🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
508. حَدِیث المطَّلِبِ عن النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17525
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عِمْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عن رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، عن الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الصَّلَاةُ مَثْنَى مَثْنَى، تَشَهَّدُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَتَضَرَّعُ، وَتَخَشَّعُ، وَتَسَاكَنُ، ثُمَّ تُقْنِعُ يَدَيْكَ يَقُولُ: تَرْفَعُهُمَا إِلَى رَبِّكَ عَزَّ وَجَلَّ مُسْتَقْبِلًا بِبُطُونِهِمَا وَجْهَكَ، وَتَقُولُ: يَا رَبِّ، يَا رَبِّ ثَلَاثًا فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ، فَهِيَ خِدَاجٌ" . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا هُوَ عِنْدِي الصَّوَابُ.
حضرت مطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا (نفلی) نماز کی دو دو رکعتیں ہوتی ہیں، ہر دو رکعتوں پر تشہد پڑھو، اپنی ضرورت اور عاجزی ظاہر کرو اور اپنے ہاتھوں کو پھیلاؤ اور اے اللہ! اے اللہ! کہہ کر دعاء مانگو، جو شخص ایسا نہ کرے، اس کی نماز نامکمل ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17525]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، راجع ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17526
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعِ بْنِ أَبِي الْعَمْيَاءِ ، عن الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَتَشَهَّدْ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ لِيُلْحِفْ فِي الْمَسْأَلَةِ، ثُمَّ إِذَا دَعَا فَلْيَتَسَاكَنْ، وَلْيَتَباءَسْ، وَلْيَتَضَعَّفْ، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ، فَذَاكَ الْخِدَاجُ أَوْ كَالْخِدَاجِ" .
حضرت مطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا (نفلی) نماز کی دو دو رکعتیں ہوتی ہیں، ہر دو رکعتوں پر تشہد پڑھو، اپنی ضرورت اور عاجزی ظاہر کرو اور اپنے ہاتھوں کو پھیلاؤ اور اے اللہ! اے اللہ! کہہ کر دعاء مانگو، جو شخص ایسا نہ کرے، اس کی نماز نامکمل ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17526]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا لجهالة عبدالله ابن نافع، ولضعف يزيد بن عياض
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17527
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، حَدَّثَهُ مُؤَذِّنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ مَطَرٍ: " صَلُّوا فِي الرِّحَالِ" .
ایک شخص کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے بتایا کہ ایک دن بارش ہو رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے نداء لگائی کہ لوگو! اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17527]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، والرجل المبهم هو صحابي، والله أعلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17528
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَنس بْنِ أَبِي أَنَسٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عن الْمُطَّلِبِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الصَّلَاةُ مَثْنَى مَثْنَى، وَتَشَهَّدُ، وَتُسَلِّمُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَتَبَاءَسُ، وَتَمَسْكَنُ، وَتُقْنِعُ يَدَيْكَ وَتَقُولُ: اللَّهُمَّ اللَّهُمَّ، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ، فَهِيَ خِدَاجٌ" .
حضرت مطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا (نفلی) نماز کی دو دو رکعتیں ہوتی ہیں، ہر دو رکعتوں پر تشہد پڑھو، اپنی ضرورت اور عاجزی ظاہر کرو اور اپنے ہاتھوں کو پھیلاؤ اور اے اللہ! اے اللہ! کہہ کر دعاء مانگو، جو شخص ایسا نہ کرے، اس کی نماز نامکمل ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17528]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة عبدالله بن نافع، وأخطأ شعبة فى اسم الرواة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17529
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعِ بْنِ الْعَمْيَاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عن الْمُطَّلِبِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الصَّلَاةُ مَثْنَى مَثْنَى، تَشَهَّدُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَتَبَاءَسُ، وَتَمَسْكَنُ، وَتُقْنِعُ يَدَيْكَ وَتَقُولُ: اللَّهُمَّ اللَّهُمَّ، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ، فَهِيَ خِدَاجٌ" . قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ: صَلَاتُهُ خِدَاجٌ؟ قَالَ: نَعَمْ. فَقُلْتُ لَهُ: مَا الْإِقْنَاعُ؟ فَبَسَطَ يَدَيْهِ كَأَنَّهُ يَدْعُو.
