🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
747. حَدِيثُ أَحْمَرَ بْنِ جَزِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19012
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ: حدَّثَنَا أَحْمَرُ بْنُ جَزِيٍّ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنْ كُنَّا لَنَأْوِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يُجَافِي مِرْفَقَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ إِذَا سَجَدَ" .
حضرت احمربن جزء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدے میں جاتے تو ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس وقت ترس آتا تھا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کہنیوں کو اپنے پہلوؤں سے جدا کرنے میں بہت مشقت اٹھاتے تھے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19012]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
748. حَدِيثُ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ أَوْ ابْنِ عِتْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19013
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِتْبَانَ أَوْ ابْنِ عُتْبَانَ الْأَنْصَارِيّ ، قَالَ: قُلْتُ: أَيْ نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ مَعَ أَهْلِي، فَلَمَّا سَمِعْتُ صَوْتَكَ، أَقْلَعْتُ، فَاغْتَسَلْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ" .
حضرت عتبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا اے اللہ کے نبی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنی اہلیہ کے ساتھ " مشغول " تھا کہ جونہی میں نے آپ کی آواز سنی، میں نے اسے چھوڑا اور فوراً غسل کرکے آگیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غسل انزال سے واجب ہوتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19013]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، المطلب بن عبدالله لا يعرف له سماع من أحد من الصحابة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
749. حَدِيثُ سِنَانِ بْنِ سَنَّةَ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19014
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُرَّةَ ، عَنْ عَمِّهِ حَكِيمِ بْنِ أَبِي حُرَّةَ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَنَّةَ ، صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الطَّاعِمُ الشَّاكِرُ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ الصَّائِمِ الصَّابِرِ" ..
حضرت سنان بن سنہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کھا کر شکر کرنے والا اجر وثواب میں روزہ رکھ کر صبر کرنے والے کی طرح ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19014]

الحكم على الحديث:
حديث حسن ، وقد اختلف فيه على محمد بن عبدالله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19015
قال عبد الله بن أحمد: حَدَّثَنَاه أَحْمَدُ بْنُ حَاتِمٍ الطَّوِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ مِثْلَهُ.

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وقد اختلف فيه على محمد بن عبدالله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19016
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هِنْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ حَرْمَلَةَ بْنَ عَمْرٍو وَهُوَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَجَجْتُ حَجَّةَ الْوَدَاعِ مُرْدِفِي عَمِّي سِنَانُ بْنُ سَنَّةَ ، قَالَ: فَلَمَّا وَقَفْنَا بِعَرَفَاتٍ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا إِحْدَى أُصْبُعَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى، فَقُلْتُ لِعَمِّي: مَاذَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: يَقُولُ: " ارْمُوا الْجَمْرَةَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ" .
حرملہ بن عمرو کہتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے چچا حضرت سنان بن سنہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھ کر شرکت کی تھی جب ہم نے میدان عرفات میں وقوف کیا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی دوسری پر رکھی ہوئی ہے میں نے چچا سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرما رہے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں کہ جمرات کو ٹھیکری کی کنکریاں مارنایا اس جیسی کنکریاں مارنا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19016]

الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لجهالة يحيي بن هند
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
750. حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ الْأَوْسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19017
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ شَبْلَ بْنَ حَامِدٍ الْمُزَنِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكٍ الْأَوْسِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْوَلِيدَةِ: " إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ، فَبِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ" وَالضَّفِيرُ الْحَبْلُ، فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ.
حضرت عبداللہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باندی کے متعلق فرمایا ہے کہ اگر وہ بدکاری کرے تو اسے کوڑے مارو پھر دوبارہ کرے تو کوڑے مارو، تیسری مرتبہ یا چوتھی مرتبہ فرمایا کہ پھر اسے بیچ دو خواہ ایک رسی کے عوض ہی بیچنا پڑے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19017]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة شبل بن خليد المزني
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19018
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ شِبْلَ بْنَ خُلَيْدٍ الْمُزَنِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكٍ الْأَوْسِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْوَلِيدَةِ: " إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَبِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ" . وَالضَّفِيرُ الْحَبْلُ.
حضرت عبداللہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باندی کے متعلق فرمایا ہے کہ اگر وہ بدکاری کرے تو اسے کوڑے مارو پھر دوبارہ کرے تو کوڑے مارو، تیسری مرتبہ یا چوتھی مرتبہ فرمایا کہ پھر اسے بیچ دو خواہ ایک رسی کے عوض ہی بیچنا پڑے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19018]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة شبل بن خليد، وبقية بن الوليد لم يصرح تصريح السماع فى جميع طبقات السند
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
751. حَدِيثُ الْحَارِثِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بَرْصَاءَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19019
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بَرْصَاءَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تُغْزَى مَكَّةُ بَعْدَهَا أَبَدًا" . قَالَ سُفْيَانُ: الْحَارِثُ خُزَاعِيٌّ.
حضرت حارث بن مالک بن برصاء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج کے بعد قیامت تک مکہ مکرمہ میں کوئی جہاد نہیں ہوگا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19019]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، زكريا يدلس عن الشعبي، وقد عنعن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19020
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بَرْصَاءَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: " لَا تُغْزَى هَذِهِ بَعْدَهَا أَبَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" .
حضرت حارث بن مالک بن برصاء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج کے بعد قیامت تک مکہ مکرمہ میں کوئی جہاد نہیں ہوگا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19020]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، زكريا يدلس عن الشعبي، وقد عنعن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
752. حَدِيثُ أَوْسِ بْنِ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19021
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ جَدِّهِ أَوْسِ بْنِ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كُنْتُ فِي الْوَفْدِ الَّذِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمُوا مِنْ ثَقِيفٍ مِنْ بَنِي مَالِكٍ، أَنْزَلَنَا فِي قُبَّةٍ لَهُ، فَكَانَ يَخْتَلِفُ إِلَيْنَا بَيْنَ بُيُوتِهِ وَبَيْنَ الْمَسْجِدِ، فَإِذَا صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ انْصَرَفَ إِلَيْنَا، فَلَا يَبْرَحُ يُحَدِّثُنَا وَيَشْتَكِي قُرَيْشًا، وَيَشْتَكِي أَهْلَ مَكَّةَ، ثُمَّ يَقُولُ: " لَا سَوَاءَ، كُنَّا بِمَكَّةَ مُسْتَذَلِّينَ أَوْ مُسْتَضْعَفِينَ، فَلَمَّا خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ كَانَتْ سِجَالُ الْحَرْبِ عَلَيْنَا وَلَنَا" فَمَكَثَ عَنَّا لَيْلَةً لَمْ يَأْتِنَا حَتَّى طَالَ ذَلِكَ عَلَيْنَا بَعْدَ الْعِشَاءِ، قَالَ: قُلْنَا: مَا أَمْكَثَكَ عَنَّا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" طَرَأَ عَنِّي حِزْبٌ مِنَ الْقُرْآنِ، فَأَرَدْتُ أَنْ لَا أَخْرُجَ حَتَّى أَقْضِيَهُ" فَسَأَلْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَصْبَحْنَا، قَالَ: قُلْنَا: كَيْفَ تُحَزِّبُونَ الْقُرْآنَ؟ قَالُوا: نُحَزِّبُهُ ثلاث سُوَرٍ، وَخَمْسَ سُوَرٍ، وَسَبْعَ سُوَرٍ، وَتِسْعَ سُوَرٍ، وَإِحْدَى عَشْرَةَ سُورَةً، وَثَلَاثَ عَشْرَةَ سُورَةً، وَحِزْبُ الْمُفَصَّلِ مِنْ ق حَتَّى تَخْتِمَ .
حضرت اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ثقیف کے وفد کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم بنی مالک کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک قبہ میں ٹھہرایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر شب عشاء کے بعد ہمارے پاس آتے اور ہم سے گفتگو فرماتے رہتے اور زیادہ تر ہمیں قریش کے اپنے ساتھ رویہ کے متعلق سناتے اور فرماتے ہم اور وہ برابر نہ تھے کیونکہ ہم کمزور اور ظاہر طور پر دباؤ میں تھے جب ہم مدینہ آئے تو جنگ کا ڈول ہمارے اور ان کے درمیان رہا کبھی ہم ان سے ڈول نکالتے (اور فتح حاصل کرلیتے . اور کبھی وہ ہم سے ڈول نکالتے (اور فتح پاتے) ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم سابقہ معمول سے ذرا تاخیر سے تشریف لائے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم آج تاخیر سے تشریف لائے فرمایا میرا تلاوت قرآن کا معمول کچھ رہ گیا تھا میں نے پورا ہونے سے قبل نکلنا پسند نہ کیا حضرت اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تم قرآن (کی تلاوت کے لئے) کیسے حصے کرتے ہو؟ انہوں نے بتایا کہ تین (سورتیں فاتحہ کے بعدبقرہ، آل عمران اور نساء) اور پانچ (سورتیں مائدہ سے براءۃ کے آخرتک) اور سات (سورتیں یونس سے نحل تک) اور نو (سورتیں بنی اسرائیل سے فرقان تک) اور گیارہ (سورتیں شعراء سے یٰسین تک) اور تیرہ (سورتیں والصافات سے حجرات تک) اور آخری حزب مفصل کا یعنی سورت ق سے آخرتک۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19021]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن عبدالرحمن عثمان بن عبدالله فيه لين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں