🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
544. حَدِیث عَبدِ اللَّهِ بنِ بسر المَازِنِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17679
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، قَالَ: " لَقَدْ سَمِعْتُ حَدِيثًا مُنْذُ زَمَانٍ إِذَا كُنْتَ فِي قَوْمٍ عِشْرِينَ رَجُلًا أَوْ أَقَلَّ أَوْ أَكْثَرَ فَتَصَفَّحْتَ فِي وُجُوهِهِمْ، فَلَمْ تَرَ فِيهِمْ رَجُلًا يُهَابُ فِي اللَّهِ، فَاعْلَمْ أَنَّ الْأَمْرَ قَدْ رَقَّ" .
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک زمانہ ہوا، میں نے یہ حدیث سنی تھی کہ اگر تم کسی جماعت میں ہو جو بیس یا کم وبیش افراد پر مشتمل ہو، تم ان کے چہروں پر غور کرو لیکن تمہیں ان میں ایک بھی ایسا آدمی نظر نہ آئے جس سے اللہ کی خاطر مرعوب ہوا جائے تو سمجھ لو کہ معاملہ انتہائی کمزور ہوچکا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17679]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن، لكنه ليس بحديث نبوي ﷺ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17680
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ نُوحٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيَّانِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: مَنْ خَيْرُ الرِّجَالِ يَا مُحَمَّدُ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ"، وَقَالَ الْآخَرُ: إِنَّ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ قَدْ كَثُرَتْ عَلَيْنَا، فَبَابٌ نَتَمَسَّكُ بِهِ جَامِعٌ؟ قَالَ:" لَا يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو دیہاتی آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان میں سے ایک نے پوچھا اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بہترین آدمی کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور اس کا عمل اچھا ہو، دوسرے نے کہا کہ احکام اسلام تو بہت زیادہ ہیں، کوئی ایسی جامع بات بتا دیجئے جسے ہم مضبوطی سے تھام لیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری زبان ہر وقت ذکر الٰہی سے تر رہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17680]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17681
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ الْمَازِنِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَرَأَيْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَشَيْخًا كَانَ؟ قَالَ:" كَانَ فِي عَنْفَقَتِهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ" .
حضرت حریز بن عثمان رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ بوڑھے ہوگئے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نچلے ہونٹ کے نیچے چند بال سفید تھے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17681]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17682
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ وَنَحْنُ غِلْمَانٌ لَا نَعْقِلُ الْعِلْمَ: أَشَيْخًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" كَانَ بِعَنْفَقَتِهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ" .
حضرت حریز بن عثمان رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ بوڑھے ہوگئے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نچلے ہونٹ کے نیچے چند بال سفید تھے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17682]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17683
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي فَنَزَلَ عَلَيْهِ، أَوْ قَالَ لَهُ أَبِي: انْزِلْ عَلَيَّ. قَالَ: فَأَتَاهُ بِطَعَامٍ وَحَيْسَةٍ وَسَوِيقٍ، فَأَكَلَهُ، وَكَانَ يَأْكُلُ التَّمْرَ وَيُلْقِي النَّوَى وَصَفَ بِإِصبَعَيهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى بِظَهْرِهِمَا مِنْ فِيهِ، ثُمَّ أَتَاهُ بِشَرَابٍ، فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَهُ مَنْ عَنْ يَمِينِهِ، فَقَامَ فَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ، فَقَالَ: ادْعُ لِي، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ، وَارْحَمْهُمْ" .
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں آئے، انہوں نے کھانا، حلوہ اور ستو لا کر پیش کئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کھا کر اس کی گٹھلی اپنی انگلی کی پشت پر رکھتے اور اسے اچھال دیتے، پھر پانی پیش کیا، جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمالیا اور دائیں جانب والے کو دے دیا، انہوں نے اس کی لگام پکڑ کر عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے حق میں اللہ سے دعاء کر دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ! ان کے رزق میں برکت عطاء فرما، ان کی بخشش فرما اور ان پر رحم فرما۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17683]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2042
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17684
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ ، قَالَ: نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي، أَوْ قَالَ أَبِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: انْزِلْ عَلَيَّ. قَالَ: فَنَزَلَ عَلَيْهِ، فَأَتَاهُ بِطَعَامٍ أَوْ بِحَيْسٍ، قَالَ: فَأَكَلَ، ثُمَّ أَتَاهُ بِشَرَابٍ، قَالَ: فَشَرِبَ، قَالَ: ثُمَّ نَاوَلَ مَنْ عَنْ يَمِينِهِ، قَالَ: وَكَانَ إِذَا أَكَلَ أَلْقَى النَّوَاةَ وَصَفَ شُعْبَةُ أَنَّهُ وَضَعَ النَّوَاةَ عَلَى السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى ثُمَّ رَمَى بِهَا فَقَالَ لَهُ أَبِي: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ الله لَنَا. فَقَالَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ، وَارْحَمْهُمْ" .