حضرت مطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا (نفلی) نماز کی دو دو رکعتیں ہوتی ہیں، ہر دو رکعتوں پر تشہد پڑھو، اپنی ضرورت اور عاجزی ظاہر کرو اور اپنے ہاتھوں کو پھیلاؤ اور اے اللہ! اے اللہ! کہہ کر دعاء مانگو، جو شخص ایسا نہ کرے، اس کی نماز نامکمل ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17529]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
509. حَدِیث رَجل مِن ثَقِیف، عن النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17530
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ مُهَلْهِلٍ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ شِبَاكٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عن رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ قَالَ: سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا، فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا، فَقُلْنَا: إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ، فَسَأَلْنَاهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَنَا فِي الطُّهُورِ، فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا، وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَنَا فِي الدُّبَّاءِ، فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا فِيهِ سَاعَةً، وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْنَا أَبَا بَكْرَةَ، فَأَبَى، وَقَالَ: " هُوَ طَلِيقُ اللَّهِ وَطَلِيقُ رَسُولِهِ" . وَكَانَ أَبُو بَكْرَةَ خَرَجَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَاصَرَ الطَّائِفَ فَأَسْلَمَ. حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْوَرَكَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ شِبَاكٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
ایک ثقفی صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تین چیزوں کی درخواست کی تھی لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رخصت نہیں دی، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہمارا علاقہ بہت ٹھنڈا ہے، ہمیں نماز سے قبل وضو نہ کرنے کی رخصت دے دیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت نہیں دی، پھر ہم نے کدو کے برتن کی اجازت مانگی تو اس وقت اس کی بھی اجازت نہیں دی، پھر ہم نے درخواست کی کہ ابو بکرہ کو ہمارے حوالے کردیں؟ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کردیا اور فرمایا وہ اللہ اور اس کے رسول کا آزاد کردہ ہے، دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت طائف کا محاصرہ کیا تھا تو حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے وہاں سے نکل کر اسلام قبول کرلیا تھا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17530]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17531
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْوَرَكَانِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ شِبَاكٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
510. حَدِیث اَبِی اِسرَائِیلَ، عن النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17532
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عن أَبِي إِسْرَائِيلَ ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَأَبُو إِسْرَائِيلَ يُصَلِّي، فَقِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا يَقْعُدُ، وَلَا يُكَلِّمُ النَّاسَ، وَلَا يَسْتَظِلُّ، وَهُوَ يُرِيدُ الصِّيَامَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيَقْعُدْ، وَلْيُكَلِّمْ النَّاسَ، وَلْيَسْتَظِلَّ، وَلْيَصُمْ" .
حضرت ابو اسرائیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے، کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ ہے وہ آدمی جو بیٹھتا ہے اور نہ ہی لوگوں سے بات کرتا ہے یا سائے میں بیٹھتا ہے اور روزے رکھنا چاہتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چاہئے کہ بیٹھا کرے، لوگوں سے بات چیت کیا کرے، سایہ لیا کرے اور روزہ بھی رکھا کرے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17532]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا مرسل لأن أبا إسرائيل يخبر عن قصة أبى إسرائيل، والله أعلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
511. حَدِیث فلَان مِن اَصحَابِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17533
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: وَنَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عِنْدَهُ، فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى لِيَحْصِبَهُ، ثُمَّ قَالَ عِكْرِمَةُ، حَدَّثَنِي فُلَانٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ تَمِيمًا ذُكِرُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَبْطَأَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ تَمِيمٍ، عن هَذَا الْأَمْرِ. فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مُزَيْنَةَ، فَقَالَ: " مَا أَبْطَأَ قَوْمٌ هَؤُلَاءِ مِنْهُمْ". وَقَالَ رَجُلٌ يَوْمًا: أَبْطَأَ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ مِنْ تَمِيمٍ بِصَدَقَاتِهِمْ، قَالَ: فَأَقْبَلَتْ نَعَمٌ حُمْرٌ وَسُودٌ لِبَنِي تَمِيمٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذِهِ نَعَمُ قَوْمِي". وَنَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَقَالَ:" لَا تَقُلْ لِبَنِي تَمِيمٍ إِلَّا خَيْرًا، فَإِنَّهُمْ أَطْوَلُ النَّاسِ رِمَاحًا عَلَى الدَّجَّالِ" .
ایک مرتبہ عکرمہ بن خالد رحمہ اللہ کی موجودگی میں کسی شخص نے بنو تمیم کے ایک آدمی کی بےعزتی کی تو عکرمہ نے اسے مارنے کے لئے مٹھی میں بھر کر کنکریاں اٹھا لیں، پھر کہنے لگے کہ مجھ سے ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بنو تمیم کا ذکر ہونے لگا، تو ایک آدمی کہنے لگا کہ بنو تمیم کے اس قبیلے نے ایمان قبول کرنے میں بڑی سستی کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ مزینہ کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ ان کی نسبت تو ان سے زیادہ کسی قوم نے تاخیر نہیں کی، اسی طرح ایک مرتبہ ایک شخص کہنے لگا کہ بنو تمیم کے اس قبیلے نے زکوٰۃ کی ادائیگی میں بڑی تاخیر کردی ہے، کچھ ہی عرصے بعد بنو تمیم کے سرخ و سیاہ جانور آگئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ میری قوم کے جانور ہیں، اس طرھ ایک مرتبہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں بنو تمیم کے حوالے سے نامناسب جملے کہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنو تمیم کا ہمیشہ اچھے انداز میں ہی تذکرہ کیا کرو، کیونکہ دجال کے خلاف سب سے زیادہ لمبے نیزے ان ہی کے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17533]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
512. حَدِیث الاَسوَدِ بنِ خَلَف، عن النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17534
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ خَلَفٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ الْأَسْوَدَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ النَّاسَ يَوْمَ الْفَتْحِ، قَالَ: " جَلَسَ عِنْدَ قَرْنِ مَسْقَلَةَ، فَبَايَعَ النَّاسَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالشَّهَادَةِ" . قُلْتُ: وَمَا الشَّهَادَةُ؟ قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْأَسْوَدِ يَعْنِي ابْنَ خَلَفٍ، أَنَّهُ بَايَعَهُمْ عَلَى الْإِيمَانِ بِاللَّهِ، وَشَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن لوگوں سے بیعت لیتے ہوئے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسقلہ کی چوٹی پر تشریف فرما تھے اور لوگوں سے اسلام اور شہادت پر بیعت لے رہے تھے، راوی نے پوچھا کہ شہادت سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے محمد بن اسود بن خلف نے بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے اللہ پر ایمان اور اس بات کی شہادت پر بیعت لے رہے تھے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17534]

الحكم على الحديث:
إسناده محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں