🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
69. بَابُ هَلْ يَأْخُذُ الإِمَامُ إِذَا شَكَّ بِقَوْلِ النَّاسِ:
باب: اس بارے میں کہ اگر امام کو شک ہو جائے تو کیا مقتدیوں کی بات پر عمل کر سکتا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 715
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، فَقِيلَ:" صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ".
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے سعد بن ابراہیم سے بیان کیا، وہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، آپ نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک مرتبہ) ظہر کی صرف دو ہی رکعتیں پڑھیں (اور بھول سے سلام پھیر دیا) پھر کہا گیا کہ آپ نے صرف دو ہی رکعتیں پڑھی ہیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں اور پڑھیں پھر سلام پھیرا۔ پھر دو سجدے کئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 715]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک دفعہ) ظہر کی نماز دو رکعت پڑھ دی۔ آپ سے کہا گیا کہ آپ نے دو رکعات پڑھی ہیں۔ اس کے بعد آپ نے دو رکعت اور پڑھ لیں، پھر سلام پھیر کر دو سجدے (سہو) کیے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 715]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
70. بَابُ إِذَا بَكَى الإِمَامُ فِي الصَّلاَةِ:
باب: جب امام نماز میں رو دے (تو کیسا ہے؟)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q716
وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ: سَمِعْتُ نَشِيجَ عُمَرَ وَأَنَا فِي آخِرِ الصُّفُوفِ يَقْرَأُ إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ.
‏‏‏‏ اور عبداللہ بن شداد رحمہ اللہ (تابعی) نے بیان کیا کہ میں نے نماز میں عمر رضی اللہ عنہ کے رونے کی آواز سنی حالانکہ میں آخری صف میں تھا۔ آپ آیت شریفہ «إنما أشكو بثي وحزني إلى الله‏» پڑھ رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: Q716]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 716
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي مَرَضِهِ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: قُلْتُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ فَمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ، فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ، قَالَتْ عَائِشَةُ لِحَفْصَةَ: قُولِي لَهُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ فَمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ، فَفَعَلَتْ حَفْصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَهْ إِنَّكُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلّ لِلنَّاسِ، قَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ: مَا كُنْتُ لِأُصِيبَ مِنْكِ خَيْرًا".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک بن انس نے ہشام بن عروہ سے بیان کیا، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الوفات میں فرمایا کہ ابوبکر سے لوگوں کو نماز پڑھانے کے لیے کہو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کی کہ ابوبکر اگر آپ کی جگہ کھڑے ہوئے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو اپنی آواز نہ سنا سکیں گے۔ اس لیے آپ عمر رضی اللہ عنہ سے فرمائیے کہ وہ نماز پڑھائیں۔ آپ نے پھر فرمایا کہ نہیں ابوبکر ہی سے نماز پڑھانے کے لیے کہو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ تم بھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرو کہ اگر ابوبکر آپ کی جگہ کھڑے ہوئے تو آپ کو یاد کر کے گریہ و زاری کی وجہ سے لوگوں کو قرآن نہ سنا سکیں گے۔ اس لیے عمر رضی اللہ عنہ سے کہئے کہ وہ نماز پڑھائیں۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھی کہہ دیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بس چپ رہو، تم لوگ صواحب یوسف سے کسی طرح کم نہیں ہو۔ ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔ بعد میں حفصہ رضی اللہ عنہا نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا۔ بھلا مجھ کو تم سے کہیں بھلائی ہونی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 716]
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض (وفات) میں فرمایا: ابوبکر سے کہو وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو اپنی آواز نہیں سنا سکیں گے، اس لیے آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیجیے کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر سے کہو وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرو کہ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو اپنی قراءت نہیں سنا سکیں گے، لہذا آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیجیے کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، چنانچہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے ایسے ہی کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چپ رہو! تم تو یوسف علیہ السلام والی عورتوں کی طرح معلوم ہوتی ہو۔ ابوبکر سے کہو وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ اس پر حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں نے کبھی تجھ سے بھلائی نہیں پائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 716]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
71. بَابُ تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ عِنْدَ الإِقَامَةِ وَبَعْدَهَا:
باب: تکبیر ہوتے وقت اور تکبیر کے بعد صفوں کا برابر کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 717
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ".
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے سالم بن ابوالجعد سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ نماز میں اپنی صفوں کو برابر کر لو، نہیں تو اللہ تعالیٰ تمہارا منہ الٹ دے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 717]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو ضرور سیدھا کرو بصورتِ دیگر اللہ تعالیٰ تمہارے چہروں میں مخالفت پیدا کر دے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 717]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 718
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَقِيمُوا الصُّفُوفَ فَإِنِّي أَرَاكُمْ خَلْفَ ظَهْرِي".
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے عبدالعزیز بن صہیب سے بیان کیا، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ صفیں سیدھی کر لو۔ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے دیکھ رہا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 718]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صفوں کو ٹھیک اور درست رکھو، میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 718]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
72. بَابُ إِقْبَالِ الإِمَامِ عَلَى النَّاسِ عِنْدَ تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ:
باب: صفیں برابر کرتے وقت امام کا لوگوں کی طرف منہ کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 719
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي رَجَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:" أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي".
ہم سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے زائدہ بن قدامہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حمید طویل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ نماز کے لیے تکبیر کہی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا منہ ہماری طرف کیا اور فرمایا کہ اپنی صفیں برابر کر لو اور مل کر کھڑے ہو جاؤ۔ میں تم کو اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا رہتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 719]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اپنی صفوں کو درست کر لو اور باہم مل کر کھڑے ہو جاؤ کیونکہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 719]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
73. بَابُ الصَّفِّ الأَوَّلِ:
باب: صف اول (کے ثواب کے بیان)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 720
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشُّهَدَاءُ الْغَرِقُ وَالْمَطْعُونُ وَالْمَبْطُونُ وَالْهَدِمُ.
ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے امام مالک کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے سمی سے، انہوں نے ابوصالح ذکوان سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ڈوبنے والے، پیٹ کی بیماری میں مرنے والے، طاعون میں مرنے والے اور دب کر مرنے والے شہید ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 720]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شہداء یہ لوگ ہیں: جو ڈوب کر مرے، جو پیٹ کے مرض میں مبتلا ہو کر فوت ہو جائے، جو طاعون میں چل بسے اور جو دیوار کے نیچے دب کر اس جہاں سے رخصت ہو جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 720]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 721
وَقَالَ: وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ لَاسْتَهَمُوا".
فرمایا کہ اگر لوگ جان لیں جو ثواب نماز کے لیے جلدی آنے میں ہے تو ایک دوسرے سے آگے بڑھیں اور اگر عشاء اور صبح کی نماز کے ثواب کو جان لیں تو اس کے لیے ضرور آئیں۔ خواہ سرین کے بل آنا پڑے اور اگر پہلی صف کے ثواب کو جان لیں تو اس کے لیے قرعہ اندازی کریں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 721]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو علم ہو کہ سخت گرمی یا اول وقت میں نماز پڑھنے کی کیا فضیلت ہے تو اسے ادا کرنے کے لیے دوڑ لگائیں، اور اگر وہ جان لیں کہ عشاء اور صبح کی نماز میں کیا ثواب ہے تو یقیناً ان میں شریک ہوں، اگرچہ انہیں گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑے، اور اگر انہیں معلوم ہو کہ پہلی صف میں کیا فضیلت ہے تو اس کے حصول کے لیے ضرور قرعہ اندازی کریں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 721]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
74. بَابُ إِقَامَةِ الصَّفِّ مِنْ تَمَامِ الصَّلاَةِ:
باب: صف برابر کرنا نماز کا پورا کرنا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 722
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَلَا تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ، وَأَقِيمُوا الصَّفَّ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّ إِقَامَةَ الصَّفِّ مِنْ حُسْنِ الصَّلَاةِ".
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں معمر نے ہمام بن منبہ کے واسطہ سے خبر دی، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امام اس لیے ہوتا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے، اس لیے تم اس سے اختلاف نہ کرو۔ جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ «سمع الله لمن حمده‏» کہے تو تم «ربنا لك الحمد‏» کہو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو۔ اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو اور نماز میں صفیں برابر رکھو، کیونکہ نماز کا حسن صفوں کے برابر رکھنے میں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 722]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے، لہٰذا اس سے اختلاف نہ کرو۔ جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی کہے تو تم «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں کہو۔ جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو سب کے سب بیٹھ کر نماز ادا کرو، نیز نماز میں صفوں کو سیدھا کرو کیونکہ صف کا درست کرنا نماز کی خوبی کا ایک جز ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 722]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 723
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" سَوُّوا صُفُوفَكُمْ فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصُّفُوفِ مِنْ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ".
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعبہ نے قتادہ کے واسطہ سے خبر دی، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صفیں برابر رکھو کیونکہ صفوں کا برابر رکھنا نماز کے قائم کرنے میں داخل ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 723]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: صفوں کو برابر کرو کیونکہ صفوں کا برابر کرنا نماز کا قائم کرنا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 723]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں