🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
500. حَدِیث اَبِی رِمثَةَ التَّیمِیِّ وَیقَال: التَّمِیمِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17496
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ هُوَ ابْنُ الرَّيَّانِ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ الْأَسَدِيُّ ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، عن أَبِي رِمْثَةَ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي وَأَنَا غُلَامٌ، فَأَتَيْنَا رَجُلًا فِي الْهَاجِرَةِ جَالِسًا فِي ظِلِّ بَيْته عَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ، وَشَعْرُهُ وَفْرَةٌ، وَبِرَأْسِهِ رَدْعٌ مِنْ حِنَّاءٍ، قَالَ: فَقَالَ لِي أَبِي: أَتَدْرِي مَنْ هَذَا؟ فَقُلْتُ: لَا. قَالَ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَهُ.
حضرت ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے والد کے ساتھ حاضر ہوا، ہم نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سبز چادریں زیب تن فرما رکھی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال گھنے اور سر پر مہندی کا اثر تھا، میرے والد نے پوچھا کیا تم انہیں جانتے ہو؟ میں نے کہا نہیں، انہوں نے بتایا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17496]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف قيس بن الربيع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17497
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ الْحِمْيَرِيُّ سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ حُمْرَةَ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، عن أَبِي رِمْثَةَ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْضِبُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ، وَكَانَ شَعْرُهُ يَبْلُغُ كَتِفَيْهِ أَوْ مَنْكِبَيْهِ" ..
حضرت ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مہندی اور وسمہ سے خضاب لگاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک کندھوں تک آتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17497]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الضحاك
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17498
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبْجَرَ ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، عن أَبِي رِمْثَةَ التَّمِيمِيِّ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِي، وَلَهُ لِمَّةٌ بِهَا رَدْعٌ مِنْ حِنَّاءٍ، وَذَكَرَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17498]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17499
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو رِمْثَةَ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ابْنٌ لَهُ، فَقَالَ:" ابْنُكَ هَذَا؟" قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: " أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ، وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ" .
حضرت ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا یہ تمہارا بیٹا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں (میں اس کی گواہی دیتا ہوں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے کسی جرم کا ذمہ دار تمہیں یا تمہارے کسی جرم کا ذمہ دار اسے نہیں بنایا جائے گا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17499]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، لكن الصواب: أن أبا رمثة جاء مع أبيه لا ابنه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17500
حَدَّثَنَا عَبْدُ الله، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الْأَزْرَقُ ، حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ الْحِمْيَرِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ حُمْرَةَ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، عن أَبِي رِمْثَةَ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْضِبُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ، وَكَانَ شَعَرُهُ يَبْلُغُ كَتِفَيْهِ أَوْ مَنْكِبَيْهِ" . شَكَّ أَبُو سُفْيَانَ.
حضرت ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مہندی اور وسمہ سے خضاب لگاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک کندھوں تک آتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17500]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الضحاك
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
501. حَدِيثُ أَبِي عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17501
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَلَاذٍ ، عن نُمَيْرِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مَسْرُوحٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ ، عن أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " نِعْمَ الْحَيُّ الْأَسَدُ، وَالْأَشْعَرِيُّونَ، لَا يَفِرُّونَ فِي الْقِتَالِ وَلَا يَغُلُّونَ، هُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ" . قَالَ عَامِرٌ: فَحَدَّثْتُ بِهِ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: لَيْسَ هَكَذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّمَا قَالَ:" هُمْ مِنِّي وَإِلَيَّ". فَقُلْتُ: لَيْسَ هَكَذَا حَدَّثَنِي أَبِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنَّهُ قَالَ:" هُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ". قَالَ: فَأَنْتَ إِذًا أَعْلَمُ بِحَدِيثِ أَبِيكَ.
حضرت ابوعامر اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بنو اسد اور اشعریین بہترین قبیلے ہیں، جو میدان جنگ سے بھاگتے ہیں اور نہ ہی خیانت کرتے ہیں، وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔ حضرت ابو عامر کے صاحبزادے عامر کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو سنائی تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم منی کے بعد وانا منہم نہیں فرمایا تھا بلکہ والی فرمایا تھا، عامر نے کہا کہ میرے والد صاحب نے اس طرح بیان نہیں کیا بلکہ یہی فرمایا وانا منہم تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اپنے والد کی حدیث تم زیادہ بہتر جانتے ہوگے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17501]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، فيه مجهولان: عبدالله بن ملاذ ومالك بن مسروح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17502
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُسَيْن ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، عن عَامِرٍ ، أَوْ أَبِي عَامِرٍ ، أَوْ أَبِي مَالِكٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ أَصْحَابُهُ، جَاءَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فِي غَيْرِ صُورَتِهِ، يَحْسِبُهُ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، ثُمَّ وَضَعَ جِبْرِيلُ يَدَهُ عَلَى رُكْبَتَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: " أَنْ تُسْلِمَ وَجْهَكَ لِلَّهِ، وَتَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ. قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ أَسْلَمْتُ؟ قَالَ: نَعَمْ . ثُمَّ قَالَ: مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: " أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ، وَالْمَوْتِ، وَالْحَيَاةِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ، وَالْحِسَابِ، وَالْمِيزَانِ، وَالْقَدَرِ كُلِّهِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ". قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ آمَنْتُ؟ قَالَ:" نَعَمْ" . ثُمَّ قَالَ: مَا الْإِحْسَانُ، يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنَّكَ إِنْ كُنْتَ لَا تَرَاهُ فَهُوَ يَرَاكَ". قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ أَحْسَنْتُ؟ قَالَ: نَعَمْ . وَيَسْمَعُ رَجْعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ وَلَا يَرَى الَّذِي يُكَلِّمُهُ وَلَا يَسْمَعُ كَلَامَهُ. قَالَ: فَمَتَى السَّاعَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سُبْحَانَ اللَّهِ، خَمْسٌ مِنَ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ سورة لقمان آية 34. قَالَ السَّائِلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ بِعَلَامَتَيْنِ تَكُونَانِ قَبْلَهَا. فَقَالَ:" حَدِّثْنِي"، فَقَالَ: إِذَا رَأَيْتَ الْأَمَةَ تَلِدُ رَبَّهَا، وَيَطُولُ أَهْلُ الْبُنْيَانِ بِالْبُنْيَانِ، وَكَانَ الْعَالَةُ الْجُفَاةُ رُؤُوسَ النَّاسِ. قَالَ: وَمَنْ أُولَئِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الْعَرِيبُ". قَالَ: ثُمَّ وَلَّى، فَلَمْ يُرَ طَرِيقُهُ بَعْدُ، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ ثَلَاثًا جَاءَ لِيُعَلِّمَ النَّاسَ دِينَهُمْ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا جَاءَ لِي قَطُّ إِلَّا وَأَنَا أَعْرِفُهُ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ هَذِهِ الْمَرَّةُ ..
