🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

104. بَابُ: الرُّخْصَةِ لِلإِمَامِ فِي تَخَطِّي رِقَابِ النَّاسِ
باب: امام کے لیے لوگوں کی گردنیں پھلانگنے کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1366
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَكَّارٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ النَّوْفَلِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بِالْمَدِينَةِ، ثُمَّ انْصَرَفَ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ سَرِيعًا حَتَّى تَعَجَّبَ النَّاسُ لِسُرْعَتِهِ , فَتَبِعَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ , فَدَخَلَ عَلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ، ثُمَّ خَرَجَ , فَقَالَ:" إِنِّي ذَكَرْتُ وَأَنَا فِي الْعَصْرِ شَيْئًا مِنْ تِبْرٍ كَانَ عِنْدَنَا , فَكَرِهْتُ أَنْ يَبِيتَ عِنْدَنَا فَأَمَرْتُ بِقِسْمَتِهِ".
عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں نماز عصر پڑھی، پھر آپ تیزی سے لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے گئے یہاں تک کہ لوگ آپ کی تیزی سے تعجب میں پڑ گئے، کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے پیچھے گئے (کہ کیا معاملہ ہے) آپ اپنی ایک بیوی کے حجرہ میں داخل ہوئے، پھر باہر نکلے اور فرمایا: میں نماز عصر میں تھا کہ مجھے سونے کا وہ ڈلا یاد آ گیا جو ہمارے پاس تھا، تو مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ رات بھر وہ ہمارے پاس پڑا رہے، لہٰذا جا کر میں نے اسے تقسیم کرنے کا حکم دے دیا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1366]
حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے ایک دفعہ مدینہ منورہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز پڑھی۔ نماز سے فارغ ہوتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی سے لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے گھر چلے گئے حتیٰ کہ لوگوں نے آپ کی جلدی پر تعجب کیا۔ کچھ صحابہ آپ کے پیچھے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی کے گھر داخل ہوئے، پھر باہر تشریف لائے اور فرمایا: مجھے عصر کی نماز کے دوران میں یاد آیا کہ کچھ سونا ہمارے گھر پڑا ہے۔ میں نے پسند نہ کیا کہ وہ رات کو ہمارے گھر رہے، اس لیے میں نے وہ تقسیم کرنے کا حکم دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1366]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 158 (851)، العمل فی ال صلاة 18 (1221)، الزکاة 20 (1430)، الاستئذان 36 (6275)، مسند احمد 4/7، 8، 384، (تحفة الأشراف: 9906) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں