مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
492. حَدِیث عقبَةَ بنِ عَامِر الجهَنِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 17446
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَنْسَابَكُمْ هَذِهِ لَيْسَتْ بِمَسَبَّةٍ عَلَى أَحَدٍ، كُلُّكُمْ بَنُو آدَمَ، طَفُّ الصَّاعِ لَمْ تَملَئُوه، لَيْسَ لِأَحَدٍ عَلَى أَحَدٍ فَضْلٌ إِلَّا بِدِينٍ أَوْ تَقْوَى، وَكَفَى بِالرَّجُلِ أَنْ يَكُونَ بَذِيًّا بَخِيلًا فَاحِشًا" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے یہ نسب نامے کسی کے لئے عیب اور طعنہ نہیں ہیں تم سب آدم کی اولاد ہو اور ایک دوسرے کے قریب ہو، دین یا عمل صالح کے علاوہ کسی وجہ سے کسی کو کسی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے، انسان کے فحش گو ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ بیہودہ گو ہو، بخیل اور بزدل ہو۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17446]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكن رواه عنه ابن وهب و قتيبة، وروايتهما عنه صالحة
حدیث نمبر: 17447
حَدَّثَنَا يحيي بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، حَدَّثَنِي مَوْلًى لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: إِنَّ لَنَا جِيرَانًا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ، قَالَ: اسْتُرْ عَلَيْهِمْ، قَالَ: مَا أَسْتُرُ عَلَيْهِمْ! أُرِيدُ أَنْ أَذْهَبَ أَجِيءَ بِالشُّرَطِ عَلَيْهِمْ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ عُقْبَةُ : وَيْحَكَ، مَهْلًا عَلَيْهِمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ رَأَى عَوْرَةً فَسَتَرَهَا، كَانَ كَمَنْ اسْتَحْيَا مَوْءُودَةً مِنْ قَبْرِهَا" .
دخین جو حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کا کاتب تھا، سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ ہمارے پڑوسی شراب پیتے ہیں، میں پولیس کو بلانے جا رہا ہوں تاکہ وہ آکر انہیں پکڑ لے، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایسا نہ کرو، بلکہ انہیں سمجھاؤ اور ڈراؤ،۔ کاتب نے ایسا ہی کیا لیکن وہ باز نہ آئے، چنانچہ دخین دوبارہ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے انہیں منع کیا لیکن وہ باز نہ آئے اور اب تو میں پولیس کو بلا کر رہوں گا، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا افسوس! ایسا مت کرو، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے، گویا وہ کسی زندہ درگور کی ہوئی بچی کو بچا لیتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17447]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، ولجهالة مولي عقبة بن عامر
حدیث نمبر: 17448
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ رَجِلٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ صَلَّى غَيْرَ سَاهٍ وَلَا لَاهٍ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" ، وَقَالَ يَحْيَى مَرَّةً:" غُفِرَ مَا كَانَ قَبْلَهَا مِنْ سَيِّئَةٍ".
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح کرے، پھر اس طرح نماز پڑھے کہ اس میں بھولے اور نہ ہی غفلت برتے تو اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17448]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الذى روى عنه بكر بن سوادة، ولجهالة ربيعة بن قيس، وابن لهيعة متابع
حدیث نمبر: 17449
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أخْبَرَنَا بْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ ، أَنَّ رَجُلًا حَدَّثَهُ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ قَيْسٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ صَلَّى صَلَاةً غَيْرَ سَاهٍ وَلَا لَاهٍ، كُفِّرَ عَنْهُ مَا كَانَ قَبْلَهَا مِنْ شَيْءٍ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح کرے، پھر اس طرح نماز پڑھے کہ اس میں بھولے اور نہ ہی غفلت برتے تو اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17449]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 17450
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السِّيْلَحِينِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ رُزَيْقٍ الثَّقَفِيِّ . وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ رُزَيْقٍ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ ابْنِ شِمَاسَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَمْ يَقْبَلْ رُخْصَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الذُّنُوبِ مِثْلُ جِبَالِ عَرَفَةَ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی رخصت کو قبول نہیں کرتا اسے عرفات کے پہاڑوں کے برابر گناہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17450]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة رزيق الثقفي، وابن لهيعة سيئ الحفظ ، وقد اضطرب فى إسناده
حدیث نمبر: 17451
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ ابْنِ شِمَاسَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مُسْلِمٍ أَنْ يُغَيِّبَ مَا بِسِلْعَتِهِ عَنْ أَخِيهِ إِنْ عَلِمَ بِهَا تَرَكَهَا" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ اپنے بھائی سے سامان میں کوئی ایسا عیب چھپائے کہ اگر اسے وہ عیب معلوم ہوجائے تو وہ اسے چھوڑ دے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17451]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 17452
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخَثْعَمِيِّ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مُجَاهِدٍ اللَّخْمِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي:" يَا عُقْبَةُ بْنَ عَامِرٍ، صِلْ مَنْ قَطَعَكَ، وَأَعْطِ مَنْ حَرَمَكَ، وَاعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَكَ"، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي:" يَا عُقْبَةُ بْنَ عَامِرٍ، أَمْلِكْ لِسَانَكَ، وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ، وَلْيَسَعْكَ بَيْتُكَ"، قَالَ: ثُمَّ لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي:" يَا عُقْبَةُ بْنَ عَامِرٍ، أَلَا أُعَلِّمُكَ سُوَرًا مَا أُنْزِلَتْ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الزَّبُورِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ وَلَا فِي الْفُرْقَانِ مِثْلُهُنَّ، لَا يَأْتِيَنَّ عَلَيْكَ لَيْلَةٌ إِلَّا قَرَأْتَهُنَّ فِيهَا: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ و َقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ و َقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ" ، قَالَ عُقْبَةُ: فَمَا أَتَتْ عَلَيَّ لَيْلَةٌ إِلَّا قَرَأْتُهُنَّ فِيهَا، وَحُقَّ لِي أَنْ لَا أَدَعَهُنَّ وَقَدْ أَمَرَنِي بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ فَرْوَةُ بْنُ مُجَاهِدٍ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ يَقُولُ: أَلَا فَرُبَّ مَنْ لَا يَمْلِكُ لِسَانَهُ، أَوْ لَا يَبْكِي عَلَى خَطِيئَتِهِ وَلَا يَسَعُهُ بَيْتُهُ.
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میری نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا عقبہ! رشتہ توڑنے والے سے رشتہ جوڑو، محروم رکھنے والے کو عطاء کرو اور ظالم سے درگذر اور اعراض کرو۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ پھر میری ملاقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عقبہ! اپنی زبان کی حفاظت کرو اپنے گھر کو اپنے لئے کافی سمجھو اور اپنے گناہوں پر آہ وبکاء کرو۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ پھر میری ملاقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عقبہ بن عامر! کیا میں تمہیں ایسی سورتیں نہ بتاؤں جن کی مثال تورات، زبور، انجیل اور قرآن میں بھی نہیں ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورت اخلاص سورت فلق اور سورت ناس پڑھائیں اور فرمایا عقبہ انہیں مت بھلانا اور کوئی رات ایسی نہ گذارنا جس میں یہ سورتیں نہ پڑھو، چنانچہ میں نے اس وقت سے انہیں کبھی بھولنے نہیں دیا اور کوئی رات انہیں پڑھے بغیر نہیں گذاری۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17452]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن، م: 814
حدیث نمبر: 17453
حَدَّثَنَا موسى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِرَجُلٍ يُقَالُ لَهُ: ذُو الْبِجَادَيْنِ: " إِنَّهُ أَوَّاهٌ"، وَذَلِكَ أَنَّهُ كَانَ رجلًا كَثِيرَ الذِّكْرِ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ، وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ فِي الدُّعَاءِ .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذولبجادین نامی ایک آدمی کے متعلق فرمایا وہ بڑا آہ وبکاء کرنے والا ہے، وہ شخص قرآن کی تلاوت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرتا تھا اور بلند آواز سے دعاء کرتا تھا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17453]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 17454
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : وَرَكِبَ أَبُو أَيُّوبَ إِلَى عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ إِلَى مِصْرَ، فَقَالَ: إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ يَبْقَ مِمَّنْ حَضَرَهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنَا وَأَنْتَ، كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي سَتْرِ الْمُؤْمِنِ؟ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ سَتَرَ مُؤْمِنًا فِي الدُّنْيَا عَلَى عَوْرَةٍ سَتَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" ، فَرَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَمَا حَلَّ رَحْلَهُ يُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ.
عطاء کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سفر کر کے حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، لیکن وہ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے، حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ مجھے حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کا پتہ بتادو، چنانچہ وہ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ ہمیں وہ حدیث سنائیے جو آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنی ہے اور اب کوئی شخص اس کی سماعت کرنے والا باقی نہیں رہا؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص دنیا میں اپنے بھائی کے کسی عیب کو چھپالے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیوب پر پردہ ڈال دے گا؟ یہ حدیث سن کر وہ اپنی سواری کے پاس آئے، اس پر سوار ہوئے اور واپس چلے گئے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17454]
الحكم على الحديث:
المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، ابن جريج لم يدرك أحدا من الصحابة
حدیث نمبر: 17455
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، ثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: اتَّبَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَاكِبٌ، فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى قَدَمِهِ، فَقُلْتُ: أَقْرِئْنِي سُورَةَ هُودٍ أَوْ سُورَةَ يُوسُفَ، فَقَالَ: " لَنْ تَقْرَأَ شَيْئًا أَبْلَغَ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوار تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک قدموں پر ہاتھ رکھ کر عرض کیا کہ مجھے سورت ہود اور سورت یوسف پڑھا دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نزدیک تم سورت فلق سے زیادہ بلیغ کوئی سورت نہ پڑھو گے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17455]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 814