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں آئے، انہوں نے کھانا، حلوہ اور ستو لا کر پیش کئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کھا کر اس کی گٹھلی اپنی انگلی کی پشت پر رکھتے اور اسے اچھال دیتے، پھر پانی پیش کیا، جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمالیا اور دائیں جانب والے کو دے دیا، انہوں نے اس کی لگام پکڑ کر عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے حق میں اللہ سے دعاء کر دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ! ان کے رزق میں برکت عطاء فرما، ان کی بخشش فرما اور ان پر رحم فرما۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17684]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2042
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17685
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ جَابِرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ، عَنِ ابْنَيْ بُسْرٍ السَّلْمَيَيْنِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَيْهِمَا، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكُمَا اللَّهُ، الرَّجُلُ مِنَّا يَرْكَبُ دَابَّتَهُ فَيَضْرِبُهَا بِالسَّوْطِ، وَيَكْفَحُهَا بِاللِّجَامِ، هَلْ سَمِعْتُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا؟ قَالَا: لَا، مَا سَمِعْنَا مِنْهُ فِي ذَلِكَ شَيْئًا. فَإِذَا امْرَأَةٌ قَدْ نَادَتْ مِنْ جَوْفِ الْبَيْتِ: أَيُّهَا السَّائِلُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الأَرْضِ وَلا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ سورة الأنعام آية 38 فَقَالَا: هَذِهِ أُخْتُنَا، وَهِيَ أَكْبَرُ مِنَّا، وَقَدْ أَدْرَكَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
عبداللہ بن زیاد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت بسر رضی اللہ عنہ کے دو بیٹوں کے پاس گیا اور ان کے لئے رحم و کرم کی دعاء کرتے ہوئے کہا کہ ہم میں سے کوئی شخص اپنے جانور پر سوار ہوتا ہے اور اسے کوڑے سے مارتا ہے اور لگام سے کھینچتا ہے، کیا اس کے متعلق آپ دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے؟ وہ کہنے لگے کہ نہیں، ہم نے اس حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد نہیں سنا، اسی وقت گھر کے اندر سے ایک خاتون کی آواز آئی کہ اے سائل! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، زمین پر چلنے والا کوئی جانور اور فضاء میں اپنے پروں سے اڑنے والا کوئی پرندہ ایسا نہیں ہے جو تمہاری طرح مختلف خانوادوں میں تقسیم نہ ہو، ہم نے اس کتاب میں کسی چیز کی کمی نہیں چھوڑی، وہ دونوں کہنے لگے کہ یہ ہماری بہن ہیں جو ہم سے بڑی ہیں اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17685]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17686
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالَقَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ الْمَازِنِيَّ ، يَقُولُ: تَرَوْنَ يَدِي هَذِهِ، فَأَنَا بَايَعْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِيمَا افْتُرِضَ عَلَيْكُمْ" .
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تم میرے ان ہاتھوں کو دیکھ رہے ہو، ان ہاتھوں سے میں نے نبی صلی اللہ علیہ سے بیعت کی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ہفتہ کے دن روزہ نہ رکھا کرو، الاّ یہ کہ فرض روزہ ہو۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17686]

الحكم على الحديث:
هذا الحديث ضعيف لأنه أعل بالاضطراب والمعارضة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17687
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ أَيُّوبَ الْحَضْرَمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كَانَتْ أُخْتِي تَبْعَثُنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَدِيَّةِ فَيَقْبَلُهَا" .
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات میری بہن کوئی چیز مجھے دے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجتی تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے مجھ سے قبول فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17687]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17688
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ أَيُّوبَ الْحَضْرَمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ، وَلَا يَقْبَلُ الصَّدَقَةَ" .
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرما لیتے تھے، لیکن صدقہ قبول نہیں فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17688]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره ، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں