مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
582. حَدِيثُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 17916
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُثَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَاصِمٍ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، أَنَّ آخِرَ كَلَامٍ كَلَّمَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ اسْتَعْمَلَنِي عَلَى الطَّائِفِ، فَقَالَ: " خَفِّفْ الصَّلَاةَ عَلَى النَّاسِ" حَتَّى وَقَّتَ لِي اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ وَأَشْبَاهَهَا مِنَ الْقُرْآنِ .
حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آخری مرتبہ جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم لوگوں کو نماز پڑھاؤ تو ہلکی پڑھاؤ، حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے سورت اقرأ باسم ربک الذی خلق کی مقدار متعین فرما دی۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17916]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي
حدیث نمبر: 17917
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى الطَّائِفِيَّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ ، يَقُولُ: اسْتَعْمَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الطَّائِفِ، وَكَانَ آخِرُ مَا عَهِدَهُ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خَفِّفْ عَلَى النَّاسِ الصَّلَاةَ" .
حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے طائف پر مقرر فرما دیا تھا اور سب سے آخری وصیت یہ فرمائی تھی کہ جب تم لوگوں کو نماز پڑھاؤ تو ہلکی پڑھاؤ۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17917]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن عبدالرحمن، وعبدالله ابن الحكم لم يوجد له ترجمة
حدیث نمبر: 17918
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا هُرَيْمٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا إِذْ شَخَصَ بِبَصَرِهِ، ثُمَّ صَوَّبَهُ حَتَّى كَادَ أَنْ يُلْزِقَهُ بِالْأَرْضِ، قَالَ: ثُمَّ شَخَصَ بِبَصَرِهِ فَقَالَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَأَمَرَنِي أَنْ أَضَعَ هَذِهِ الْآيَةَ بِهَذَا الْمَوْضِعِ مِنْ هَذِهِ السُّورَةِ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ سورة النحل آية 90" .
حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنے نیچے ہوئے کہ زمین سے لگنے کے قریب ہوگئے، تھوڑی دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آنکھیں اوپر کیں اور فرمایا کہ ابھی ابھی میرے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آئے تھے اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں یہ آیت فلاں سورت کی فلاں جگہ پر رکھ لوں، ان اللہ یامر بالعدل والاحسان وایتاء ذی القربی۔۔۔۔۔۔۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17918]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف ليث وشهر بن حوشب
583. حَدِيثُ زِيَادِ بْنِ لَبِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 17919
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ لَبِيدٍ ، قَالَ: ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، قَالَ: " وَذَاكَ عِنْدَ أَوَانِ ذَهَابِ الْعِلْمِ". قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وكيف يَذْهَبُ الْعِلْمُ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَنُقْرِئُهُ أَبْنَاءَنَا، وَيُقْرِئُهُ أَبْنَاؤُنَا أَبْنَاءَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ:" ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا ابْنَ أُمِّ لَبِيدٍ، إِنْ كُنْتُ لَأَرَاكَ مِنْ أَفْقَهِ رَجُلٍ بِالْمَدِينَةِ، أَوَلَيْسَ هَذِهِ الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ، فَلَا يَنْتَفِعُونَ مِمَّا فِيهِمَا بِشَيْءٍ؟" .
حضرت زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کا تذکرہ کیا اور فرمایا کہ یہ علم ضائع ہونے کے وقت ہوگا، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم خود بھی قرآن پڑھتے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی پڑھاتے ہیں، پھر وہ اپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں اور یہ سلسلہ یونہی قیامت تک چلتا رہے گا تو علم کیسے ضائع ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن ام لبید! تیری ماں تجھے گم کر کے روئے، میں تو سمجھتا تھا کہ تم مدینہ کے بہت سمجھدار آدمی ہو، کیا یہ یہود و نصاری تورات اور انجیل نہیں پڑھتے؟ دراصل یہ لوگ اس میں موجود تعلیمات سے معمولی سا فائدہ بھی نہیں اٹھاتے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17919]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، سالم بن أبى الجعد لم يسمع من زياد
حدیث نمبر: 17920
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَذَا أَوَانُ ذَهَابِ الْعِلْمِ". قَالَ شُعْبَةُ: أَوْ قَالَ:" هَذَا أَوَانُ انْقِطَاعِ الْعِلْمِ". فَقُلْتُ: وَكَيْفَ وَفِينَا كِتَابُ اللَّهِ نُعَلِّمُهُ أَبْنَاءَنَا، وَيُعَلِّمُهُ أَبْنَاؤُنَا أَبْنَاءَهُمْ؟! قَالَ:" ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ابْنَ لَبِيدٍ، مَا كُنْتُ أَحْسَبُكَ إِلَّا مِنْ أَعْقَلِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، أَلَيْسَ الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى فِيهِمْ كِتَابُ اللَّهِ تَعَالَى؟" . قَالَ شُعْبَةُ: أَوْ قَالَ:" أَلَيْسَ الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى فِيهِمْ التَّوْرَاةُ وَالْإِنْجِيلُ ثُمَّ لَمْ يَنْتَفِعُوا مِنْهُ بِشَيْءٍ؟" أَوْ قَالَ:" أَلَيْسَ الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى، أَوْ أهل الكتاب شُعْبَةُ يَقُولُ ذَلِك فِيهِمْ كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
حضرت زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کا تذکرہ کیا اور فرمایا کہ یہ علم ضائع ہونے کے وقت ہوگا، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم خود بھی قرآن پڑھتے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی پڑھاتے ہیں، پھر وہ اپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں اور یہ سلسلہ یونہی قیامت تک چلتا رہے گا تو علم کیسے ضائع ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن ام لبید! تیری ماں تجھے گم کر کے روئے، میں تو سمجھتا تھا کہ تم مدینہ کے بہت سمجھدار آدمی ہو، کیا یہ یہود و نصاری تورات اور انجیل نہیں پڑھتے؟ دراصل یہ لوگ اس میں موجود تعلیمات سے معمولی سا فائدہ بھی نہیں اٹھاتے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17920]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، سالم لم يسمع من زياد
584. حَدِيثُ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 17921
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَقُتِلَ أَحَدُهُمَا، وَمَاتَ الْآخَرُ بَعْدَهُ، فَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا قُلْتُمْ؟" قَالُوا: دَعَوْنَا لَهُ اللَّهُمَّ أَلْحِقْهُ بِصَاحِبِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَأَيْنَ صَلَاتُهُ بَعْدَ صَلَاتِهِ؟ وَأَيْنَ صَوْمُهُ بَعْدَ صَوْمِهِ؟ وَأَيْنَ عَمَلُهُ بَعْدَ عَمَلِهِ؟" شَكَّ فِي الصَّلَاةِ وَالْعَمَلِ شُعْبَةُ فِي أَحَدِهِمَا الَّذِي بَيْنَهُمَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ" ..
حضرت عبید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان مواخات فرمائی، ان میں سے ایک تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پہلے شہید ہوگیا اور کچھ عرصے بعد دوسرا طبعی طور پر فوت ہوگیا، لوگ اس کے لئے دعاء کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ کیا دعاء کر رہے ہو؟ ہم نے عرض کیا کہ یہ کہہ رہے ہیں اے اللہ! اس کی بخشش فرما، اس پر رحم فرما اور اسے اس کے ساتھی کی رفاقت عطاء فرما، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر شہید ہونے والے کے بعد اس کی پڑھی جانے والی نمازیں کہاں گئیں؟ جو روزے اس نے بعد میں رکھے یا جو بھی اعمال کئے، وہ کہاں جائیں گے؟ ان دونوں کے درمیان تو زمین و آسمان سے بھی زیادہ فاصلہ ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17921]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17922
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17923
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، قَالَ: آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَقُتِلَ أَحَدُهُمَا، وَمَاتَ الْآخَرُ بَعْدَهُ، فَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا قُلْتُمْ؟" قَالُوا: دَعَوْنَا لَهُ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ، وَأَنْ يَرْحَمَهُ، وَأَنْ يُلْحِقَهُ بِصَاحِبِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَأَيْنَ صَلَاتُهُ بَعْدَ صَلَاتِهِ، وَعَمَلُهُ بَعْدَ عَمَلِهِ، أَوْ صِيَامُهُ بَعْدَ صِيَامِهِ؟" قَالَ:" إِنَّ مَا بَيْنَهُمَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ" .
حضرت عبید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان مواخات فرمائی، ان میں سے ایک تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پہلے شہید ہوگیا اور کچھ عرصے بعد دوسرا طبعی طور پر فوت ہوگیا، لوگ اس کے لئے دعاء کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ کیا دعاء کر رہے ہو؟ ہم نے عرض کیا کہ یہ کہہ رہے ہیں اے اللہ! اس کی بخشش فرما، اس پر رحم فرما اور اسے اس کے ساتھی کی رفاقت عطاء فرما، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر شہید ہونے والے کے بعد اس کی پڑھی جانے والی نمازیں کہاں گئیں؟ جو روزے اس نے بعد میں رکھے یا جو بھی اعمال کئے، وہ کہاں جائیں گے؟ ان دونوں کے درمیان تو زمین و آسمان سے بھی زیادہ فاصلہ ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17923]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17924
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، أَوْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَوْتُ الْفَجْأَةِ أَخْذَةُ أَسَفٍ" . وَحَدَّثَ بِهِ مَرَّةً عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت عبید بن خالد رضی اللہ عنہ جو کہ صحابی تھے سے مروی ہے کہ ناگہانی موت افسوسناک موت ہے۔ گزشتہ حدیث مرفوعاً بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17924]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17925
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي مَوْتِ الْفَجْأَةِ: " أَخْذَةُ أَسَفٍ" .
حضرت عبید بن خالد رضی اللہ عنہ جو کہ صحابی تھے سے مروی ہے کہ ناگنہانی موت افسوسناک موت ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17925]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وقد روي هنا موقوفا