حضرت ابوعامر اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کسی مجلس میں تشریف فرما تھے، کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اپنی شکل و صورت بدل کر آگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ سمجھے کہ یہ کوئی مسلمان آدمی ہے، انہوں نے سلام کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا، پھر انہوں نے اپنے ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں پر رکھ دیئے اور پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اسلام سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جھکا دو، لا الہ الا اللہ کی گواہی دو اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو، انہوں نے پوچھا کہ جب میں کام کرلوں گا تو مسلمان کہلاؤں گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! پھر انہوں نے پوچھا کہ ایمان سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ پر، یوم آخرت، ملائکہ، کتابوں، نبیوں، موت اور حیات بعد الموت، جنت و جہنم، حساب و میزان اور ہر اچھی بری تقدیر اللہ کی طرف سے ہونے کا یقین رکھو، انہوں نے پوچھا کہ جب میں یہ کام کرلوں گا تو مومن بن جاؤں گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! پھر انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم احسان سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی عبادت اس طرح کرنا کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر یہ تصور نہیں کرسکتے تو پھر یہی تصور کرلو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے، انہوں نے پوچھا اگر میں ایسا کرلو تو میں نے احسان کا درجہ حاصل کرلیا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں، راوی کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جوابات تو سن رہے تھے لیکن وہ شخص نظر نہیں آرہا تھا جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو فرما رہے تھے اور نہ ہی اس کی بات سنائی دے رہی تھی۔ پھر سائل نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کب آئے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! غیب کی پانچ چیزیں ایسی ہیں جنہیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، (پھر یہ آیت تلاوت فرمائی) بیشک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ رحم مادر میں کیا ہے؟ کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا؟ اور کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کس سر زمین میں مرے گا، بیشک اللہ بڑا جاننے والا باخبر ہے۔ پھر سائل نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو دو علامتیں بتاسکتا ہوں جو قیامت سے پہلے رونما ہوں گی۔ اس نے کہا جب آپ دیکھیں کہ باندی اپنی مالکن کو جنم دے رہی ہے اور عمارتوں والے عمارتوں میں ایک دوسرے پر فخر کر رہے ہیں اور ننگے افراد لوگوں کے سردار بن گئے ہیں (تو قیامت قریب آجائے گی) راوی نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ کون لوگ ہوں گے؟ فرمایا دیہاتی لوگ۔ پھر وہ سائل چلا گیا اور ہمیں بعد میں اس کا راستہ نظر نہیں آیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ سبحان اللہ کہہ کر فرمایا یہ جبرائیل تھے جو لوگوں کو ان کے دین کی تعلیم دینے کے لئے آئے تھے، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، جبرائیل میرے پاس اس مرتبہ کے علاوہ جب بھی آئے، میں نے انہیں پہچان لیا لیکن اس مرتبہ نہیں پہچان سکا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف عورتوں سے ابتداء میں نکاح کرنے سے منع کردیا تھا۔ فائدہ: حدیث کی مکمل وضاحت کے لئے حدیث ٢٩٢٤ ملاحظہ کیجئے۔ حدیث نمبر ١٧٢٩٩ ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17502]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف على نكارة فى بعض ألفاظه، وقد اختلف فيه على شهر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17503
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، عن ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَصْنَافِ النِّسَاءِ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ..

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، شهر بن حوشب مختلف فيه، قوى أمره جماعة وضعفه آخرون
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17503M
وَذَكَرَ مُلْصِقًا بِهِ قَالَ: جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَجْلِسًا، فَأَتَى جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ: إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ بِمَعَالِمَ لَهَا دُونَ ذَلِكَ. قَالَ: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَحَدِّثْنِي. وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَيْتَ الْأَمَةَ وَلَدَتْ رَبَّتَهَا"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
502. حَدِیث اَبِی سَعِیدِ بنِ زَید، عن النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17504
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، قَالَ أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ جِنَازَةٌ فَقَامَ" .
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضرت ابو سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے سنا ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے کوئی جنازہ گذرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17504]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي، وهذا الحديث من مسند أبى سعيد الخدري، ونسبته إلى: أبى سعيد بن زيد وهم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں