مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
543. حَدِیث عَمرِو بنِ خَارِجَةَ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 17669
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ خَارِجَةَ الْخُشَنِيَّ حَدَّثَهُمْ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَهُمْ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَإِنَّ رَاحِلَتَهُ لَتَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا، وَإِنَّ لُعَابَهَا لَيَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ، فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قد قَسَمَ لِكُلِّ إِنْسَانٍ نَصِيبَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ، وَلَا تَجُوزُ وَصِيَّةٌ لِوَارِثٍ. الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ. أَلَا وَمَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا" أَوْ" عَدْلًا وَلَا صَرْفًا".
حضرت عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (منی کے میدان میں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر (جو جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب میرے دونوں کندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا) خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا یاد رکھو میرے لئے اور میرے اہل بیت کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے، پھر اپنی اونٹنی کے کندھے سے ایک بال لے کر فرمایا اس کے برابر بھی نہیں اس شخص پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو جو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے یا جو اپنے آقا کو چھوڑ کر کسی اور سے موالات کرے، اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں ہوں گے، بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، اس لئے وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جاسکتی۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17669]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر
حدیث نمبر: 17670
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِمِنًى عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَإِنِّي لَتَحْتَ جِرَانِ نَاقَتِهِ، وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا، وَلُعَابُهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ، فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَسَمَ لِكُلِّ إِنْسَانٍ نَصِيبَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ، وَلَا تَجُوزُ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ، أَلَا وَإِنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، أَلَا وَمَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ رَغْبَةً عَنْهُمْ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ" . قَالَ سَعِيدٌ : وَحَدَّثَنَا مَطَرٌ ، عَنْ شَهْرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلِهِ، وَزَادَ مَطَرٌ فِي الْحَدِيثِ:" وَلَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ". حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَقَالَ: قَالَ مَطَرٌ" وَلَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ".
حضرت عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (منی کے میدان میں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر (جو جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب میرے دونوں کندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا) خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا یاد رکھو میرے لئے اور میرے اہل بیت کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے، پھر اپنی اونٹنی کے کندھے سے ایک بال لے کر فرمایا اس کے برابر بھی نہیں اس شخص پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو جو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے یا جو اپنے آقا کو چھوڑ کر کسی اور سے موالات کرے، اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں ہوں گے، بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، اس لئے وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جاسکتی۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے، البتہ اس میں یہ بھی اضافہ ہے کہ اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کی جائے گی۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17670]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 17671
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ: قَالَ مَطَرٌ" وَلَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ"
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
544. حَدِیث عَبدِ اللَّهِ بنِ بسر المَازِنِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 17672
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ حَرِيزِ بْنِ عُثْمَانَ ، قَالَ: كُنَّا غِلْمَانًا جُلُوسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ نَكُنْ نُحْسِنُ نَسْأَلُهُ، فَقُلْتُ: أَشَيْخًا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" كَانَ فِي عَنْفَقَتِهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ .
حضرت حریز بن عثمان رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ہم چند بچے حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ہمیں صحیح طرح سوال کرنا بھی نہیں آتا تھا، میں نے ان سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے ہوگئے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نچلے ہونٹ کے نیچے چند بال سفید تھے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17672]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17673
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ يُحَدِّثُ، أَنَّ أَبَاهُ صَنَعَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَدَعَاهُ، فَأَجَابَهُ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُمْ، وَارْحَمْهُمْ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ" .
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے والد نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانے کا اہتمام کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرما لیا، جب کھانے سے فارغ ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء فرمائی اے اللہ! ان کی بخشش فرما، ان پر رحم فرما اور ان کے رزق میں برکت عطا فرما۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17673]
الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد ضعيف، هشام بن يوسف مجهول
حدیث نمبر: 17674
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: " اجْلِسْ فَقَدْ آذَيْتَ وَآنَيْتَ" .
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک آدمی (لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا) آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹھ جاؤ، تم نے لوگوں کو تکلیف دی اور دیر سے آئے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17674]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17675
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ ابن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فَذَكَرُوا وَطْبَةً وَطَعَامًا وَشَرَابًا، فَكَانَ يَأْكُلُ التَّمْرَ، وَيَضَعُ النَّوَى عَلَى ظَهْرِ إصبَعيهِ، ثُمَّ يَرْمِي بِهِ، ثُمَّ قَامَ فَرَكِبَ بَغْلَةً لَهُ بَيْضَاءَ، فَأَخَذْتُ بِلِجَامِهَا، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ لَنَا، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ، وَارْحَمْهُمْ" .
