🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

34. بَابُ: التَّكْبِيرِ لِلسُّجُودِ
باب: سجدہ کرنے کے لیے اللہ اکبر کہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1083
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قال:" صَلَّيْتُ أَنَا وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَكَانَ إِذَا سَجَدَ كَبَّرَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ كَبَّرَ وَإِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ فَلَمَّا قَضَى أَخَذَ عِمْرَانُ بِيَدِي فَقَالَ: لَقَدْ ذَكَّرَنِي هَذَا قَالَ كَلِمَةً يَعْنِي صَلَاةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
مطرف کہتے ہیں کہ میں نے اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہما دونوں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، جب وہ سجدہ کرتے تو اللہ اکبر کہتے، اور جب سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے، اور جب دو رکعتیں پڑھ کر اٹھتے تو اللہ اکبر کہتے، جب وہ نماز پڑھ چکے تو عمران رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا: انہوں نے مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلا دی۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1083]
حضرت مطرف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے اور میں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی۔ آپ جب سجدہ کرتے تو «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہتے اور جب سجدے سے سر اٹھاتے، تب بھی «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہتے اور جب دو رکعتوں سے اٹھتے، تب بھی «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہتے۔ جب آپ نے نماز پوری کرلی تو حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اللہ کی قسم! ان صاحب نے مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد کرا دی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1083]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 116 (786)، 144 (826)، صحیح مسلم/الصلاة 10 (393)، سنن ابی داود/الصلاة 140 (835)، (تحفة الأشراف: 10848)، مسند احمد 4/400، 428، 429، 432، 440، 444، ویأتی عند المؤلف برقم: 1181 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1084
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، وَيَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قال:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَفْعَلَانِهِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جھکنے اور اٹھنے میں اللہ اکبر کہتے تھے ۱؎، اور آپ اپنے دائیں اور بائیں دونوں طرف سلام پھیرتے، ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1084]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جھکنے اور اٹھنے کے وقت «اللَّهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہتے تھے اور آخر میں دائیں بائیں دونوں طرف سلام پھیرتے تھے۔ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1084]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث أسود عن عبداللہ أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 74 (253)، (تحفة الأشراف: 9174)، مسند احمد 1/386، 394، 418، 427، 442، 443، سنن الدارمی/الصلاة 40 (1248)، وحدیث علقمة کحدیث أسود، (تحفة الأشراف: 9470)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1143، 1150، 1320 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مراد یہ ہے کہ اکثر جھکتے اور اٹھتے وقت «اللہ اکبر» کہتے، ورنہ رکوع سے اٹھتے وقت «اللہ اکبر» نہیں کہتے تھے، بلکہ اس کے بجائے «سمع اللہ لمن حمدہ» کہتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں