے میں آپ پر دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت پہنچائے، ہر جاندار، نظر بند، اور حاسد کے شر سے، اللہ تعالیٰ آپ کو شفاء دے، میں اللہ کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3523]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جبریل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تشریف لائے اور فرمایا: ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ بیمار ہو گئے ہیں؟“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ جبریل علیہ السلام نے فرمایا: «بِسْمِ اللّٰهِ أَرْقِيكَ، مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَيْنِ حَاسِدٍ، اللّٰهُ يَشْفِيكَ، بِسْمِ اللّٰهِ أَرْقِيكَ» ”میں آپ کو اللہ کے نام سے دم کرتا ہوں، آپ کو تکلیف دینے والی ہر چیز سے، ہر جان یا آنکھ یا حاسد کے شر سے، اللہ آپ کو شفا دے، میں آپ کو اللہ کے نام سے دم کرتا ہوں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3523]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/السلام 16 (2186)، سنن الترمذی/الجنائز4 (972)، (تحفة الأشراف: 4363)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/28، 56، 58، 75) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3524
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ زِيَادِ بْنِ ثُوَيْبٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي , فَقَالَ لِي:" أَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةٍ جَاءَنِي بِهَا جِبْرَائِيلُ؟ قُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي , بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ , وَاللَّهُ يَشْفِيكَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ فِيكَ , مِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ , وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے، تو آپ نے مجھ سے فرمایا: ”کیا میں تم پر وہ دم نہ کروں جو میرے پاس جبرائیل لے کر آئے؟“، میں نے عرض کیا: ضرور یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار یہ پڑھا: «بسم الله أرقيك والله يشفيك من كل داء فيك من شر النفاثات في العقد ومن شر حاسد إذا حسد» ”اللہ کے نام سے میں تم پر دم کرتا ہوں، اللہ ہی تمہیں شفاء دے گا، تمہارے ہر مرض سے، گرہوں پر پھونکنے والیوں کے شر سے، اور حاسد کے حسد سے جب وہ حسد کرے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3524]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے اور مجھ سے فرمایا: ”کیا میں تجھے وہ دم نہ کروں جو میرے پاس جبریل علیہ السلام لائے ہیں؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: «بِسْمِ اللّٰهِ أَرْقِيْكَ، وَاللّٰهُ يَشْفِيْكَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ يُؤْذِيْكَ، وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِي الْعُقَدِ، وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ» ”اللہ کے نام سے تجھے دم کرتا ہوں، اور اللہ تجھے شفا دے گا تجھ میں موجود ہر بیماری سے، گرہوں میں پھونکیں مارنے والیوں کے شر سے اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3524]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12901، ومصباح الزجاجة: 1229)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/446) (ضعیف)» (عاصم بن عبید اللہ ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عاصم بن عبيد اللّٰه: ضعيف
ولبعض الحديث شواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 504
إسناده ضعيف
عاصم بن عبيد اللّٰه: ضعيف
ولبعض الحديث شواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 504
حدیث نمبر: 3525
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ هِشَامٍ الْبَغْدَادِيُّ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ مِنْهَالٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ , يَقُولُ:" أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ , وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ" , قَالَ:" وَكَانَ أَبُونَا إِبْرَاهِيمُ يُعَوِّذُ بِهَا إِسْمَاعِيل وَإِسْحَاق" أَوْ قَالَ: إِسْمَاعِيل وَيَعْقُوبَ , وَهَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حسن اور حسین (رضی اللہ عنہما) پر دم فرماتے تو کہتے: «أعوذ بكلمات الله التامة من كل شيطان وهامة ومن كل عين لامة» ”میں اللہ کے مکمل کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتا ہوں ہر شیطان سے، ہر زہریلے کیڑے (سانپ، بچھو وغیرہ) اور ہر نظر بد والی آ نکھ سے“، اور فرماتے: ”ہمارے والد ابراہیم علیہ السلام بھی اسی کے ذریعہ اسماعیل و اسحاق علیہما السلام پر دم فرماتے تھے“ یا کہا: ”اسماعیل اور یعقوب علیہما السلام پر“۔ یہ حدیث وکیع کی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3525]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کو دم کرتے تو یوں فرماتے تھے: «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ» ”میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں، ہر شیطان سے اور کیڑے مکوڑے سے اور ہر دیوانہ کردینے والی آنکھ سے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے جدِ امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام یہ دعا پڑھ کر حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق کو“ یا فرمایا: ”حضرت اسماعیل اور حضرت یعقوب کو دم کیا کرتے تھے۔“ اور یہ حدیث امام وکیع رحمہ اللہ کی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3525]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأنبیاء 10 (3371)، سنن ابی داود/السنة 22 (4737)، سنن الترمذی/الطب 18 (2060)، (تحفة الأشراف: 5627)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/236، 270) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري