مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
753. حَدِيثُ الْبَيَاضِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 19022
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ ، مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ التَّمَّارِّ ، عَنِ الْبَيَاضِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى النَّاسِ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَقَدْ عَلَتْ أَصْوَاتُهُمْ بِالْقِرَاءَةِ، فَقَالَ: " إِنَّ الْمُصَلِّي يُنَاجِي رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَلْيَنْظُرْ مَا يُنَاجِيهِ، وَلَا يَجْهَرْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ بِالْقُرْآنِ" .
حضرت بیاضی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس تشریف لائے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور تلاوت قرآن کے دوران ان کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نمازی آدمی اپنے رب سے مناجات کرتا ہے اس لئے اسے دیکھنا چاہئے کہ وہ کس عظیم ہستی سے مناجات کررہا ہے اور تم ایک دوسرے پر قرآن پڑھتے ہوئے آوازیں بلند نہ کیا کرو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19022]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، أبو حازم التمار مختلف فى صحبته، والظاهر أنه لا صحبة له
754. حَدِيثُ أَبِي أَرْوَى رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 19023
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ وُهَيْبٍ ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو أَرْوَى ، قَالَ: " كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، ثُمَّ آتِي الشَّجَرَةَ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ" .
حضرت ابواروی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز پڑھتا تھا پھر غروب آفتاب سے پہلے اپنے ٹھکانے پر پہنچ جاتا تھا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19023]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف أبى واقد الليثي
755. حَدِيثُ فَضَالَةَ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 19024
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَرْبِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ فَضَالَةَ اللَّيْثِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْلَمْتُ وَعَلَّمَنِي حَتَّى عَلَّمَنِي الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ لِمَوَاقِيتِهِنَّ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ هَذِهِ لَسَاعَاتٌ أُشْغَلُ فِيهَا، فَمُرْنِي بِجَوَامِعَ، فَقَالَ لِي: " إِنْ شُغِلْتَ، فَلَا تُشْغَلْ عَنِ الْعَصْرَيْنِ" قُلْتُ: وَمَا الْعَصْرَانِ؟ قَالَ:" صَلَاةُ الْغَدَاةِ وَصَلَاةُ الْعَصْرِ" .
حضرت فضالہ لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کرلیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ باتیں سکھائیں اور پنج وقتہ نماز کو ان کے وقت مقررہ پر ادا کرنے کی تعلیم دی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ان اوقات میں تو میں مصروف ہوتاہوں لہٰذا مجھے کوئی جامع باتیں بتادیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم مصروف ہوتے ہو تو پھر بھی کم ازکم " عصرین " تو نہ چھوڑنا میں پوچھا کہ " عصرین " سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبح کی نماز اور عصر کی نماز۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19024]
الحكم على الحديث:
حديث ضعيف، وهذا إسناد اختلف فيه على داود بن أبى هند
756. حَدِيثُ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 19025
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ أَخْبَرَنَا، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ ؛ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ ضَمَّ يَتِيمًا بَيْنَ أَبَوَيْنِ مُسْلِمَيْنِ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ حَتَّى يَسْتَغْنِيَ عَنْهُ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ الْبَتَّةَ، وَمَنْ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا كَانَ فَكَاكَهُ مِنَ النَّارِ، يُجْزِي بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ" .
حضرت مالک بن حارثرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہوں نے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مسلمان ماں باپ کے کسی یتیم بچے کو اپنے کھانے اور پینے میں اس وقت تک شامل رکھتا ہے جب تک وہ اس امداد سے مشتغنی نہیں ہوجاتا (خود کمانے لگ جاتا ہے) تو اس کے لئے یقینی طور پر جنت واجب ہوتی ہے جو شخص کسی مسلمان آدمی کو آزاد کرتا ہے وہ جہنم سے اس کی آزادی کا سبب بن جاتا ہے اور آزاد ہونے والے کے ہر عضو کے بدلے میں اس کا ہر عضو جہنم سے آزاد ہوجاتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19025]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه على زرارة بن أوفي فى اسم صحابية ونسبه ونسبته
حدیث نمبر: 19026
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ أَوْ مَالِكِ بْنِ عَمْرٍو ، كَذَا قَالَ سُفْيَانُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ ضَمَّ يَتِيمًا بَيْنَ أَبَوَيْهِ، فَلَهُ الْجَنَّةُ الْبَتَّةَ" .
حضرت مالک بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہوں نے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مسلمان ماں باپ کے کسی یتیم بچے کو اپنے کھانے اور پینے میں اس وقت تک شامل رکھتا ہے جب تک وہ اس امداد سے مستغنی نہیں ہوجاتا (خودکمانے لگ جاتا ہے) تو اس کے لئے یقینی طور پر جنت واجب ہوتی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19026]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه على زرارة بن أوفي فى اسم صحابية ونسبه ونسبته
757. حَدِيثُ أُبَيِّ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 19027
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا، ثُمَّ دَخَلَ النَّارَ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ، فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ وَأَسْحَقَهُ" ..
حضرت ابی بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو پائے اور پھر بھی جہنم میں چلا جائے تو وہ اللہ کی رحمت سے بہت دور جاپڑا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19027]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19028
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى يُحَدِّثُ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19029
حَدَّثَنِي بَهْزٌ ، قَالَ: حدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهُ: أُبَيُّ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا، فَدَخَلَ النَّارَ، فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ" .
حضرت ابی بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو پائے اور پھر بھی جہنم میں چلاجائے تو وہ اللہ کی رحمت سے بہت دور جاپڑا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19029]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
758. حَدِيثُ مَالِكِ بْنِ عَمْرٍو الْقُشَيْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 19030
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ . قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ مَالِكِ بْنِ عَمْرٍو الْقُشَيْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُسْلِمَةً، فَهِيَ فِدَاؤُهُ مِنَ النَّارِ"، قَالَ عَفَّانُ:" مَكَانَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِ مُحَرِّرِهِ بِعَظْمٍ مِنْ عِظَامِهِ، وَمَنْ أَدْرَكَ أَحَدَ وَالِدَيْهِ، ثُمَّ لَمْ يُغْفَرْ لَهُ، فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ، وَمَنْ ضَمَّ يَتِيمًا مِنْ بَيْنِ أَبَوَيْنِ مُسْلِمَيْنِ" قَالَ عَفَّانُ:" إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ حَتَّى يُغْنِيَهُ اللَّهُ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ" .
حضرت مالک بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان آدمی کو آزاد کرتا ہے وہ جہنم سے اس کی آزادی کا سبب بن جاتا ہے اور آزاد ہونے والے کے ہر عضو کے بدلے میں اس کا ہر عضو جہنم سے آزاد ہوجاتا ہے جو شخص اپنے والدین میں سے کسی ایک کو پائے پھر بھی اس کی بخشش نہ ہو تو وہ بہت دور جا پڑا جو شخص مسلمان ماں باپ کے کسی یتیم بچے کو اپنے کھانے اور پینے میں اس وقت تک شامل رکھتا ہے جب تک وہ اس امداد سے مشتغنی نہیں ہوجاتا (خود کمانے لگ جاتا ہے) تو اس کے لئے یقینی طور پر جنت واجب ہوتی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19030]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره دون قوله: «من أدرك أحد والديه .........» فهو صحيح، وهذا اسناد ضعيف لضعف على بن زيد
759. حَدِيثُ الْخَشْخَاشِ الْعَنْبَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 19031
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ ، عَنِ الْخَشْخَاشِ الْعَنْبَرِيِّ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي ابْنٌ لِي، قَالَ: فَقَالَ:" ابْنُكَ هَذَا؟" قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ" . قَالَ هُشَيْمٌ مَرَّةً: يُونُسُ قَالَ: أَخْبَرَنِي مُخْبِرٌ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ .
حضرت خشخاش عنبری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا یہ تمہارا بیٹا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں (میں اس کی گواہی دیتا ہوں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے کسی جرم کا ذمہ دار تمہیں یا تمہارے کسی جرم کا ذمہ دار اسے نہیں بنایا جائے گا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19031]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد سمعه هشيم من يونس مرارا، فمرة يرويه منقطعا بين يونس وحصين، ومرة يبهمه كما قال: أخبرني مخبر، ومرة يوصله فيصرح به، وهو ثقة، فتنتفي علة انقطاعه