🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
52. بَابُ مَتَى يَسْجُدُ مَنْ خَلْفَ الإِمَامِ:
باب: امام کے پیچھے مقتدی کب سجدہ کریں؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q690
قَالَ أَنَسٌ: فَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا.
‏‏‏‏ اور انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ جب امام سجدہ کرے تو تم لوگ بھی سجدہ کرو (یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: Q690]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 690
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، لَمْ يَحْنِ أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّى يَقَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدًا، ثُمَّ نَقَعُ سُجُودًا بَعْدَهُ"، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ نَحْوَهُ بِهَذَا.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے سفیان سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابواسحاق نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، وہ جھوٹے نہیں تھے۔ (بلکہ نہایت ہی سچے تھے) انہوں نے بتلایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «سمع الله لمن حمده‏» کہتے تو ہم میں سے کوئی بھی اس وقت تک نہ جھکتا جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں نہ چلے جاتے پھر ہم لوگ سجدہ میں جاتے۔ ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے، انہوں نے ابواسحٰق سے جیسے اوپر گزرا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 690]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ (جو جھوٹے نہیں ہیں) سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی کہتے تو ہم میں سے کوئی شخص اپنی کمر نہ جھکاتا، حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے جاتے۔ پھر ہم آپ کے بعد سجدہ ریز ہوتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 690]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
53. بَابُ إِثْمِ مَنْ رَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلَ الإِمَامِ:
باب: (رکوع یا سجدہ میں) امام سے پہلے سر اٹھانے والے کا گناہ کتنا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 691
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَمَا يَخْشَى أَحَدُكُمْ أَوْ لَا يَخْشَى أَحَدُكُمْ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ صُورَتَهُ صُورَةَ حِمَارٍ".
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن زیاد سے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں وہ شخص جو (رکوع یا سجدہ میں) امام سے پہلے اپنا سر اٹھا لیتا ہے اس بات سے نہیں ڈرتا کہ کہیں اللہ پاک اس کا سر گدھے کے سر کی طرح بنا دے یا اس کی صورت کو گدھے کی سی صورت بنا دے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 691]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: تم میں سے جو شخص اپنا سر امام سے پہلے اٹھاتا ہے، اسے کیا اس بات کا خوف نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کے سر کو گدھے کے سر جیسا بنا دے؟ یا اس کی صورت گدھے کی صورت جیسی بنا دے؟ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 691]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
54. بَابُ إِمَامَةِ الْعَبْدِ وَالْمَوْلَى:
باب: غلام کی اور آزاد کئے ہوئے غلام کی امامت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q692
وَكَانَتْ عَائِشَةُ يَؤُمُّهَا عَبْدُهَا ذَكْوَانُ مِنَ الْمُصْحَفِ وَوَلَدِ الْبَغِيِّ وَالْأَعْرَابِيِّ وَالْغُلَامِ الَّذِي لَمْ يَحْتَلِمْ، لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَؤُمُّهُمْ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ.
‏‏‏‏ اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی امامت ان کا غلام ذکوان قرآن دیکھ کر کیا کرتا تھا اور ولد الزنا اور گنوار اور نابالغ لڑکے کی امامت کا بیان کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ کتاب اللہ کا سب سے بہتر پڑھنے والا امامت کرائے اور غلام کو بغیر کسی خاص عذر کے جماعت میں شرکت سے نہ روکا جائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: Q692]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 692
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ:" لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْأَوَّلُونَ الْعُصْبَةَ مَوْضِعٌ بِقُبَاءٍ قَبْلَ مَقْدَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَؤُمُّهُمْ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَكَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا".
ہم سے ابراہیم بن المنذر حزامی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا انہوں نے عبیداللہ عمری سے، انہوں نے نافع سے انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ جب پہلے مہاجرین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے بھی پہلے قباء کے مقام عصبہ میں پہنچے تو ان کی امامت ابوحذیفہ کے غلام سالم رضی اللہ عنہ کیا کرتے تھے۔ آپ کو قرآن مجید سب سے زیادہ یاد تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 692]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ آمد سے قبل جب اولین مہاجرین قباء کے مقام عصبہ پر پہنچے تو ان کی امامت سالم مولیٰ ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کیا کرتے تھے، انہیں سب سے زیادہ قرآن یاد تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 692]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 693
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا، وَإِنِ اسْتُعْمِلَ حَبَشِيٌّ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَةٌ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوالتیاح یزید بن حمید ضبعی نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اپنے حاکم کی) سنو اور اطاعت کرو، خواہ ایک ایسا حبشی (غلام تم پر) کیوں نہ حاکم بنا دیا جائے جس کا سر سوکھے ہوئے انگور کے برابر ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 693]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے حاکم کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو اگرچہ کوئی سیاہ فام حبشی ہی تم پر حاکم بنا دیا جائے جس کا سر منقے جیسا ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 693]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
55. بَابُ إِذَا لَمْ يُتِمَّ الإِمَامُ وَأَتَمَّ مَنْ خَلْفَهُ:
باب: اگر امام اپنی نماز کو پورا نہ کرے اور مقتدی پورا کریں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 694
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يُصَلُّونَ لَكُمْ، فَإِنْ أَصَابُوا فَلَكُمْ، وَإِنْ أَخْطَئُوا فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ".
ہم سے فضل بن سہل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حسن بن موسیٰ اشیب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امام لوگوں کو نماز پڑھاتے ہیں۔ پس اگر امام نے ٹھیک نماز پڑھائی تو اس کا ثواب تمہیں ملے گا اور اگر غلطی کی تو بھی (تمہاری نماز کا) ثواب تم کو ملے گا اور غلطی کا وبال ان پر رہے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 694]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ تمہیں نماز پڑھاتے ہیں، اگر وہ ٹھیک ٹھیک پڑھائیں گے تو تمہارے لیے اور ان کے لیے بھی ثواب ہے اور اگر وہ غلطی کریں گے تو تمہارے لیے تو ثواب ہے لیکن ان پر گناہ ہو گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 694]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
56. بَابُ إِمَامَةِ الْمَفْتُونِ وَالْمُبْتَدِعِ:
باب: باغی اور بدعتی کی امامت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q695
وَقَالَ الْحَسَنُ: صَلِّ وَعَلَيْهِ بِدْعَتُهُ.
‏‏‏‏ اور بدعتی کے متعلق امام حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا کہ تو اس کے پیچھے نماز پڑھ لے اس کی بدعت اس کے سر رہے گی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: Q695]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 695
قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَقَالَ لَنَا: مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ خِيَارٍ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مَحْصُورٌ، فَقَالَ: إِنَّكَ إِمَامُ عَامَّةٍ، وَنَزَلَ بِكَ مَا نَرَى، وَيُصَلِّي لَنَا إِمَامُ فِتْنَةٍ وَنَتَحَرَّجُ، فَقَالَ:" الصَّلَاةُ أَحْسَنُ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ، فَإِذَا أَحْسَنَ النَّاسُ فَأَحْسِنْ مَعَهُمْ، وَإِذَا أَسَاءُوا فَاجْتَنِبْ إِسَاءَتَهُمْ"، وَقَالَ الزُّبَيْدِيُّ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: لَا نَرَى أَنْ يُصَلَّى خَلْفَ الْمُخَنَّثِ إِلَّا مِنْ ضَرُورَةٍ لَا بُدَّ مِنْهَا.
امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے کہا کہ ہم سے امام اوزاعی نے بیان کیا، کہا ہم سے امام زہری نے حمید بن عبدالرحمٰن سے نقل کیا۔ انہوں نے عبیداللہ بن عدی بن خیار سے کہ وہ خود عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ جب کہ باغیوں نے ان کو گھیر رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آپ ہی عام مسلمانوں کے امام ہیں مگر آپ پر جو مصیبت ہے وہ آپ کو معلوم ہے۔ ان حالات میں باغیوں کا مقررہ امام نماز پڑھا رہا ہے۔ ہم ڈرتے ہیں کہ اس کے پیچھے نماز پڑھ کر گنہگار نہ ہو جائیں۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا نماز تو جو لوگ کام کرتے ہیں ان کاموں میں سب سے بہترین کام ہے۔ تو وہ جب اچھا کام کریں تم بھی اس کے ساتھ مل کر اچھا کام کرو اور جب وہ برا کام کریں تو تم ان کی برائی سے الگ رہو اور محمد بن یزید زبیدی نے کہا کہ امام زہری نے فرمایا کہ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہیجڑے کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ مگر ایسی ہی لاچاری ہو تو اور بات ہے جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 695]
حضرت عبیداللہ بن عدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس اس وقت حاضر خدمت ہوئے جب آپ نظربند تھے اور آپ سے عرض کیا کہ آپ تو تمام لوگوں کے امام ہیں اور آپ ایک ایسی آزمائش سے دوچار ہیں جسے ہم دیکھ رہے ہیں۔ صورت حال یہ ہے کہ ہمیں امامِ فتنہ نماز پڑھاتا ہے جس سے ہم تنگ دل ہوتے ہیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نماز لوگوں کے اعمال میں سے اچھا عمل ہے، جب لوگ عمدہ کام کریں تو تم بھی ان کے ساتھ اچھائی میں شامل ہو جاؤ اور جب وہ برا کام کریں تو تم ان کی برائی سے الگ رہو۔ زبیدی نے کہا: امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم مخنث کے پیچھے نماز پڑھنے کو صحیح نہیں سمجھتے، ہاں اگر کوئی ایسی ضرورت ہو جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو ایسے حالات میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 695]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 696
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي ذَرٍّ:"اسْمَعْ وَأَطِعْ وَلَوْ لِحَبَشِيٍّ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَةٌ".
ہم سے محمد بن ابان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا شعبہ سے، انہوں نے ابوالتیاح سے، انہوں نے انس بن مالک سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوذر سے فرمایا (حاکم کی) سن اور اطاعت کر۔ خواہ وہ ایک ایسا حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو جس کا سر منقے کے برابر ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 696]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: امیر کا حکم سنو اور اس کی فرماں برداری کرو، اگرچہ وہ حبشی غلام ہو جس کا سر انگور کی طرح ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 696]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں