🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب : التثبت في الفتنة
باب: فتنے کے وقت تحقیق کرنے اور حق پر جمے رہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3959
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا عَوْفٌ , عَنْ الْحَسَنِ , حَدَّثَنَا أَسِيدُ بْنُ الْمُتَشَمِّسِ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى , حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ لَهَرْجًا" , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا الْهَرْجُ؟ قَالَ:" الْقَتْلُ" , فَقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا نَقْتُلُ الْآنَ فِي الْعَامِ الْوَاحِدِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ كَذَا وَكَذَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ بِقَتْلِ الْمُشْرِكِينَ , وَلَكِنْ يَقْتُلُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا , حَتَّى يَقْتُلَ الرَّجُلُ جَارَهُ , وَابْنَ عَمِّهِ , وَذَا قَرَابَتِهِ" , فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَمَعَنَا عُقُولُنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُنْزَعُ عُقُولُ أَكْثَرِ ذَلِكَ الزَّمَانِ , وَيَخْلُفُ لَهُ هَبَاءٌ مِنَ النَّاسِ لَا عُقُولَ لَهُمْ" , ثُمَّ قَالَ الْأَشْعَرِيُّ: وَايْمُ اللَّهِ إِنِّي لَأَظُنُّهَا مُدْرِكَتِي , وَإِيَّاكُمْ وَايْمُ اللَّهِ مَا لِي وَلَكُمْ مِنْهَا مَخْرَجٌ , إِنْ أَدْرَكَتْنَا فِيمَا عَهِدَ إِلَيْنَا نَبِيُّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِلَّا أَنْ نَخْرُجَ كَمَا دَخَلْنَا فِيهَا.
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیان کیا: قیامت سے پہلے «ہرج» ہو گا، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! «ہرج» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل، کچھ مسلمانوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم تو اب بھی سال میں اتنے اتنے مشرکوں کو قتل کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرکین کا قتل مراد نہیں بلکہ تم آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو گے، حتیٰ کہ آدمی اپنے پڑوسی، اپنے چچا زاد بھائی اور قرابت داروں کو بھی قتل کرے گا، تو کچھ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس وقت ہم لوگ عقل و ہوش میں ہوں گے کہ نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ اس زمانہ کے اکثر لوگوں کی عقلیں سلب کر لی جائیں گی، اور ان کی جگہ ایسے کم تر لوگ لے لیں گے جن کے پاس عقلیں نہیں ہوں گی۔ پھر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی! میں سمجھتا ہوں کہ شاید یہ زمانہ مجھے اور تم کو پا لے، اللہ کی قسم! اگر ایسا زمانہ مجھ پر اور تم پر آ گیا تو ہمارے اور تمہارے لیے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہو گا، جیسا کہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں وصیت کی ہے، سوائے اس کے کہ ہم اس سے ویسے ہی نکلیں جیسے داخل ہوئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3959]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے ہرج واقع ہو گا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہرج کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل و غارت۔ کچھ مسلمانوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اب بھی تو ہم سال بھر میں اتنے اتنے مشرکوں کو قتل کر دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرکوں کا قتل نہیں ہو گا بلکہ تم لوگ ایک دوسرے کو قتل کرو گے حتی کہ آدمی اپنے پڑوسی کو، اپنے چچا کو اور اپنے رشتہ دار کو قتل کر دے گا۔ بعض افراد نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس دور میں ہماری عقلیں ہمارے ساتھ ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اس زمانے میں اکثر لوگوں کی عقلیں چھن جائیں گی اور بعد میں ایسے لوگ آ جائیں گے جو گرد و غبار کی طرح (بے حقیقت، بے قدر) ہوں گے، ان کے پاس عقلیں نہیں ہوں گی۔ پھر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قسم ہے اللہ کی! مجھے تو لگتا ہے کہ وہ فتنہ مجھ پر اور تم لوگوں ہی پر آ جائے گا۔ اور قسم ہے اللہ کی! اگر یہ اس چیز کے بارے میں ہوا جس کے بارے میں ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نصیحت فرمائی تھی تو میرے اور تمہارے لیے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہو گا، سوائے اس کے کہ جس طرح ہم اس میں شامل ہوئے تھے، اسی طرح نکل جائیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3959]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8980، ومصباح الزجاجة: 1391)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/391، 392، 406، 414) (صحیح) (سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1682)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسىصحابي
👤←👥أسيد بن المتشمس التميمي
Newأسيد بن المتشمس التميمي ← عبد الله بن قيس الأشعري
ثقة
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد
Newالحسن البصري ← أسيد بن المتشمس التميمي
ثقة يرسل كثيرا ويدلس
👤←👥عوف بن أبي جميلة الأعرابي، أبو سهل
Newعوف بن أبي جميلة الأعرابي ← الحسن البصري
صدوق رمي بالقدر والتشيع
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← عوف بن أبي جميلة الأعرابي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
7064
بين يدي الساعة أياما يرفع فيها العلم ينزل فيها الجهل يكثر فيها الهرج والهرج القتل
جامع الترمذي
2200
من ورائكم أياما يرفع فيها العلم يكثر فيها الهرج ما الهرج قال القتل
سنن ابن ماجه
3959
بين يدي الساعة لهرجا قال قلت يا رسول الله ما الهرج قال القتل فقال بعض المسلمين يا رسول الله إنا نقتل الآن في العام الواحد من المشركين كذا وكذا فقال رسول الله ليس بقتل المشركين ولكن يقتل بعضكم بعضا حتى يقتل الرجل جاره وابن عمه وذا قرابته
سنن ابن ماجه
4051
من ورائكم أياما ينزل فيها الجهل يرفع فيها العلم يكثر فيها الهرج ما الهرج قال القتل
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3959 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3959
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مسلمانوں کے درمیان معمولی باتوں پر قتل قیامت کی نشانی ہے۔
یہ ایسی بری خصلت ہے۔
جو ماضی قریب تک اس کثرت سے موجود نہیں تھی، حالانکہ دوسرے بہت سے فتنے موجود تھے۔

(2)
کسی فتنے سے پیشگی خبردار کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہر مسلمان اس سے بچنے کی زیادہ کوشش کرے، اس لیے علماء اور حکام کا فرض ہے کہ اس کے اسباب پر غور کرکے اس سدباب کی کوشش کریں۔

(3)
مسلمان کو سمجھ بوجھ سے کام لینا چاہیے اور اختلافات کو قتل وغارت کا جواز نہیں بنانا چاہیے۔

(4)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے اختلافات خلوص کی بنیاد پر اور غلط فہمی کی وجہ سے تھے۔
اس لیے ان کے لیے ممکن ہوگیا کہ گمراہ لوگوں کے پروپیگنڈے کے اثر سے آزاد ہو کر اصلاح کرلیں۔
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ایثار اور تدبر کی وجہ سے مسلمان دوبارہ متحد ہوگئے۔

(5)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے اختلافات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کسی صحابی کے بارے میں احترام کے منافی لہجہ اختیار کرنا جائز نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3959]

Sunan Ibn Majah Hadith 3959 in Urdu