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں آئے، پھر انہوں نے تر کھجوروں کھانے اور پینے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کھا کر اس کی گٹھلی اپنی انگلی کی پشت پر رکھتے اور اسے اچھال دیتے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور اپنے سفید خچر پر سوار ہوگئے، میں نے اس کی لگام پکڑ کر عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے حق میں اللہ سے دعاء کر دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ! ان کے رزق میں برکت عطاء فرما، ان کی بخشش فرما اور ان پر رحم فرما۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17675]
الحكم على الحديث:
صحيح، م: 2042، ابن عبدالله بن بسر جهله الأئمة، ولم يوجد له ترجمة
حدیث نمبر: 17676
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدَّمَتْ إِلَيْهِ جَدَّتِي تَمْرًا تُعَلِّلُهُ، وَطَبَخَتْ لَهُ، وَسَقَيْنَاهُمْ فَنَفِدَ الْقَدَحُ، فَجِئْتُ بِقَدَحٍ آخَرَ، وَكُنْتُ أَنَا الْخَادِمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْطِ الْقَدَحَ الَّذِي انْتَهَى إِلَيْهِ" .
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں آئے، میری دادی نے تھوڑی سی کھجوریں پیش کیں اور وہ کھانا جو انہوں نے پکا رکھا تھا، پھر ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پانی پلایا، ایک پیالہ ختم ہوا تو میں دوسرا پیالہ لے آیا کیونکہ خادم میں ہی تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہی پیالہ لاؤ جو ابھی لائے تھے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17676]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة ابن عبدالله بن بسر
حدیث نمبر: 17677
حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَيُّوبَ الْحَضْرَمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ ، قَالَ: كَانَتْ أُخْتِي رُبَّمَا بَعَثَتْنِي بِالشَّيْءِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُطْرِفُهُ إِيَّاهُ،" فَيَقْبَلُهُ مِنِّي" .
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات میری بہن کوئی چیز دے کر مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجتی تھی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے مجھ سے قبول فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17677]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 17678
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ الْمَازِنِيُّ ، قَالَ: بَعَثَنِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْعُوهُ إِلَى طَّعَامِ، فَجَاءَ مَعِي، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنَ الْمَنْزِلِ أَسْرَعْتُ، فَأَعْلَمْتُ أَبَوَيَّ فَخَرَجَا فَتَلَقَّيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَحَّبَا بِهِ، وَوَضَعْنَا لَهُ قَطِيفَةً كَانَتْ عِنْدَنَا زِئْبِرِيَّةً فَقَعَدَ عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ أَبِي لِأُمِّي: هَاتِ طَعَامَكِ. فَجَاءَتْ بِقَصْعَةٍ فِيهَا دَقِيقٌ قَدْ عَصَدَتْهُ بِمَاءٍ وَمِلْحٍ، فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " خُذُوا بِسْمِ اللَّهِ مِنْ حَوَالَيْهَا، وَذَرُوا ذُرْوَتَهَا، فَإِنَّ الْبَرَكَةَ فِيهَا" فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلْنَا مَعَهُ، وَفَضَلَ مِنْهَا فَضْلَةٌ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ، وَبَارِكْ عَلَيْهِمْ، وَوَسِّعْ عَلَيْهِمْ فِي أَرْزَاقِهِمْ" .
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھے میرے والد نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلانے کے لئے مجھے بھیجا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ آگئے، جب گھر کے قریب پہنچے تو میں نے جلدی سے جا کر اپنے والدین کو بتایا، وہ دونوں گھر سے باہر آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا اور انہیں خوش آمدید کہا، پھر ہم نے ایک دبیز چادر جو ہمارے پاس تھی، بچھائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھ گئے، پھر والد صاحب نے میری والدہ سے کہا کہ کھانا لاؤ، چنانچہ وہ ایک پیالہ لے کر آئیں جس میں پانی اور نمک ملا کر آٹے سے بنی روٹی تھی، انہوں نے وہ برتن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لا کر رکھ دیا، نبی صلی اللہ علیہ نے فرمایا بسم اللہ پڑھ کر کناروں سے اسے کھاؤ، درمیان کا حصہ چھوڑ دو کیونکہ برکت اس حصے پر اترتی ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا: ہم نے بھی اسے کھایا لیکن وہ پھر بھی بچ گئی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ ان کی بخشش فرما، ان پر رحم فرما، انہیں برکت عطاء فرما اور ان کے رزق کو کشادہ فرما۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17678]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2042