🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. بَابُ: التَّثَبُّتِ فِي الْفِتْنَةِ
باب: فتنے کے وقت تحقیق کرنے اور حق پر جمے رہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3957
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ , حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَزْمٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" كَيْفَ بِكُمْ وَبِزَمَانٍ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ , يُغَرْبَلُ النَّاسُ فِيهِ غَرْبَلَةً , وَتَبْقَى حُثَالَةٌ مِنَ النَّاسِ قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ , فَاخْتَلَفُوا وَكَانُوا هَكَذَا" وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ , قَالُوا: كَيْفَ بِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا كَانَ ذَلِكَ , قَالَ:" تَأْخُذُونَ بِمَا تَعْرِفُونَ وَتَدَعُونَ مَا تُنْكِرُونَ , وَتُقْبِلُونَ عَلَى خَاصَّتِكُمْ وَتَذَرُونَ أَمْرَ عَوَامِّكُمْ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اس زمانہ میں کیا حال ہو گا جو عنقریب آنے والا ہے؟ جس میں لوگ چھانے جائیں گے (اچھے لوگ سب مر جائیں گے) اور خراب لوگ باقی رہ جائیں گے (جیسے چھلنی میں آٹا چھاننے سے بھوسی باقی رہ جاتی ہے)، ان کے عہد و پیمان اور امانتوں کا معاملہ بگڑ چکا ہو گا، اور لوگ آپس میں الجھ کر اور اختلاف کر کے اس طرح ہو جائیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر دکھائیں، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس وقت ہم کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بات تمہیں معروف (اچھی) معلوم ہو اسے اپنا لینا، اور جو منکر (بری) معلوم ہو اسے چھوڑ دینا، اور تم اپنے خصوصی معاملات و مسائل کی فکر کرنا، اور عام لوگوں کے مائل کی فکر چھوڑ دینا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3957]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس زمانے میں تمہارا کیا حال ہو گا جو عنقریب آنے والا ہے، جس میں لوگوں کو خوب چھان لیا جائے گا (اہل ایمان اور اچھے آدمی اٹھا لیے جائیں گے) اور چھان بورا باقی رہ جائے گا (بے دین اور رذیل لوگ باقی رہ جائیں گے) جن کے عہد و مواعید میں بے وفائی اور امانتوں میں خیانت ہو گی اور ان میں اس طرح سے اختلاف ہو جائے گا۔ یہ فرماتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسری کے اندر ڈال کر دکھایا۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جب یہ صورتِ حال ہو تو ہم کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بات تمہیں (قرآن و سنت کی روشنی میں) صحیح معلوم ہو اسے اختیار کرو اور جو بات (قرآن و سنت کی روشنی میں) غلط معلوم ہو اسے چھوڑ دو، اور اپنے خاص افراد (اہل خانہ، اقارب، مخلص دوست وغیرہ) پر توجہ دو اور عام لوگوں کے معاملات سے ایک طرف ہو جاؤ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3957]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الملاحم 17 (4342)، (تحفة الأشراف: 8893)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 88 (480) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: جب عوام سے ضرر اور نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو امر بالمعروف اور نہی المنکر کے ترک کی اجازت ہے۔ یعنی بھلی باتوں کا حکم نہ دینے اور بری باتوں سے نہ روکنے کی اجازت، ایسے حالات میں کہ آدمی کو دوسروں سے نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3958
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ , عَنْ الْمُشَعَّثِ بْنِ طَرِيفٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ أَنْتَ يَا أَبَا ذَرٍّ؟ وَمَوْتًا يُصِيبُ النَّاسَ حَتَّى يُقَوَّمَ الْبَيْتُ بِالْوَصِيفِ" يَعْنِي: الْقَبْرَ , قُلْتُ: مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ أَوْ قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" تَصَبَّرْ" , قَالَ:" كَيْفَ؟ أَنْتَ وَجُوعًا يُصِيبُ النَّاسَ , حَتَّى تَأْتِيَ مَسْجِدَكَ فَلَا تَسْتَطِيعَ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى فِرَاشِكَ , وَلَا تَسْتَطِيعَ أَنْ تَقُومَ مِنْ فِرَاشِكَ إِلَى مَسْجِدِكَ" , قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , أَوْ مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ , قَالَ:" عَلَيْكَ بِالْعِفَّةِ" , ثُمَّ قَالَ:" كَيْفَ أَنْتَ وَقَتْلًا يُصِيبُ النَّاسَ حَتَّى تُغْرَقَ حِجَارَةُ الزَّيْتِ بِالدَّمِ" , قُلْتُ: مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ , قَالَ:" الْحَقْ بِمَنْ أَنْتَ مِنْهُ" , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَفَلَا آخُذُ بِسَيْفِي فَأَضْرِبَ بِهِ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ , قَالَ:" شَارَكْتَ الْقَوْمَ إِذًا وَلَكِنْ ادْخُلْ بَيْتَكَ" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَإِنْ دُخِلَ بَيْتِي , قَالَ:" إِنْ خَشِيتَ أَنْ يَبْهَرَكَ شُعَاعُ السَّيْفِ , فَأَلْقِ طَرَفَ رِدَائِكَ عَلَى وَجْهِكَ فَيَبُوءَ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِكَ فَيَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوذر! اس وقت تمہاری کیا حالت ہو گی جس وقت لوگوں پر موت کی وبا آئے گی یہاں تک کہ ایک گھر یعنی قبر کی قیمت ایک غلام کے برابر ہو گی ۱؎، میں نے عرض کیا: جو اللہ اور اس کا رسول میرے لیے پسند فرمائیں (یا یوں کہا: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وقت تم صبر سے کام لینا، پھر فرمایا: اس وقت تم کیا کرو گے جب لوگ قحط اور بھوک کی مصیبت سے دو چار ہوں گے، حتیٰ کہ تم اپنی مسجد میں آؤ گے، پھر تم میں اپنے بستر تک جانے کی قوت نہ ہو گی اور نہ ہی بستر سے اٹھ کر مسجد تک آنے کی قوت ہو گی، میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، یا کہا (اللہ اور اس کا رسول جو میرے لیے پسند کرے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اس وقت) تم اپنے اوپر پاک دامنی کو لازم کر لینا، پھر فرمایا: تم اس وقت کیا کرو گے جب (مدینہ میں) لوگوں کا قتل عام ہو گا، حتیٰ کہ مدینہ میں ایک پتھریلا مقام «حجارة الزيت» ۲؎ خون میں ڈوب جائے گا، میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول جو میرے لیے پسند فرمائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان لوگوں سے مل جانا جن سے تم ہو (یعنی اپنے اہل خاندان کے ساتھ ہو جانا) ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں اپنی تلوار لے کر ان لوگوں کو نہ ماروں جو ایسا کریں؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ایسا کرو گے تب تو تم بھی انہیں لوگوں میں شریک ہو جاؤ گے، تمہیں چاہیئے کہ (چپ چاپ ہو کر) اپنے گھر ہی میں پڑے رہو ۳؎ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر وہ میرے گھر میں گھس آئیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں ڈر ہو کہ تلوار کی چمک تم پر غالب آ جائے گی، تو اپنی چادر کا کنارا منہ پر ڈال لینا، (قتل ہو جانا) وہ قتل کرنے والا اپنا اور تمہارا دونوں کا گناہ اپنے سر لے گا، اور وہ جہنمی ہو گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3958]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذر! اس وقت تو کیا کرے گا جب لوگوں میں موت کثرت سے واقع ہوگی حتی کہ ایک گھر، یعنی قبر کی قیمت ایک غلام کے برابر ہو جائے گی؟ میں نے عرض کیا: (میں وہی کچھ کروں گا) جو کچھ میرے لیے اللہ اور اس کا رسول پسند فرمائیں۔ یا میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں (کہ مجھے ان حالات میں کیا کرنا چاہیے۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبر کرنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو کیا کرے گا جب لوگوں کو بھوک کا سامنا ہوگا حتی کہ جب تو مسجد میں آئے گا تو تجھ سے اپنے بستر تک واپس نہیں پہنچا جائے گا اور تو اپنے بستر سے اٹھ کر اپنی نماز کی جگہ تک نہیں جا سکے گا؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ یا کہا: جو کچھ اللہ اور اس کا رسول میرے لیے پسند فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عفت اختیار کرنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو کیا کرے گا جب لوگوں میں قتل و غارت عام ہوگی حتی کہ «حِجَارَةُ الزَّيْتِ» (کا مقام) خون میں ڈوب جائے گا؟ میں نے عرض کیا: جو کچھ اللہ اور اس کا رسول میرے لیے پسند فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو جس قبیلے سے ہے اسی میں جا رہنا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیوں نہ میں تلوار لے کر ان لوگوں کو قتل کروں جو یہ (فساد) کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تو تُو لوگوں کے ساتھ (جنگ و جدل میں) شریک ہو جائے گا، بلکہ ایسی صورت حال میں تو اپنے گھر میں داخل ہو جانا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر لوگ میرے گھر میں گھس آئیں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تجھے خطرہ ہو کہ تلوار کی چمک تجھ پر غالب آ جائے گی تو اپنی چادر کا کنارہ اپنے چہرے پر ڈال لینا۔ تب وہ (فسادی قاتل) اپنا اور تیرا گناہ اٹھا لے جائے گا اور وہ جہنمی ہو جائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3958]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأشراف: 11947، ومصباح الزجاجة: 1390)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الفتن 2 (4261)، بدون ذکر الجوع و العفة، مسند احمد (5/149، 163) (صحیح) (ملا حظہ ہو: الإرواء: 2451)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی ایک قبر کی جگہ کے لیے ایک غلام دینا پڑے گا یا ایک قبر کھودنے کے لیے ایک غلام کی قیمت ادا کرنی پڑے گی یا گھر اتنے خالی ہو جائیں گے کہ ہر غلام کو ایک ایک گھر مل جائے گا۔
۲؎: «حجارة الزيت» مدینہ میں ایک جگہ کا نام ہے۔
۳؎: یعنی اپنے گھر میں بیٹھے رہنا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3959
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا عَوْفٌ , عَنْ الْحَسَنِ , حَدَّثَنَا أَسِيدُ بْنُ الْمُتَشَمِّسِ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى , حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ لَهَرْجًا" , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا الْهَرْجُ؟ قَالَ:" الْقَتْلُ" , فَقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا نَقْتُلُ الْآنَ فِي الْعَامِ الْوَاحِدِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ كَذَا وَكَذَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ بِقَتْلِ الْمُشْرِكِينَ , وَلَكِنْ يَقْتُلُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا , حَتَّى يَقْتُلَ الرَّجُلُ جَارَهُ , وَابْنَ عَمِّهِ , وَذَا قَرَابَتِهِ" , فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَمَعَنَا عُقُولُنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُنْزَعُ عُقُولُ أَكْثَرِ ذَلِكَ الزَّمَانِ , وَيَخْلُفُ لَهُ هَبَاءٌ مِنَ النَّاسِ لَا عُقُولَ لَهُمْ" , ثُمَّ قَالَ الْأَشْعَرِيُّ: وَايْمُ اللَّهِ إِنِّي لَأَظُنُّهَا مُدْرِكَتِي , وَإِيَّاكُمْ وَايْمُ اللَّهِ مَا لِي وَلَكُمْ مِنْهَا مَخْرَجٌ , إِنْ أَدْرَكَتْنَا فِيمَا عَهِدَ إِلَيْنَا نَبِيُّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِلَّا أَنْ نَخْرُجَ كَمَا دَخَلْنَا فِيهَا.
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیان کیا: قیامت سے پہلے «ہرج» ہو گا، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! «ہرج» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل، کچھ مسلمانوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم تو اب بھی سال میں اتنے اتنے مشرکوں کو قتل کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرکین کا قتل مراد نہیں بلکہ تم آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو گے، حتیٰ کہ آدمی اپنے پڑوسی، اپنے چچا زاد بھائی اور قرابت داروں کو بھی قتل کرے گا، تو کچھ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس وقت ہم لوگ عقل و ہوش میں ہوں گے کہ نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ اس زمانہ کے اکثر لوگوں کی عقلیں سلب کر لی جائیں گی، اور ان کی جگہ ایسے کم تر لوگ لے لیں گے جن کے پاس عقلیں نہیں ہوں گی۔ پھر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی! میں سمجھتا ہوں کہ شاید یہ زمانہ مجھے اور تم کو پا لے، اللہ کی قسم! اگر ایسا زمانہ مجھ پر اور تم پر آ گیا تو ہمارے اور تمہارے لیے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہو گا، جیسا کہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں وصیت کی ہے، سوائے اس کے کہ ہم اس سے ویسے ہی نکلیں جیسے داخل ہوئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3959]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے ہرج واقع ہو گا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہرج کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل و غارت۔ کچھ مسلمانوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اب بھی تو ہم سال بھر میں اتنے اتنے مشرکوں کو قتل کر دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرکوں کا قتل نہیں ہو گا بلکہ تم لوگ ایک دوسرے کو قتل کرو گے حتی کہ آدمی اپنے پڑوسی کو، اپنے چچا کو اور اپنے رشتہ دار کو قتل کر دے گا۔ بعض افراد نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس دور میں ہماری عقلیں ہمارے ساتھ ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اس زمانے میں اکثر لوگوں کی عقلیں چھن جائیں گی اور بعد میں ایسے لوگ آ جائیں گے جو گرد و غبار کی طرح (بے حقیقت، بے قدر) ہوں گے، ان کے پاس عقلیں نہیں ہوں گی۔ پھر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قسم ہے اللہ کی! مجھے تو لگتا ہے کہ وہ فتنہ مجھ پر اور تم لوگوں ہی پر آ جائے گا۔ اور قسم ہے اللہ کی! اگر یہ اس چیز کے بارے میں ہوا جس کے بارے میں ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نصیحت فرمائی تھی تو میرے اور تمہارے لیے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہو گا، سوائے اس کے کہ جس طرح ہم اس میں شامل ہوئے تھے، اسی طرح نکل جائیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3959]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8980، ومصباح الزجاجة: 1391)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/391، 392، 406، 414) (صحیح) (سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1682)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3960
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ مُؤَذِّنُ مَسْجِدِ حُرْدَانَ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي عُدَيْسَةُ بِنْتُ أُهْبَانَ , قَالَتْ: لَمَّا جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ هَاهُنَا الْبَصْرَةَ دَخَلَ عَلَى أَبِي , فَقَالَ: يَا أَبَا مُسْلِمٍ , أَلَا تُعِينُنِي عَلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ , قَالَ: بَلَى , قَالَ: فَدَعَا جَارِيَةً لَهُ , فَقَالَ: يَا جَارِيَةُ , أَخْرِجِي سَيْفِي , قَالَ: فَأَخْرَجَتْهُ فَسَلَّ مِنْهُ قَدْرَ شِبْرٍ , فَإِذَا هُوَ خَشَبٌ , فَقَالَ: إِنَّ خَلِيلِي وَابْنَ عَمِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ" إِذَا كَانَتِ الْفِتْنَةُ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ فَأَتَّخِذُ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ" , فَإِنْ شِئْتَ خَرَجْتُ مَعَكَ , قَالَ: لَا حَاجَةَ لِي فِيكَ , وَلَا فِي سَيْفِكَ.
عدیسہ بنت اہبان کہتی ہیں کہ جب علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ یہاں بصرہ میں آئے، تو میرے والد (اہبان بن صیفی غفاری رضی اللہ عنہ) کے پاس تشریف لائے، اور کہا: ابو مسلم! ان لوگوں (شامیوں) کے مقابلہ میں تم میری مدد نہیں کرو گے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور مدد کروں گا، پھر اس کے بعد اپنی باندی کو بلایا، اور اسے تلوار لانے کو کہا: وہ تلوار لے کر آئی، ابو مسلم نے اس کو ایک بالشت برابر (نیام سے) نکالا، دیکھا تو وہ تلوار لکڑی کی تھی، پھر ابو مسلم نے کہا: میرے خلیل اور تمہارے چچا زاد بھائی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نے مجھے ایسا ہی حکم دیا ہے کہ جب مسلمانوں میں جنگ اور فتنہ برپا ہو جائے تو میں ایک لکڑی کی تلوار بنا لوں، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کے ہمراہ نکلوں، انہوں نے کہا: مجھے نہ تمہاری ضرورت ہے اور نہ تمہاری تلوار کی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3960]
حضرت عدیسہ بنت اہبان رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب حضرت علی رضی اللہ عنہ یہاں بصرہ میں تشریف لائے تو میرے والد (حضرت اہبان بن صیفی غفاری رضی اللہ عنہ) کے پاس بھی آئے، انہوں نے فرمایا: ابو مسلم! (اہبان رضی اللہ عنہ) کیا آپ ان لوگوں (حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں) کے خلاف میری مدد نہیں کریں گے؟ حضرت اہبان رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں! پھر اپنی ایک لونڈی کو بلا کر کہا: لونڈی! میری تلوار نکال۔ وہ تلوار لے آئی۔ انہوں نے میان سے ایک بالشت تلوار باہر نکالی تو (معلوم ہوا کہ) وہ لکڑی کی تھی۔ انہوں نے فرمایا: میرے محبوب اور تیرے چچا کے بیٹے صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ نصیحت کی تھی کہ جب مسلمانوں میں باہم فتنہ و فساد برپا ہو جائے تو میں لکڑی کی تلوار بنا لوں۔ اب اگر آپ چاہتے ہیں تو میں آپ کے ساتھ (لکڑی کی تلوار لے کر) چلنے کو تیار ہوں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے نہ تو آپ کی ضرورت ہے اور نہ آپ کی تلوار کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3960]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الفتن 33 (2203)، (تحفة الأشراف: 1734)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/69، 6/393) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اور ان کو لڑائی سے معاف کر دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم کہ لکڑی کی تلوار بنا لو، اس صورت میں ہے جب مسلمانوں میں فتنہ ہو اور حق و صواب معلوم نہ ہو تو بہتر یہی ہے کہ آدمی خاموش رہے کسی جماعت کے ساتھ نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3961
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى اللَّيْثِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ , عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ , عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ , يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا , وَيُمْسِي كَافِرًا , وَيُمْسِي مُؤْمِنًا , وَيُصْبِحُ كَافِرًا , الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ , وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي , وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي , فَكَسِّرُوا قِسِيَّكُمْ , وَقَطِّعُوا أَوْتَارَكُمْ , وَاضْرِبُوا بِسُيُوفِكُمُ الْحِجَارَةَ , فَإِنْ دُخِلَ عَلَى أَحَدٍ مِنْكُمْ فَلْيَكُنْ كَخَيْرِ ابْنَيْ آدَمَ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے قریب ایسے فتنے ہوں گے جیسے اندھیری رات کے حصے، ان میں آدمی صبح کو مومن ہو گا، تو شام کو کافر ہو گا اور شام کو مومن ہو گا تو صبح کو کافر ہو گا، اس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے، کھڑا ہونے والا چلنے والے سے، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا، اور ان فتنوں میں تم اپنی کمانوں کو توڑ ڈالنا، کمان کے تانت کاٹ ڈالنا، اپنی تلواریں پتھر پر مار کر کند کر لینا، اور اگر تم میں سے کسی کے پاس کوئی گھس جائے تو آدم کے دونوں بیٹوں میں سے نیک بیٹے کی طرح ہو جا نا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3961]
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے ایسے فتنے (رونما) ہوں گے جیسے تاریک رات کے ٹکڑے۔ ان میں انسان صبح کو مومن ہو گا تو شام کو کافر ہو جائے گا اور شام کو مومن ہو گا تو صبح کو کافر ہو جائے گا۔ ان (فتنوں) کے دوران میں بیٹھا ہوا کھڑے ہوئے سے، کھڑا ہوا چلنے والے سے اور چلنے والا بھاگنے والے سے بہتر ہو گا۔ ان حالات میں تم اپنی کمانیں توڑ دینا، ان کی تانت کاٹ دینا اور اپنی تلواریں پتھروں پر دے مارنا۔ اگر (فسادی لوگ) تم میں سے کسی کے گھر میں گھس آئیں تو حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں میں سے اچھے بیٹے (ہابیل) کی طرح ہو جانا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3961]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الفتن 2 (4259)، سنن الترمذی/الفتن 33 (2204)، (تحفة الأشراف: 9032)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/408، 416) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: جنہوں نے اپنے بھائی قابیل سے کہا: تو مجھے اگر مارے گا تب بھی تجھے نہیں ماروں گا، مطلب آپ کا یہ ہے کہ ان فتنوں میں لڑنا اور مسلمانوں کو مارنا گویا فتنہ کی تائید کرنا ہے، پس گھر میں خاموشی سے بیٹھے رہنا مناسب ہے، اور جس قدر کوئی زیادہ حرکت کرے گا اتنا ہی وہ برا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3962
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ , عَنْ ثَابِتٍ , أَوْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جَدْعَانَ , شَكَّ أَبُو بَكْرٍ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ , قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ , فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ وَفُرْقَةٌ وَاخْتِلَافٌ , فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ فَأْتِ بِسَيْفِكَ أُحُدًا فَاضْرِبْهُ حَتَّى يَنْقَطِعَ , ثُمَّ اجْلِسْ فِي بَيْتِكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ يَدٌ خَاطِئَةٌ , أَوْ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ" , فَقَدْ وَقَعَتْ وَفَعَلْتُ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت جلد ایک فتنہ ہو گا، فرقہ بندی ہو گی اور اختلاف ہو گا، جب یہ زمانہ آئے تو تم اپنی تلوار لے کر احد پہاڑ پر آنا، اور اس پر اسے مارنا کہ وہ ٹوٹ جائے، اور پھر اپنے گھر بیٹھ جانا یہاں تک کہ کوئی خطاکار ہاتھ تمہیں قتل کر دے، یا موت آ جائے جو تمہارا کام تمام کر دے۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ فتنہ آ گیا ہے، اور میں نے وہی کیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3962]
حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے بیان کیا: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: عنقریب فتنہ، افتراق اور اختلاف (رونما) ہو گا۔ جب یہ صورت حال پیش آئے تو اپنی تلوار لے کر احد پہاڑ پر چڑھ جانا اور اسے (پہاڑ کے پتھروں پر) مار کر توڑ دینا۔ پھر گھر میں بیٹھ رہنا حتی کہ تجھ تک کوئی گناہ گار ہاتھ پہنچ جائے یا فیصلہ کر دینے والی موت آ جائے۔ (حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:) تحقیق فتنہ واقع ہو چکا اور میں نے وہی کچھ کیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3962]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماحہ، (تحفة الأشراف: 11234، ومصباح الزجاجة: 1392)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/493، 4/226) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں، لیکن دوسرے طرق اور شواہد سے یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1380)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں