🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. بَابُ: مَا يَكُونُ مِنَ الْفِتَنِ
باب: (امت محمدیہ میں) ہونے والے فتنوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3951
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ رَجَاءٍ الْأَنْصَارِيِّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا صَلَاةً فَأَطَالَ فِيهَا , فَلَمَّا انْصَرَفَ , قُلْنَا: أَوْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَطَلْتَ الْيَوْمَ الصَّلَاةَ , قَالَ:" إِنِّي صَلَّيْتُ صَلَاةَ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ , سَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لِأُمَّتِي ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ , وَرَدَّ عَلَيَّ وَاحِدَةً , سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ فَأَعْطَانِيهَا , وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَهُمْ غَرَقًا فَأَعْطَانِيهَا , وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَرَدَّهَا عَلَيَّ".
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن بہت لمبی نماز پڑھائی، پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے (یا لوگوں نے) عرض کیا: اللہ کے رسول! آج تو آپ نے نماز بہت لمبی پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، آج میں نے رغبت اور خوف والی نماز ادا کی، میں نے اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کے لیے تین باتیں طلب کیں جن میں سے اللہ تعالیٰ نے دو عطا فرما دیں اور ایک قبول نہ فرمائی، میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ طلب کیا تھا کہ میری امت پر اغیار میں سے کوئی دشمن مسلط نہ ہو، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اسے دیا، دوسری چیز میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ طلب کی تھی کہ میری امت کو غرق کر کے ہلاک نہ کیا جائے، اللہ تعالیٰ نے اسے بھی مجھے دیا، تیسری یہ دعا کی تھی کہ میری امت آپس میں جنگ و جدال نہ کرے، تو اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول نہ فرمائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3951]
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور اسے بہت طویل فرمایا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آج آپ نے بہت لمبی نماز ادا کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے طلب اور خوف والی نماز ادا کی ہے۔ میں نے اللہ سے اپنی امت کے لیے تین چیزوں کی درخواست کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے دو چیزیں عطا فرما دیں اور ایک سوال قبول نہیں فرمایا۔ میں نے یہ درخواست کی تھی کہ ان پر ان کے سوا دوسرے (غیر مسلم) دشمن مسلط نہ ہوں۔ اللہ نے مجھے یہ چیز عطا فرما دی۔ اور میں نے اللہ سے یہ درخواست کی کہ انہیں غرق کر کے ہلاک نہ کرے۔ اللہ نے مجھے یہ چیز بھی عطا فرما دی۔ اور میں نے اس سے یہ سوال کیا کہ ان کی جنگ آپس میں ایک دوسرے سے نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے میری یہ درخواست قبول نہیں فرمائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3951]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11326، ومصباح الزجاجة: 1388)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/240) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: 406)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3952
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ , عَنْ قَتَادَةَ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ , عَنْ أَبِي قِلَابَةَ الْجَرْمِيِّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ , عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" زُوِيَتْ لِي الْأَرْضُ حَتَّى رَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا , وَأُعْطِيتُ الْكَنْزَيْنِ الْأَصْفَرَ أَوِ الْأَحْمَرَ , وَالْأَبْيَضَ يَعْنِي: الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ , وَقِيلَ لِي: إِنَّ مُلْكَكَ إِلَى حَيْثُ زُوِيَ لَكَ , وَإِنِّي سَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا: أَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَى أُمَّتِي جُوعًا فَيُهْلِكَهُمْ بِهِ عَامَّةً , وَأَنْ لَا يَلْبِسَهُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ , وَإِنَّهُ قِيلَ لِي إِذَا قَضَيْتُ قَضَاءً فَلَا مَرَدَّ لَهُ , وَإِنِّي لَنْ أُسَلِّطَ عَلَى أُمَّتِكَ جُوعًا فَيُهْلِكَهُمْ فِيهِ , وَلَنْ أَجْمَعَ عَلَيْهِمْ مِنْ بَيْنَ أَقْطَارِهَا حَتَّى يُفْنِيَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا وَيَقْتُلَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا , وَإِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي فَلَنْ يُرْفَعَ عَنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ , وَإِنَّ مِمَّا أَتَخَوَّفُ عَلَى أُمَّتِي أَئِمَّةً مُضِلِّينَ , وَسَتَعْبُدُ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي الْأَوْثَانَ , وَسَتَلْحَقُ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي بِالْمُشْرِكِينَ , وَإِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ دَجَّالِينَ كَذَّابِينَ قَرِيبًا مِنْ ثَلَاثِينَ , كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ , وَلَنْ تَزَالَ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ مَنْصُورِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ , حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" , قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: لَمَّا فَرَغَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ , قَالَ: مَا أَهْوَلَهُ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے زمین سمیٹ دی گئی حتیٰ کہ میں نے اس کے مشرق اور مغرب کو دیکھ لیا، پھر اس کے دونوں خزانے زرد یا سرخ اور سفید (یعنی سونا اور چاندی بھی) مجھے دئیے گئے ۱؎ اور مجھ سے کہا گیا کہ تمہاری (امت کی) حکومت وہاں تک ہو گی جہاں تک زمین تمہارے لیے سمیٹی گئی ہے، اور میں نے اللہ تعالیٰ سے تین باتوں کا سوال کیا: پہلی یہ کہ میری امت قحط (سوکھے) میں مبتلا ہو کر پوری کی پوری ہلاک نہ ہو، دوسری یہ کہ انہیں ٹکڑے ٹکڑے نہ کر، تیسری یہ کہ آپس میں ایک کو دوسرے سے نہ لڑا، تو مجھ سے کہا گیا کہ میں جب کوئی حکم نافذ کر دیتا ہوں تو وہ واپس نہیں ہو سکتا، بیشک میں تمہاری امت کو قحط سے ہلاک نہ کروں گا، اور میں زمین کے تمام کناروں سے سارے مخالفین کو (ایک وقت میں) ان پر جمع نہ کروں گا جب تک کہ وہ خود آپس میں اختلاف و لڑائی اور ایک دوسرے کو مٹانے اور قتل نہ کرنے لگیں، لیکن جب میری امت میں تلوار چل پڑے گی تو وہ قیامت تک نہ رکے گی، مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ خوف گمراہ سربراہوں کا ہے، عنقریب میری امت کے بعض قبائل بتوں کی پرستش کریں گے، اور عنقریب میری امت کے بعض قبیلے مشرکوں سے مل جائیں گے، اور قیامت کے قریب تقریباً تیس جھوٹے دجال پیدا ہوں گے جن میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہو گا کہ وہ اللہ کا نبی ہے، اور میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا، اور ہمیشہ ان کی مدد ہوتی رہے گی، اور جو کوئی ان کا مخالف ہو گا وہ ان کو کوئی ضرور نقصان نہیں پہنچا سکے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آ جائے ۲؎۔ ابوالحسن ابن القطان کہتے ہیں: جب ابوعبداللہ (یعنی امام ابن ماجہ) اس حدیث کو بیان کر کے فارغ ہوئے تو فرمایا: یہ حدیث کتنی ہولناک ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3952]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے زمین سمیٹی گئی تھی حتی کہ میں نے اس کے مشرق اور مغرب دیکھ لیے، اور مجھے دو خزانے دیے گئے: زرد یا سرخ (سونا) بھی اور سفید (چاندی) بھی، اور مجھے کہا گیا: آپ کی سلطنت وہاں تک ہو گی جہاں تک آپ کے لیے زمین سمیٹی گئی ہے۔ اور میں نے اللہ عزوجل سے تین درخواستیں کیں: (ایک) یہ کہ میری امت پر بھوک (اور قحط) مسلط نہ کرے جس سے ان کی اکثریت ہلاک ہو جائے، (دوسری یہ کہ میری امت پر بیرونی دشمن مسلط ہو کر انہیں ملیا میٹ نہ کر دے، اور تیسری) یہ کہ ان کو گروہ گروہ کر کے باہمی جنگ میں مبتلا نہ کرے۔ مجھے فرمایا گیا: اے محمد! میں جب کوئی فیصلہ کر لیتا ہوں تو اسے رد نہیں کیا جا سکتا۔ میں آپ کی امت پر ایسی بھوک مسلط نہیں کروں گا جو انہیں ہلاک کر دے، اور میں ان کے خلاف دنیا کے کناروں کے درمیان (رہنے والے) سب (دشمنوں) کو جمع نہیں کروں گا بلکہ وہ ایک دوسرے کو تباہ کریں گے اور ایک دوسرے کو قتل کریں گے۔ اور جب میری امت میں تلوار چل پڑی تو پھر قیامت تک اٹھائی نہیں جائے گی (ہمیشہ چلتی رہے گی۔) مجھے اپنی امت کے بارے میں (سب سے زیادہ) گمراہ کرنے والے لیڈروں کا خوف ہے۔ میری امت کے کچھ قبیلے «الْأَوْثَانَ» بتوں کی پوجا کریں گے اور میری امت کے کچھ قبائل مشرکوں سے مل جائیں گے۔ قیامت سے پہلے تیس کے قریب جھوٹے دجال ہوں گے، ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے۔ میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی، ان کی مدد کی جائے گی، ان کے مخالف انہیں نقصان نہیں پہنچا سکیں گے حتی کہ اللہ کا حکم آ جائے گا۔ امام ابن ماجہ کے شاگرد ابوالحسن قطان رحمہ اللہ نے کہا: جب امام ابو عبداللہ (ابن ماجہ رحمہ اللہ) یہ حدیث سنا کر فارغ ہوئے تو فرمایا: کس قدر خوف زدہ کرنے والی حدیث ہے! [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3952]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة 53 (1920)، الفتن 5 (2889) إلی قولہ: ''بعضھم بعضاً'' مع فقرة الطائفة المنصورة، سنن ابی داود/الفتن 1 (4252)، سنن الترمذی/الفتن 14 (2176)، (تحفة الأشراف: 2100)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/278، 284)، سنن الدارمی/المقدمة 22 (205) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس سے روم و ایران کے خزانے مرادہیں۔
۲؎: یعنی قیامت قائم ہو، اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کھلا معجزہ ہے، آپ نے فرمایا: مجھ کو زمین کے پورب اور پچھم دکھلائے گئے اور ایسا ہی ہوا کہ اسلام پورب یعنی ترکستان اور تاتار کی ولایت سے لے کر پچھم یعنی اندلس اور بربر تک جا پہنچا لیکن اتری اور دکھنی علاقوں میں اسلام کا رواج نہیں ہوا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3953
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ , عَنْ حَبِيبَةَ , عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ , عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ , أَنَّهَا قَالَتْ: اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَوْمِهِ وَهُوَ مُحْمَرٌّ وَجْهُهُ , وَهُوَ يَقُولُ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ , فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ , وَمَأْجُوجَ" وَعَقَدَ بِيَدَيْهِ عَشَرَةً , قَالَتْ زَيْنَبُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ , قَالَ:" إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ".
ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے تو آپ کا مبارک چہرہ سرخ تھا، اور آپ فرما رہے تھے: «لا إله إلا الله» عرب کے لیے تباہی ہے اس فتنے سے جو قریب آ گیا ہے، آج یاجوج و ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کی انگلیوں سے دس کی گرہ بنائی ۱؎، زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے؟ حالانکہ ہم میں اچھے لوگ بھی موجود ہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جب معصیت (برائی) عام ہو جائے گی ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3953]
ام المؤمنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک دن) نیند سے بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں۔ «وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ» عربوں کی تباہی ہے اس شر کی وجہ سے جو قریب ہے۔ «فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هٰذِهِ» آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا رخنہ پیدا ہو گیا ہے۔ اور (یہ فرماتے ہوئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھوں سے دس کا اشارہ فرمایا۔ ام المؤمنین حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم تباہ ہو جائیں گے جب کہ ہمارے اندر نیک لوگ بھی موجود ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «نَعَمْ، إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ» (ہاں) جب برائی زیادہ ہو جائے گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3953]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 6 (3346)، صحیح مسلم/الفتن 1 (2880)، سنن الترمذی/الفتن 23 (2187)، (تحفة الأشراف: 15880)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/428، 439) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: دس کی گرہ یہ ہے کہ شہادت کی انگلی کے سرے کو انگوٹھے کے پہلے موڑپر رکھ کردائرہ بنایا جائے۔
۲؎: تو نیک لوگوں کے ہوتے ہوئے بھی عذاب آئے گا، یاجوج اور ماجوج دو قومیں ہیں، جو قیامت کے قریب نکلیں گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3954
حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعِيدٍ الرَّمْلِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي السَّائِبِ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَتَكُونُ فِتَنٌ يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا , إِلَّا مَنْ أَحْيَاهُ اللَّهُ بِالْعِلْمِ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب کئی فتنے ظاہر ہوں گے، جن میں آدمی صبح کو مومن ہو گا، اور شام کو کافر ہو جائے گا مگر جسے اللہ تعالیٰ علم کے ذریعہ زندہ رکھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3954]
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مستقبل میں) ایسے فتنے برپا ہوں گے جن میں آدمی صبح کو مومن ہو گا تو شام کو کافر ہو جائے گا (اور شام کو مومن ہو گا تو صبح کو کافر ہو جائے گا)، مگر جسے اللہ علم کے ذریعے سے زندہ رکھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3954]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4916، ومصباح الزجاجة: 1389)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/المقدمة 32 (350) (ضعیف جداً)» ‏‏‏‏ (سند میں علی بن یزید منکر الحدیث اور متروک ہے، علم کے جملہ کے بغیر اصل متن صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 3696)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا وهو صحيح دون جملة العلم
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
علي بن يزيد: ضعيف
وأصل الحديث صحيح بالشواهد دون قوله: ’’ إلا من أحياه اﷲ بالعلم‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 517

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3955
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ شَقِيقٍ , عَنْ حُذَيْفَةَ , قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عُمَرَ , فَقَالَ: أَيُّكُمْ يَحْفَظُ حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ , قَالَ حُذَيْفَةُ: فَقُلْتُ: أَنَا , قَالَ: إِنَّكَ لَجَرِيءٌ , قَالَ: كَيْفَ؟ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ , تُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ وَالصِّيَامُ وَالصَّدَقَةُ , وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ , وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ" , فَقَالَ عُمَرُ: لَيْسَ هَذَا أُرِيدُ , إِنَّمَا أُرِيدُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ , فَقَالَ: مَا لَكَ وَلَهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ , إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا , قَالَ: فَيُكْسَرُ الْبَابُ أَوْ يُفْتَحُ , قَالَ: لَا بَلْ يُكْسَرُ , قَالَ: ذَاكَ أَجْدَرُ أَنْ لَا يُغْلَقَ , قُلْنَا لِحُذَيْفَةَ: أَكَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ مَنِ الْبَابُ , قَالَ: نَعَمْ , كَمَا يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ اللَّيْلَةَ , إِنِّي حَدَّثْتُهُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالْأَغَالِيطِ , فَهِبْنَا أَنْ نَسْأَلَهُ مَنِ الْبَابُ فَقُلْنَا لِمَسْرُوقٍ: سَلْهُ فَسَأَلَهُ , فَقَالَ: عُمَرُ.
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں آپ نے کہا کہ تم میں سے کس کو فتنہ کے باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث یاد ہے؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: مجھ کو یاد ہے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم بڑے جری اور نڈر ہو، پھر بولے: وہ (حدیث) کیسے ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: آدمی کے لیے جو فتنہ اس کے اہل و عیال، اولاد اور پڑوسی میں ہوتا ہے اسے نماز، روزہ، صدقہ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر مٹا دیتے ہیں، (یہ سن کر) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میری یہ مراد نہیں ہے، بلکہ میری مراد وہ فتنہ ہے جو سمندر کی موج کی طرح امنڈ آئے گا، انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! آپ کو اس فتنے سے کیا سروکار، آپ کے اور اس فتنہ کے درمیان تو ایک بند دروازہ ہے، تو انہوں نے پوچھا: کیا وہ دروازہ توڑا جائے گا یا کھولا جائے گا، حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں ؛ بلکہ وہ توڑ دیا جائے گا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر وہ کبھی بند ہونے کے قابل نہ رہے گا ۱؎۔ ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ ہم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا عمر رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ وہ دروازہ کون ہے؟ جواب دیا: ہاں، وہ ایسے ہی جانتے تھے جیسے یہ جانتے ہیں کہ کل سے پہلے رات ہے، میں نے ان سے ایک ایسی حدیث بیان کی تھی جس میں کوئی دھوکا جھوٹ اور مغالطہٰ نہ تھا، پھر ہمیں خوف محسوس ہوا کہ ہم حذیفہ رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کریں کہ اس دروازے سے کون شخص مراد ہے؟ پھر ہم نے مسروق سے کہا: تم ان سے پوچھو، انہوں نے پوچھا تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ دروازہ خود عمر رضی اللہ عنہ ہیں (جن کی ذات تمام بلاؤں اور فتنوں کی روک تھی)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3955]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے کہ انہوں نے فرمایا: تم میں سے کسی کو فتنے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث یاد ہے؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: مجھے یاد ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم جرأت مند ہو۔ پھر فرمایا: (وہ حدیث) کس طرح ہے؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: آدمی کو اس کے اہل و عیال اور پڑوسیوں کے بارے میں جو آزمائش آتی ہے، اس کی معافی نماز، روزے، صدقے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے ہو جاتی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرا یہ مقصد نہیں۔ (اس سوال سے) میرا مقصد وہ فتنہ ہے جو سمندر کی طرح تلاطم خیز ہو گا۔ انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! آپ کو اس سے کیا خطرہ ہے؟ آپ کے اور اس (فتنے) کے درمیان تو ایک بند دروازہ ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ دروازہ ٹوٹ جائے گا یا کھل جائے گا؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، بلکہ ٹوٹ جائے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ وہ (دوبارہ) بند نہیں ہو گا۔ حضرت شقیق رحمہ اللہ نے بیان کیا: ہم لوگوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم تھا کہ وہ دروازہ کون ہے؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں، (انہیں اس قدر یقینی معلوم تھا) جیسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کل کا دن آنے سے پہلے رات آئے گی۔ میں نے انہیں ایک حدیث سنائی تھی جو «أُغْلُوطَةً» غلط سلط (اغلوطہ اور من گھڑت) نہیں تھی۔ (حضرت شقیق رحمہ اللہ نے کہا:) ہمیں ان سے یہ پوچھتے ہوئے خوف محسوس ہوا کہ وہ دروازہ کون تھا؟ (کہیں مسلسل سوالات سے ناراضی محسوس نہ کریں) چنانچہ ہم نے حضرت مسروق رحمہ اللہ سے کہا: ان سے یہ بات پوچھنا۔ حضرت مسروق رحمہ اللہ نے ان سے پوچھا (کہ فتنوں میں رکاوٹ شخصیت کون ہے؟) تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3955]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 4 (525)، صحیح مسلم/الإیمان 65 (144)، سنن الترمذی/الفتن 71 (2258)، (تحفة الأشراف: 3337)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/401) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: حذیفہ رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ شہید کر دیئے جائیں گے اور آپ کی شہادت سے فتنوں کا دروازہ ایسا کھلے گا کہ قیامت تک بند نہیں ہو گا، بلاشبہ ایسا ہی ہوا آپ کی رحلت کے بعد طرح طرح کے فتنے رونما ہوئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3956
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ , ووكيع , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ , قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ , وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ , وَالنَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَيْهِ , فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ , إِذْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُ خِبَاءَهُ , وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ , وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي جَشَرِهِ , إِذْ نَادَى مُنَادِيهِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ فَاجْتَمَعْنَا , فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَخَطَبَنَا فَقَالَ:" إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي , إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ يَدُلَّ أُمَّتَهُ عَلَى مَا يَعْلَمُهُ خَيْرًا لَهُمْ , وَيُنْذِرَهُمْ مَا يَعْلَمُهُ شَرًّا لَهُمْ , وَإِنَّ أُمَّتَكُمْ هَذِهِ جُعِلَتْ عَافِيَتُهَا فِي أَوَّلِهَا , وَإِنَّ آخِرَهُمْ يُصِيبُهُمْ بَلَاءٌ وَأُمُورٌ يُنْكِرُونَهَا , ثُمَّ تَجِيءُ فِتَنٌ يُرَقِّقُ بَعْضُهَا بَعْضًا , فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ: هَذِهِ مُهْلِكَتِي ثُمَّ تَنْكَشِفُ , ثُمَّ تَجِيءُ فِتْنَةٌ , فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ: هَذِهِ مُهْلِكَتِي ثُمَّ تَنْكَشِفُ , فَمَنْ سَرَّهُ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ وَيُدْخَلَ الْجَنَّةَ , فَلْتُدْرِكْهُ مَوْتَتُهُ وَهُوَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ , وَلْيَأْتِ إِلَى النَّاسِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يَأْتُوا إِلَيْهِ , وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَمِينِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ مَا اسْتَطَاعَ , فَإِنْ جَاءَ آخَرُ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرِ" , قَالَ: فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي مِنْ بَيْنِ النَّاسِ , فَقُلْتُ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى أُذُنَيْهِ , فَقَالَ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي.
عبدالرحمٰن بن عبدرب الکعبہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کے پاس پہنچا، وہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے تھے، اور لوگ ان کے پاس جمع تھے، تو میں نے ان کو کہتے سنا: اس دوران کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، آپ نے ایک جگہ قیام کیا، تو ہم میں سے کوئی خیمہ لگا رہا تھا، کوئی تیر چلا رہا تھا، اور کوئی اپنے جانور چرانے لے گیا، اتنے میں ایک منادی نے آواز لگائی کہ لوگو! نماز کے لیے جمع ہو جاؤ، تو ہم نماز کے لیے جمع ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر ہمیں خطبہ دیا، اور فرمایا: مجھ سے پہلے جتنے بھی نبی گزرے ہیں ان پر ضروری تھا کہ وہ اپنی امت کی ان باتوں کی طرف رہنمائی کریں جن کو وہ ان کے لیے بہتر جانتے ہوں، اور انہیں ان چیزوں سے ڈرائیں جن کو وہ ان کے لیے بری جانتے ہوں، اور تمہاری اس امت کی سلامتی اس کے شروع حصے میں ہے، اور اس کے اخیر حصے کو بلا و مصیبت لاحق ہو گی، اور ایسے امور ہوں گے جن کو تم برا جانو گے، پھر ایسے فتنے آئیں گے کہ ایک کے سامنے دوسرا ہلکا محسوس ہو گا، مومن کہے گا: اس فتنے میں میری تباہی ہے، پھر وہ فتنہ ختم ہو جائے گا، اور دوسرا فتنہ آئے گا، مومن کہے گا: اس میں میری تباہی ہے پھر وہ بھی ختم ہو جائے گا، تو جسے یہ بات پسند ہو کہ وہ جہنم سے بچا لیا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے تو وہ کوشش کرے کہ اس کی موت اس حالت میں آئے کہ وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اور لوگوں کے ساتھ وہ سلوک کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہو کہ لوگ اس کے ساتھ کریں، اور جو شخص کسی امام سے بیعت کرے، اور اس کو اپنی قسم کا ہاتھ دے کر دل سے سچا عہد کرے تو اب جہاں تک ہو سکے اس کی اطاعت کرے، اگر کوئی دوسرا امام آ کر اس سے لڑنے جھگڑنے لگے (اور اپنے سے بیعت کرنے کو کہے) تو اس دوسرے امام کی گردن مار دے۔ عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے (یہ سن کر) اپنا سر لوگوں میں سے نکال کر کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: کیا آپ نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے اپنے کانوں کی جانب اشارہ کر کے کہا: میرے کانوں نے اسے سنا اور میرے دل نے اسے یاد رکھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3956]
حضرت عبدالرحمٰن بن عبد رب الکعبہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا جب کہ آپ کعبے کے سائے میں بیٹھے تھے اور لوگ آپ کے پاس جمع تھے۔ میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک منزل پر اترے، ہم میں سے کوئی خیمہ لگا رہا تھا، کوئی (تفریح کے طور پر) تیر اندازی کر رہا تھا اور کوئی اپنے مویشیوں کی دیکھ بھال میں مصروف تھا۔ اچانک (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے) اعلان کرنے والے نے اعلان کیا: «الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ» سب لوگ نماز کے لیے جمع ہو جائیں۔ ہم سب جمع ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (نماز کے بعد) اٹھ کر خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے پہلے جو بھی نبی آیا، اس کا فرض تھا کہ اسے جو بھلائی معلوم ہے اس کی طرف اپنی امت کی رہنمائی کرے اور جس برائی کا اسے علم ہے اس سے انہیں ڈرائے۔ اس امت کی عافیت اس کے پہلے حصے میں ہے اور آخر والوں کو ایسی آزمائشیں آئیں گی اور ایسے معاملات پیش آئیں گے جن کو تم عجیب محسوس کرو گے، پھر فتنے پیش آئیں گے جو ایک دوسرے کو معمولی بنا دیں گے۔ (بعد والا فتنہ دیکھ کر معلوم ہو گا کہ اس سے تو پہلا ہی ہلکا تھا۔) مومن کہے گا: یہ فتنہ مجھے تباہ کر دے گا۔ پھر وہ (فتنہ) ختم ہو جائے گا۔ پھر (دوسرا) فتنہ آئے گا تو مومن کہے گا: یہ مجھے تباہ کر دے گا۔ پھر وہ ختم ہو جائے گا، لہٰذا جسے یہ بات پسند ہے کہ وہ جہنم سے بچ جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے، اسے چاہیے کہ اسے موت آئے تو وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور لوگوں سے ایسا سلوک کرے جیسا وہ چاہتا ہے کہ لوگ اس سے کریں۔ اور جس نے کسی (شرعی) امام کی بیعت کی، اس سے ہاتھ ملا کر عہد کیا اور اس کو اپنے دل کا خلوص پیش کیا تو اسے چاہیے کہ جہاں تک ممکن ہو اس کی اطاعت کرے۔ اگر کوئی دوسرا شخص آ کر اس (خلیفہ) سے کھینچا تانی کرے (اس سے حکومت چھیننے کی کوشش کرے) تو اس دوسرے (مدعی خلافت) کی گردن اڑا دو۔ عبدالرحمٰن بیان فرماتے ہیں: میں نے لوگوں کے درمیان اپنا سر آگے نکالا اور کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا آپ نے یہ فرمان خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسے میرے دونوں کانوں نے سنا اور میرے دل نے یاد رکھا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3956]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة 10 (1844)، سنن ابی داود/الفتن 1 (4248)، سنن النسائی/البیعة 25 (4196)، (تحفة الأشراف: 8881)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/161، 191، 193) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں