مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
499. حَدِیث عِیَاضِ بنِ حِمَار المجَاشِعِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 17486
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عن عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِثْمُ الْمُسْتَبَّيْنِ مَا قَالَا عَلَى الْبَادِئِ، حَتَّى يَعْتَدِيَ الْمَظْلُومُ" أَوْ" إِلَّا أَنْ يَعْتَدِيَ الْمَظْلُومُ". شَكَّ يَزِيدُ.
حضرت عیاض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب دو آدمی گالی گلوچ کرتے ہیں تو اس کا گناہ آغاز کرنے والے پر ہوتا ہے، الاّ یہ کہ مظلوم بھی حد سے آگے بڑھ جائے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17486]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17487
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يَزِيدَ ، عن عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمُسْتَبَّانِ شَيْطَانَانِ، يَتَكَاذَبَانِ وَيَتَهَاتَرَانِ" .
حضرت عیاض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ دو شخص جو ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں، وہ دونوں شیطان ہوتے ہیں جو کہ بکواس اور جھوٹ بولتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17487]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17488
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ . قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ يَزِيدَ أَخِي مُطَرِّفٍ، عن عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِثْمُ الْمُسْتَبَّيْنِ مَا قَالَا، فَعَلَى الْبَادِئِ، مَا لَمْ يَعْتَدِ" . قَالَ عَفَّانُ:" أَوْ حَتَّى يَعْتَدِيَ الْمَظْلُومُ".
حضرت عیاض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب دو آدمی گالی گلوچ کرتے ہیں تو اس کا گناہ آغاز کرنے والے پر ہوتا ہے، الاّ یہ کہ مظلوم بھی حد سے آگے بڑھ جائے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17488]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17489
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: وَحَدَّثَ مُطَرِّفٌ ، عن عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَشْتُمُنِي وَهُوَ أَنْقَصُ مِنِّي نَسَبًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُسْتَبَّانِ شَيْطَانَانِ، يَتَهَاتَرَانِ وَيَتَكَاذَبَانِ" ..
حضرت عیاض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میری قوم کا کوئی آدمی مجھے گالی دیتا ہے اور مجھ سے فروتر بھی ہے، اگر میں اس سے بدلہ لیتا ہوں تو کیا اس میں گناہ ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ دو شخص جو ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں، وہ دونوں شیطان ہوتے ہیں جو کہ بکواس اور جھوٹ بولتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17489]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17490
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عن عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي خُطْبَتِهِ ذَاتَ يَوْمٍ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" الَّذِينَ هُمْ فِيكُمْ تَبَعًا لَا يَبْغُونَ أَهْلًا"، وَذَكَرَ الْكَذِبَ وَالْبُخْلَ. قَالَ سَعِيدٌ: قَالَ مَطَر: عن قَتَادَةَ: الشَّنْظِيرُ: الْفَاحِشُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17490]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي، م: 2865
500. حَدِیث اَبِی رِمثَةَ التَّیمِیِّ وَیقَال: التَّمِیمِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 17491
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو رِمْثَةَ التَّمِيمِيُّ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي ابْنٌ لِي، فَقَالَ:" هَذَا ابْنُكَ؟". فَقُلْتُ: نَعَمْ أَشْهَدُ بِهِ. قَالَ:" لَا يَجْنِي عَلَيْكَ، وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ". قَالَ: وَرَأَيْتُ الشَّيْبَ أَحْمَرَ.
حضرت ابو رمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا یہ تمہارا بیٹا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! میں اس کی گواہی دیتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے کسی جرم کا ذمہ دار تمہیں یا تمہارے کسی جرم کا ذمہ دار اسے نہیں بنایا جائے گا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سرخ وسفید بال دیکھے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17491]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، رجاله ثقات، لكن فى هذه الرواية: أن أبا رمثة جاء إلى النبى صلى الله عليه وسلم مع ابنه، والصواب: أنه جاء مع أبيه
حدیث نمبر: 17492
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبْجَرَ ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، عن أَبِي رِمْثَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِي، فَرَأَى الَّتِي بِظَهْرِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أُعَالِجُهَا لَكَ فَإِنِّي طَبِيبٌ؟ قَالَ:" أَنْتَ رَفِيقٌ، وَاللَّهُ الطَّبِيبُ". قَالَ:" مَنْ هَذَا مَعَكَ؟" فَقَالَ: ابْنِي اشْهَدْ بِهِ. قَالَ: " أَمَا إِنَّهُ لَا تَجْنِي عَلَيْهِ، وَلَا يَجْنِي عَلَيْكَ" . قَال عَبْدُ الله: قَالَ أَبي: اسْمُ أَبِي رِمْثَةَ رِفَاعَةُ بْنُ يَثْرِبِيٍّ.
حضرت ابو رمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک پشت پر انہوں نے جب مہر نبوت دیکھی تو کہنے لگے یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں آپ کا علاج نہ کروں؟ کہ میں طبیب ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم تو رفیق ہو، طبیب، اللہ ہے، پھر فرمایا یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے بتایا کہ میرا بیٹا ہے اور میں اس پر گواہ ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو! یہ تمہارے کسی جرم کا اور تم اس کے کسی جرم کے ذمہ دار نہیں ہو۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17492]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17493
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ السَّدُوسِيِّ ، عن أَبِي رِمْثَةَ التَّمِيمِيِّ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِي حَتَّى أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْتُ بِرَأْسِهِ رَدْعَ حِنَّاءٍ، وَرَأَيْتُ عَلَى كَتِفِهِ مِثْلَ التُّفَّاحَةِ، قَالَ أَبِي: إِنِّي طَبِيبٌ، أَلَا أَبُطُّهَا لَكَ؟ قَالَ:" طَيَّبَهَا الَّذِي خَلَقَهَا". قَالَ: وَقَالَ لِأَبِي:" هَذَا ابْنُكَ؟" قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْك، وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ" .
حضرت ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مہندی کا اثر دیکھا اور کندھے پر کبوتری کے انڈے کے برابر مہر نبوت دیکھی تو میرے والد کہنے لگے یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں آپ کا علاج نہ کروں کہ میں طبیب ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا طبیب اللہ ہے، جس نے اسے بنایا ہے، پھر فرمایا یہ تمہارے ساتھ تمہارا بیٹا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو! یہ تمہارے کسی جرم کا اور تم اس کے کسی جرم کے ذمہ دار نہیں ہو۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17493]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17494
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، عن أَبِي رِمْثَةَ التَّمِيمِيِّ قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدْنَاهُ جَالِسًا فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ .
حضرت ابو رمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے والد کے ساتھ حاضر ہوا، ہم نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سبز چادریں زیب تن فرما رکھی ہیں۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17494]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17495
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، عن أَبِي رِمْثَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، وَيَقُولُ: " يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا، أُمَّكَ وَأَبَاكَ، وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ، وَأَدْنَاكَ فَأَدْنَاكَ". قَالَ: فَدَخَلَ نَفَرٌ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلَاءِ النَّفَرُ الْيَرْبُوعِيُّونَ الَّذِينَ قَتَلُوا فُلَانًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى" مَرَّتَيْنِ..
حضرت ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دیتے ہوئے فرما رہے تھے کہ دینے والے کا ہاتھ اوپر ہوتا ہے، اپنی والدہ، والد، بہن بھائی اور درجہ بدرجہ قریبی رشتہ داروں کو دیتے رہا کرو، اسی اثناء میں بنو ثعلبہ بن یربوع کے کچھ لوگ آگئے، جنہیں دیکھ کر ایک انصاری کہنے لگا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ وہی یربوعی لوگ ہیں جنہوں نے فلاں آدمی کو قتل کیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا یاد رکھو! کسی شخص کے جرم کا ذمہ دار کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17495]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، المسعودي مختلط، وسماع البصريين من قبل اختلاطه