🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
740. حَدِيثُ ابْنَيْ قُرَيْظَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19002
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنَا قُرَيْظَةَ : " أَنَّهُمْ عُرِضُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ قُرَيْظَةَ، فَمَنْ كَانَ مِنْهُمْ مُحْتَلِمًا، أَوْ نَبَتَتْ عَانَتُهُ، قُتِلَ وَمَنْ لَا تُرِكَ" .
قریظہ کے دو بیٹوں سے مروی ہے کہ غزوہ بنوقریظہ کے موقع پر ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو یہ فیصلہ ہوا کہ جس کے زیرناف بال اگ آئے ہیں اسے قتل کردیا جائے اور جس کے زیر ناف بال نہیں اگے اس کا راستہ چھوڑ دیا جائے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19002]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، كثير بن السائب لا يعرف، وقد اختلف فيه، وقد اضطرب فيه حماد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
741. حَدِيثُ حُصَيْنِ بْنِ مِحْصَنٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19003
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ الْحُصَيْنِ بْنِ مِحْصَنٍ ، أَنَّ عَمَّةً لَهُ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، فَفَرَغَتْ مِنْ حَاجَتِهَا، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَذَاتُ زَوْجٍ أَنْتِ؟" قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" كَيْفَ أَنْتِ لَهُ؟" قَالَتْ: مَا آلُوهُ إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ، قَالَ: " فَانْظُرِي أَيْنَ أَنْتِ مِنْهُ، فَإِنَّمَا هُوَ جَنَّتُكِ وَنَارُكِ" .
حضرت حصین بن محصن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان ایک پھوپھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کسی کام کی غرض سے آئیں جب کام مکمل ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہاری شادی ہوئی ہے؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم اپنے شوہر کی خدمت کرتی ہو؟ انہوں نے کہا کہ میں اس میں کوئی کوتاہی نہیں کرتی الاّ یہ کہ کسی کام سے عاجز آجاؤں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس چیز کا خیال رکھنا کہ وہ تمہاری جنت بھی ہے اور جہنم بھی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19003]

الحكم على الحديث:
إسناده محتمل للتحسين، الحسين بن محصن مختلف فى صحبته، والراجح فيه أنه تابعي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
742. حَدِيثُ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ الدِّيلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19004
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: رَبِيعَةُ بْنُ عَبَّادٍ مِنْ بَنِي الدِّيلِ وَكَانَ جَاهِلِيًّا، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي سُوقِ ذِي الْمَجَازِ وَهُوَ يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، قُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، تُفْلِحُوا" وَالنَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَيْهِ، وَوَرَاءَهُ رَجُلٌ وَضِيءُ الْوَجْهِ أَحْوَلُ ذُو غَدِيرَتَيْنِ، يَقُولُ: إِنَّهُ صَابِئٌ كَاذِبٌ، يَتْبَعُهُ حَيْثُ ذَهَبَ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ، فَذَكَرُوا لِي نَسَبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالُوا لِي: هَذَا عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ ..
حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ جنہوں نے زمانہ جاہلیت بھی پایا تھا بعد میں مسلمان ہوگئے تھے سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ذی المجاز نامی بازار میں لوگوں کے سامنے اپنی دعوت پیش کرتے ہوئے دیکھا کہ اے لوگو! لا الہ اللہ کہہ لو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ وہ گلیوں میں داخل ہوتے جاتے اور لوگ ان کے گرد جمع ہوتے جاتے تھے کوئی ان سے کچھ نہیں کہہ رہا تھا اور وہ خاموش ہوئے بغیر اپنی بات دہرا رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک بھینگا آدمی بھی تھا اس کی رنگت اجلی تھی اور اس کی دومینڈھیاں تھیں اور وہ یہ کہہ رہا تھا کہ یہ شخص بےدین اور جھوٹا ہے (العیاذباللہ) میں نے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ محمد بن عبداللہ ہیں جو نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ پیچھے والا آدمی کون ہے جوان کی تکذیب کررہا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا ابولہب ہے، راوی نے ان سے کہا کہ آپ تو اس زمانے میں بہت چھوٹے ہوں گے انہوں نے فرمایا نہیں، واللہ میں اس وقت سمجھدار تھا۔ حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ جنہوں نے زمانہ جاہلیت بھی پایا تھا بعد میں مسلمان ہوگئے تھے سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ذی المجاز نامی بازار میں لوگوں کے سامنے اپنی دعوت پیش کرتے ہوئے دیکھا کہ اے لوگو! لا الہ اللہ کہہ لو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ وہ گلیوں میں داخل ہوتے جاتے اور لوگ ان کے گرد جمع ہوتے جاتے تھے کوئی ان سے کچھ نہیں کہہ رہا تھا اور وہ خاموش ہوئے بغیر اپنی بات دہرا رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک بھینگا آدمی بھی تھا اس کی رنگت اجلی تھی اور اس کی دومینڈھیاں تھیں اور وہ یہ کہہ رہا تھا کہ یہ شخص بےدین اور جھوٹا ہے (العیاذباللہ) میں نے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ محمد بن عبداللہ ہیں جو نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ پیچھے والا آدمی کون ہے جوان کی تکذیب کر رہا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا ابولہب ہے، راوی نے ان سے کہا کہ آپ تو اس زمانے میں بہت چھوٹے ہوں گے انہوں نے فرمایا نہیں، واللہ میں اس وقت سمجھدار تھا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19004]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19005
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ الدُّؤَلِيِّ وَكَانَ جَاهِلِيًّا فَأَسْلَمَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَهُوَ يَذْكُرُ النُّبُوَّةَ. قُلْتُ: مَنْ هَذَا الَّذِي يُكَذِّبُهُ؟ قَالُوا: هَذَا عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ. قَالَ أَبُو الزِّنَادِ: فَقُلْتُ لِرَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ: إِنَّكَ يَوْمَئِذٍ كُنْتَ صَغِيرًا، قَالَ: لَا وَاللَّهِ إِنِّي يَوْمَئِذٍ لَأَعْقِلُ أَنِّي لَأَزْفِرُ الْقِرْبَةَ يَعْنِي أَحْمِلُهَا.

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
743. حَدِيثُ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19006
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ ، أَنَّ جَدَّهُ عَرْفَجَةَ " أُصِيبَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلَابِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ وَرِقٍ، فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَّخِذَ أَنْفًا مِنْ ذَهَبٍ" . قَالَ يَزِيدُ: فَقِيلَ لِأَبِي الْأَشْهَبِ: أَدْرَكَْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ جَدَّهُ؟ قَالَ: نَعَمْ.
عبدالرحمن بن طرفہ کہتے ہیں کہ ان کے دادا حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ کی ناک زمانہ جاہلیت میں " یوم کلاب " کے موقع پر ضائع ہوگئی تھی انہوں نے چاندی کی ناک بنوالی لیکن اس میں بدبو پیدا ہوگئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سونے کی ناک بنوانے کی اجازت دے دی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19006]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
744. حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19007
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ : أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا يُوجِبُ الْغُسْلَ، وَعَنِ الْمَاءِ يَكُونُ بَعْدَ الْمَاءِ، وَعَنِ الصَّلَاةِ فِي بَيْتِي، وَعَنِ الصَّلَاةِ فِي الْمَسْجِدِ، وَعَنْ مُؤَاكَلَةِ الْحَائِضِ، فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، أَمَّا أَنَا فَإِذَا فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا" فَذَكَرَ الْغُسْلَ، قَالَ:" أَتَوَضَّأُ وُضُوئِي لِلصَّلَاةِ أَغْسِلُ فَرْجِي" ثُمَّ ذَكَرَ الْغُسْلَ،" وَأَمَّا الْمَاءُ يَكُونُ بَعْدَ الْمَاءِ فَذَلِكَ الْمَذْيُ، وَكُلُّ فَحْلٍ يُمْذِي، فَأَغْسِلُ مِنْ ذَلِكَ فَرْجِي وَأَتَوَضَّأُ، وَأَمَّا الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ وَالصَّلَاةُ فِي بَيْتِي، فَقَدْ تَرَى مَا أَقْرَبَ بَيْتِي مِنَ الْمَسْجِدِ، وَلَأَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصَلِّيَ فِي الْمَسْجِدِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً، وَأَمَّا مُؤَاكَلَةُ الْحَائِضِ فوَآكِلْهَا" .
حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کن چیزوں سے غسل واجب ہوتا ہے؟ مادہ منویہ کے بعد جو مادہ نکلتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟ گھر میں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ مسجد میں نماز پڑھنے اور ایام والی عورت کے ساتھ اکٹھے کھانا کھانے کا کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ حق بات سے نہیں شرماتا، جب میں اپنی بیوی کے پاس جاتا ہوں تو غسل کے وقت پہلے وضو کرتا ہوں جیسے نماز کے لئے وضو کرتا ہوں پھر شرمگاہ کو دھوتا ہوں اور پھر غسل کرتا ہوں، مادہ منویہ کے بعد نکلنے والا مادہ " مذی ' کہلاتا ہے اور ہر صحت مند آدمی کو مذی آتی ہے اس موقع پر میں شرمگاہ کو دھو کر صرف وضو کرتا ہوں رہا مسجد میں نماز پڑھنے کا سوال تو تم دیکھ ہی رہے ہو کہ میرا گھر مسجد سے کتنا قریب ہے لیکن مجھے مسجد کی نسبت اپنے گھر میں نماز پڑھنا زیادہ پسند ہے الاّ یہ کہ فرض نماز ہو باقی رہاحائضہ عورت کے ساتھ کھانا پینا تو وہ تم کھاپی سکتے ہو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19007]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19008
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ معاوية ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُؤَاكَلَةِ الْحَائِضِ، فَقَالَ:" وَاكِلْهَا" .
حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ایام والی عورت کے ساتھ اکٹھے کھانا کھانے کا کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس کے ساتھ کھاسکتے ہو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19008]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
745. حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَسْلَمَ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19009
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَسْلَمَ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لِجَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: " أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي" .
حضرت عبیداللہ بن اسلم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ہیں " کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کرتے تھے تم جسمانی اور اخلاقی طور پر میرے مشابہہ ہو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19009]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة. وعبيدالله بن أسلم هذا إن كان عبيدالله بن أبي رافع . كما اختلف فى اسم أبيه . فيكون الإسناد مرسلا، لأن ابن ابي رافع لم يدرك النبى صلى الله عليه وسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
746. حَدِيثُ مَاعِزٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19010
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ يَعْنِي الْجُرَيْرِيَّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ مَاعِزٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَحْدَهُ، ثُمَّ الْجِهَادُ، ثُمَّ حَجَّةٌ بَرَّةٌ تَفْضُلُ سَائِرَ الْعَمَلِ كَمَا بَيْنَ مَطْلَعِ الشَّمْسِ إِلَى مَغْرِبِهَا" ..
حضرت ماعز رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک اللہ پر ایمان لانا، پھر جہاد، پھر حج مبرور تمام اعمال میں اس طرح افضل ہیں جیسے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ ہوتا ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19010]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى مسعود الجريري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19011
قال عبد الله بن أحمد، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، قال: الْجُرَيْرِيِّ حدَّثَنَا، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مَاعِزٌ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى مسعود الجريري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں