مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
574. حَدِيثُ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 17886
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ، فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ الدَّمَ، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى" .
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کرو، اس سے آلائشیں وغیرہ دور کر کے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کرو۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17886]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17887
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ وَجَدَ تَمْرًا، فَلْيُفْطِرْ عَلَيْهِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ تَمْرًا، فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ، فَإِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ" .
حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص روزہ افطار کرے تو اسے چاہئے کہ کھجور سے افطار کرے، اگر کھجور نہ ملے تو پھر پانی سے افطار کرلے کیونکہ پانی پاکیزگی بخش ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17887]
الحكم على الحديث:
إسناد ضعيف لانقطاعه، حفصة لم تسمع من سلمان
575. حَدِيثُ أَبِي سَعِيدِ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 17888
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ، نَادَى مُنَادٍ: مَنْ كَانَ أَشْرَكَ فِي عَمَلٍ عَمِلَهُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَدًا، فَلْيَطْلُبْ ثَوَابَهُ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ" .
حضرت ابوسعید بن ابی فضالہ رضی اللہ عنہ جو کہ صحابی ہیں، سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو اس دن جمع فرمائے گا جس میں کوئی شک وشبہ نہیں، تو ایک منادی آواز لگائے گا جو شخص کسی عمل میں اللہ کے لئے شریک ٹھہراتا ہو، اسے چاہئے کہ اس کا ثواب بھی اسی سے طلب کرے کیونکہ اللہ تمام شرکاء سے زیادہ شرک سے بیزار ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17888]
الحكم على الحديث:
صحيح الغيره، وهذا إسناد حسن
576. حَدِيثُ مِخْنَفِ بْنِ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 17889
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ أَبِي رَمْلَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَاهُ مِخْنَفُ بْنُ سُلَيْمٍ ، قَالَ: وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَاتٍ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ أَوْ عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أَضْحَاةً وَعَتِيرَةً. قَالَ: تَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ؟" قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَلَا أَدْرِي مَا رَدُّوا. قَالَ:" هَذِهِ الَّتِي يَقُولُ النَّاسُ الرَّجَبِيَّةُ" .
حضرت مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت موجود تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان عرفات میں وقوف کیا ہوا تھا اور فرما رہے تھے اے لوگو! ہر سال ہر گھرانے پر قربانی اور عتیرہ واجب ہے، راوی نے پوچھا جانتے ہو کہ عتیرہ سے کیا مراد ہے؟ ابن عون کہتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے کیا جواب دیا، بہرحال! انہوں نے خود ہی فرمایا یہ وہی قربانی ہے جسے لوگ رحبیہ بھی کہتے ہیں۔ فائدہ: ابتداء میں زمانہ جاہلیت سے ماہ رجب میں قربانی کی رسم چلی آرہی تھی، اسے عتیرہ اور رحبیہ کہا جاتا تھا، بعد میں اس کی ممانعت ہو کر صرف عیدا الاضحی کے موقع پر قربانی کا حکم باقی رہ گیا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17889]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى رملة
577. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الدِّيلِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 17890
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الدِّيلِ، قَالَ: صَلَّيْتُ الظُّهْرَ فِي بَيْتِي، ثُمَّ خَرَجْتُ بِأَبَاعِرَ لِي لِأُصْدِرَهَا إِلَى الرَّاعِي، فَمَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الظُّهْرَ، فَمَضَيْتُ، فَلَمْ أُصَلِّ مَعَهُ، فَلَمَّا أَصْدَرْتُ أَبَاعِرِي وَرَجَعْتُ، ذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: " مَا مَنَعَكَ يَا فُلَانُ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَنَا حِينَ مَرَرْتَ بِنَا؟" قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ كُنْتُ صَلَّيْتُ فِي بَيْتِي. قَالَ:" وَإِنْ" .
بنو دیل کے ایک آدمی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ظہر کی نماز اپنے گھر میں پڑھی اور اپنے اونٹوں کو لے کر نکلا تاکہ چرواہوں کے حوالے کر دوں، راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے میرا گذر ہوا جو لوگوں کو نماز ظہر پڑھا رہے تھے، میں وہاں سے گذر گیا تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہوا تو فرمایا تمہیں ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا تھا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنے گھر میں نماز پڑھ چکا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگرچہ تم نماز پڑھ چکے تھے (پھر بھی تمہیں نفلی نماز کی نیت سے شریک ہونا چاہئے تھا) [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17890]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
578. حَدِيثُ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 17891
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: فَحَدَّثَنِي الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ: " وُلِدْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفِيلِ، فَنَحْنُ لِدَانِ وُلِدْنَا مَوْلِدًا وَاحِدًا" .
حضرت قیس بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم عام الفیل میں پیدا ہوئے تھے، اس اعتبار سے ہم دونوں کی پیدائش ایک ہی سال میں ہوئی تھی۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17891]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف من أجل المطلب، وقد توبع
579. حَدِيثُ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 17892
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِي النَّجْمِ، وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ" ، قَالَ الْمُطَّلِبُ: وَلَمْ أَسْجُدْ مَعَهُمْ. وَهُوَ يَوْمَئِذٍ مُشْرِكٌ، قَالَ الْمُطَّلِبُّ: فَلَا أَدَعُ السُّجُودَ فِيهَا أَبَدًا.
حضرت مطلب بن ابی وداعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت نجم میں آیت سجدہ پر سجدہ تلاوت کیا اور تمام لوگوں بھی سجدہ کیا، لیکن میں نے سجدہ نہیں کیا کیونکہ میں اس وقت تک مشرک تھا، اس لئے اب میں کبھی اس میں سجدہ ترک نہیں کروں گا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17892]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عكرمة بن خالد لم يسمع من المطلب
حدیث نمبر: 17893
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ سُورَةَ النَّجْمِ، فَسَجَدَ وَسَجَدَ مَنْ عِنْدَهُ" . فَرَفَعْتُ رَأْسِي، وَأَبَيْتُ أَنْ أَسْجُدَ. وَلَمْ يَكُنْ أَسْلَمَ يَوْمَئِذٍ الْمُطَّلِبُ، وَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ لَا يَسْمَعُ أَحَدًا يَقْرَأُ بِهَا إِلَّا سَجَدَ مَعَهُ.
حضرت مطلب بن ابی وداعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت نجم میں آیت سجدہ پر سجدہ تلاوت کیا اور تمام لوگوں بھی سجدہ کیا، لیکن میں نے سجدہ نہیں کیا کیونکہ میں اس وقت تک مشرک تھا، اس لئے اب میں کبھی اس میں سجدہ ترک نہیں کروں گا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17893]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل جعفر بن المطلب
580. حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمِيرَةَ الْأَزْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 17894
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمِيرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنَ النَّاسِ نَفْسُ مُسْلِمٍ يَقْبِضُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، تُحِبُّ أَنْ تَعُودَ إِلَيْكُمْ وَأَنَّ لَهَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، غَيْرُ الشَّهِيدِ" . وقَالَ ابْنُ عَمِيرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنْ أُقْتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي الْمَدَرُ وَالْوَبَرُ" .
حضرت ابن ابی عمیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شہید کے علاوہ ہر مسلمان کی روح جب قبض ہوتی ہے تو اس کی خواہش ہوتی ہے، کہ وہ تمہارے پاس لوٹ آئے اور اسے دنیا ومافیہا کی نعمتیں مل جائیں۔ حضرت ابن ابی عمیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اللہ کی راہ میں شہید ہونا اونٹوں اور بکریوں سے زیادہ محبوب ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17894]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، بقية بن الوليد يدلس تدليس التسوية، ولم يصرح تصريح السماع فى جميع طبقات السند
حدیث نمبر: 17895
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمِيرَةَ الْأَزْدِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ مُعَاوِيَةَ، وَقَالَ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا، وَاهْدِ بِهِ" .
حضرت ابن ابی عمیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ! اسے ہدایت کرنے والا اور ہدایت یافتہ بنا اور اس کے ذریعے ہدایت لوگوں تک پہنچا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17895]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، سعيد بن عبدالعزيز اختلط فى آخر عمره، وغمز فى هذا الحديث