🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. باب : ما عوذ به النبي صلى الله عليه وسلم وما عوذ به
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (دوسروں پر) دم کی دعائیں اور آپ پر کئے جانے والے دم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3522
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ , عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ , أَنَّهُ قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِي وَجَعٌ قَدْ كَادَ يُبْطِلُنِي , فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْعَلْ يَدَكَ الْيُمْنَى عَلَيْهِ , وَقُلْ: بِسْمِ اللَّهِ , أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ" , سَبْعَ مَرَّاتٍ , فَقُلْتُ ذَلِكَ: فَشَفَانِيَ اللَّهُ.
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، مجھے ایسا درد تھا کہ لگ رہا تھا وہ مجھے ہلاک کر دے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اپنا دایاں ہاتھ اس پر رکھ کر «أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد وأحاذر» اللہ کے نام سے میں اللہ تعالیٰ کی عزت اور اس کی قدرت کی پناہ مانگتا ہوں اس تکلیف کے شر سے جو میں محسوس کرتا ہوں اور جس سے ڈرتا ہوں سات مرتبہ پڑھو، میں نے یہ دعا پڑھی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے شفاء عطا کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3522]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/السلام 24 (2202)، سنن ابی داود/الطب 19 (3891)، سنن الترمذی/الطب 29 (2080)، (تحفة الأشراف: 9774)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العین 4 (9)، مسند احمد (4/21، 217) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عثمان بن أبي العاص الثقفي، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥نافع بن جبير النوفلي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newنافع بن جبير النوفلي ← عثمان بن أبي العاص الثقفي
ثقة فاضل
👤←👥عمرو بن عبد الله الأنصاري
Newعمرو بن عبد الله الأنصاري ← نافع بن جبير النوفلي
ثقة
👤←👥يزيد بن خصيفة الكندي
Newيزيد بن خصيفة الكندي ← عمرو بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥زهير بن محمد التميمي، أبو المنذر
Newزهير بن محمد التميمي ← يزيد بن خصيفة الكندي
صدوق حسن الحديث
👤←👥يحيى بن أبي بكير القيسي، أبو زكريا
Newيحيى بن أبي بكير القيسي ← زهير بن محمد التميمي
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← يحيى بن أبي بكير القيسي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
5737
أعوذ بالله وقدرته من شر ما أجد
جامع الترمذي
2080
أعوذ بعزة الله وقوته وسلطانه من شر ما أجد
سنن أبي داود
3891
أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد
سنن ابن ماجه
3522
أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3522 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3522
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
انسان خود بھی مسنون دعایئں پڑھ کر اپنے آپ کو دم کرسکتاہے۔

(2)
صحیح مسلم کی روایت میں بسم اللہ تین بار اور مذکورہ دعا سات بار پڑھنے کا ذکر ہے۔ (صحیح مسلم، السلام، باب استحباب وضع یدہ علی موضع الألم مع الدعاء، حدیث: 2202)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3522]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5737
حضرت عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ جب سے وہ اسلام لائے ہیں، ان کے جسم میں درد رہتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: جسم کے جس حصہ میں درد پاتے ہو، وہاں اپنا ہاتھ رکھ کر، تین دفعہ بسم اللہ کہو اور سات بار کہو، میں اللہ کی ذات اور اس کی قدرت کی پناہ میں آتا ہوں، دم کرتے وقت، اس شر سے جو میں پاتا ہوں اور جس سے میں ڈرتا ہوں۔... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5737]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
دم کرتے وقت،
درد اور تکلیف کی جگہ صرف ہاتھ رکھنا چاہیے اور اگر سارے جسم میں درد ہو تو ہاتھ پھیرنا چاہیے،
تاکہ مریض نفسیاتی طور پر بھی متاثر ہو۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5737]