🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1033. أَحَادِيثُ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23162
حَدَّثَنَا بهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، َأَخْبرَنِي أَبو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ كَعْب الْقُرَظِيِّ ، عَنْ كَثِيرِ بنِ السَّائِب ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابنَا قُرَيْظَةَ أَنَّهُمْ " عُرِضُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ قُرَيْظَةَ، فَمَنْ كَانَ نَبتَتْ عَانَتُهُ، قُتِلَ، وَمَنْ لَا، تُرِكَ" .
قریظہ کے دو بیٹوں سے مروی ہے کہ غزوہ بنو قریظہ کے موقع پر ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو یہ فیصلہ ہوا کہ جس کے زیر ناف بال اگ آئے ہیں اسے قتل کردیا جائے اور جس کے زیر ناف بال نہیں آگے اس کا راستہ چھوڑ دیا جائے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23162]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة كثير بن السائب، وقد اختلف فيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23163
حَدَّثَنَا أَبو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنِ الْأَحْنَفِ بنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَمٍّ لَهُ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: قُلْ لِي قَوْلًا يَنْفَعُنِي، وَأَقْلِلْ، لَعَلِّي أَعِيهِ، قَالَ: " لَا تَغْضَب"، فَعَادَ لَهُ مِرَارًا، كُلُّ ذَلِكَ يُرْجِعُ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ" لَا تَغْضَب" .
احنف بن قیس (رح) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے چچا زاد بھائی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے کوئی مختصر نصیحت فرمائیے شاید میری عقل میں آجائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غصہ نہ کیا کرو، اس نے کئی مرتبہ اپنی درخواست دہرائی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مرتبہ یہی جواب دیا کہ غصہ نہ کیا کرو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23163]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23164
حَدَّثَنَا أَبو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بنِ عَبدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي وَالِدِي ، قَالَ: غَدَوْتُ لِحَاجَةٍ فَإِذَا أَنَا بجَمَاعَةٍ فِي السُّوقِ، فَمِلْتُ إِلَيْهِمْ فَإِذَا رَجُلٌ يُحَدِّثُهُمْ وَصْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَصْفَ صِفَتِهِ، قَالَ: فَعَرَضْتُ لَهُ عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ بيْنَ عَرَفَاتٍ وَمِنًى، فَرُفِعَ لِي فِي رَكْب، فَعَرَفْتُهُ بالصِّفَةِ، قَالَ: فَهَتَفَ بي رَجُلٌ: أَيُّهَا الرَّاكِب، خَلِّ عَنْ وُجُوهِ الرِّكَاب، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ذَرُوا الرَّاكِب فَأَرِب مَا لَهُ"، قَالَ: فَجِئْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بزِمَامِ النَّاقَةِ أَوْ خِطَامِهَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِّثْنِي، أَوْ خَبرْنِي بعَمَلٍ يُقَرِّبنِي من الْجَنَّةِ، وَيُباعِدُنِي مِنَ النَّارِ، قَالَ:" أَوَذَلِكَ أَعْمَلَكَ، أَوْ أَنْصَبكَ؟!"، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " فَاعْقِلْ إِذًا، أَوْ افْهَمْ تَعْبدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتَحُجُّ الْبيْتَ، وَتَأْتِي إِلَى النَّاسِ مَا تُحِب أَنْ يُؤْتَى إِلَيْكَ، وَتَكْرَهُ لِلنَّاسِ مَا تَكْرَهُ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْكَ، خَلِّ زِمَامَ النَّاقَةِ، أَوْ خِطَامَهَا" ، قَالَ أَبو قَطَنٍ فَقُلْتُ لَهُ: سَمِعْتَهُ مِنْهُ، أَوْ سَمِعْتَ مِنَ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: نَعَمْ.
عبداللہ یشکری (رح) کہتے ہیں کہ جب کوفہ کی جامع مسجد پہلی مرتبہ تعمیر ہوئی تو میں وہاں گیا اس وقت وہاں کھجوروں کے درخت بھی تھے اور اس کی دیواریں ریت جیسی مٹی کی تھیں وہاں ایک صاحب یہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجۃ الوادع کی خبر ملی تو میں نے اپنے اونٹوں میں سے ایک سواری کے قابل اونٹ چھانٹ کر نکالا اور روانہ ہوگیا یہاں تک کہ عرفہ کے راستے میں ایک جگہ پہنچ کر بیٹھ گیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے حلیہ کی وجہ سے پہچان لیا۔ اسی دوران ایک آدمی جو ان سے آگے تھا کہنے لگا کہ سواریوں کے راستے سے ہٹ جاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہوسکتا ہے کہ اسے کوئی کام ہو، چناچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنا قریب ہوا کہ دونوں سواریوں کے سر ایک دوسرے کے قریب آگئے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جن ہم سے نجات کا سبب بن جائے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واہ واہ! میں نے خطبہ میں اختصار سے کام لیا تھا اور تم نے بہت عمدہ سوال کیا اگر تم سمجھ دار ہوئے تو تم صرف اللہ کی عبادت کرنا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا بیت اللہ کا حج کرنا، ماہ رمضان کے روزے رکھنا اب سواریوں کے لئے راستہ چھوڑ دو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23164]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة عبدالله اليشكري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23165
حَدَّثَنَا بهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبرَنَا أَبو عِمْرَانَ ، قَالَ: قُلْتُ لِجُنْدُب: إِنِّي بايَعْتُ ابنَ الزُّبيْرِ عَلَى أَنْ أُقَاتِلَ أَهْلَ الشَّامِ، قَالَ: فَلَعَلَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَقُولَ: أَفْتَانِي جُنْدُب، َوَأَفْتَانِي جُنْدَب، قَالَ: قُلْتُ: مَا أُرِيدُ ذَاكَ إِلَّا لِنَفْسِي، قَالَ: افْتَدِ بمَالِكَ، قُلْتُ: إِنَّهُ لَا يُقْبلُ مِنِّي، قَالَ: إِنِّي قَدْ كُنْتُ عَلَى عَهْدِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا حَزَوَّرًا، وَإِنَّ فُلَانًا أَخْبرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَجِيءُ الْمَقْتُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُتَعَلِّقًا بالْقَاتِلِ، فَيَقُولُ: يَا رَب، سَلْهُ فِيمَ قَتَلَنِي؟ فَيَقُولُ: فِي مُلْكِ فُلَانٍ" ، فَاتَّقِ اللَّهَ، لَا تَكُونُ ذَلِكَ الرَّجُلَ.
ابوعمران (رح) کہتے ہیں کہ میں نے جندب سے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے بیعت کرلی ہے، یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں بھی ان کے ساتھ شام چلوں، جندب نے کہا مت جاؤ میں نے کہا کہ وہ مجھے ایسا کرنے نہیں دیتے، انہوں نے کہا کہ مالی فدیہ دے کر بچ جاؤ میں نے کہا کہ وہ اس کے علاوہ کوئی بات ماننے کے لئے تیار نہیں کہ میں ان کے ساتھ چل کر تلوار کے جوہر دکھاؤں، اس پر جندب کہنے لگے کہ فلاں آدمی نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن مقتول اپنے قاتل کو لے کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہو کر عرض کرے گا پروردگار! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس وجہ سے قتل کیا تھا؟ چناچہ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ تو نے کس بناء پر اسے قتل کیا تھا؟ وہ عرض کرے گا کہ فلاں شخص کی حکومت کی وجہ سے اس لئے تم اس سے بچو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23165]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23166
حَدَّثَنَا أَبو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ أَبيهِ ، أَوْ عَمِّهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي غَزْوَةِ تَبوكَ: " إِذَا وَقَعَ الطَّاعُونُ بأَرْضٍ وَلَسْتُمْ بهَا، فَلَا تَهْجُمُوا عَلَيْهَا، وَإِذَا وَقَعَ بهَا وَأَنْتُمْ بهَا، فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا" .
عکرمہ بن خالد رضی اللہ عنہ کے دادا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقع پر ارشاد فرمایا جب کسی علاقے میں طاعون کی وباء پھیل پڑے اور تم وہاں پہلے سے موجود ہو تو اب وہاں سے نہ نکلو اور اگر تمہاری غیر موجودگی میں یہ وباء پھیلے تو تم اس علاقے میں مت جاؤ۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23166]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عكرمة بن خالد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23167
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنِي ابنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبرَنِي عَمْرُو بنُ دِينَارٍ ، أَنَّ عَمْرَو بنَ أَوْسٍ أَخْبرَهُ , أَنَّ رَجُلًا مِنْ ثَقِيفٍ أَخْبرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ مُؤَذِّنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ يَقُولُ: " حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ" .
ایک شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے بتایا کہ ایک دن بارش ہو رہی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے نداء لگائی کہ لوگو! اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23167]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23168
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بنُ أَبي حَبيب ، عَنْ أَبي الْخَيْرِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ حَدَّثَهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَضْجَعَ أُضْحِيَّتَهُ لِيَذْبحَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ للِرَجُلٍ: " أَعِنِّي عَلَى ضَحِيَّتِي"، فَأَعَانَهُ .
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا جانور ذبح کرنے کے لئے پہلو کے بل لٹایا تو ایک آدمی سے فرمایا کہ قربانی میں میرا ہاتھ بٹاؤ، چناچہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ بٹایا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23168]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23169
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا ابنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبرَنِي يُوسُفُ بنُ الْحَكَمِ بنِ أَبي سُفْيَانَ ، أَنَّ حَفْصَ بنَ عُمَرَ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ عَوْفٍ ، وَعَمْرَو بنَ حَنَّةَ أَخْبرَاهُ , عَنْ عُمَرَ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ عَوْفٍ ، عَنْ رِجَالٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ، وَالنَّبيُّ فِي مَجْلِسٍ قَرِيب مِنَ الْمَقَامِ، فَسَلَّمَ عَلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: يَا نَبيَّ اللَّهِ، إِنِّي نَذَرْتُ لَئِنْ فَتَحَ اللَّهُ لِلنَّبيِّ وَالْمُؤْمِنِينَ مَكَّةَ، لَأُصَلِّيَنَّ فِي بيْتِ الْمَقْدِسِ، وَإِنِّي وَجَدْتُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ هَاهُنَا فِي قُرَيْشٍ مُقْبلًا مَعِي وَمُدْبرًا، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَاهُنَا فَصَلِّ"، فَقَالَ الرَّجُلُ قَوْلَهُ هَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَاهُنَا فَصَلِّ"، ثُمَّ قَالَ الرَّابعَةَ مَقَالَتَهُ هَذِهِ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَب فَصَلِّ فِيهِ، فَوَالَّذِي بعَثَ مُحَمَّدًا بالْحَقِّ لَوْ صَلَّيْتَ هَاهُنَا، لَقَضَى عَنْكَ ذَلِكَ كُلَّ صَلَاةٍ فِي بيْتِ الْمَقْدِسِ" ..
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور کہنے لگا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں نے یہ منت مانی تھی کہ اگر اللہ نے آپ کو اور مسلمانوں کو مکہ مکرمہ پر فتح عطاء فرما دی تو میں بیت المقدس جا کر نماز پڑھوں گا مجھے شام کا ایک آدمی بھی مل گیا ہے جو یہاں قریش میں ہے وہ میرے ساتھ وہاں جائے گا اور واپس آئے گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم وہ نماز یہیں پڑھ لو اس نے تین مرتبہ اپنی بات دہرائی ہر مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ تم وہ نماز یہیں پڑھ لو، جب چوتھی مرتبہ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اور وہاں جا کر نماز پڑھ آؤ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر تم یہیں نماز پڑھ لیتے تو بیت المقدس کی تمام نمازیں یہاں ادا ہوجاتیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23169]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة يوسف بن الحكم و من فوقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23170
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ بكْرٍ ، حَدَّثَنَا ابنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبرَنِي يُوسُفُ بنُ الْحَكَمِ بنِ أَبي سُفْيَانَ ، أَنَّ حَفْصَ بنَ عُمَرَ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ عَوْفٍ ، وَعَمْرَو بنَ حَنَّةَ أَخْبرَاهُ , عَنْ عُمَرَ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ عَوْفٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَهُ وَقَالَ: هَاهُنَا فِي قُرَيْشٍ خَفِيرٌ لِي مُقْبلًا وَمُدْبرًا، فَقَالَ:" هَاهُنَا فَصَلِّ"، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا کہ تم وہ نماز یہیں پڑھ لو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23170]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة يوسف بن الحكم و من فوقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23171
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْصِنِي، قَالَ: " لَا تَغْضَب" ، قَالَ: قَالَ الرَّجُلُ: فَفَكَّرْتُ حِينَ قَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ، فَإِذَا الْغَضَب يَجْمَعُ الشَّرَّ كُلَّهُ.
ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ مجھے کچھ وصیت کیجئے توآپ نے غصہ نہ کرنے کی وصیت کی۔ روایت کرنے والے صحابی کہتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سننے کے بعد جب میں نے غورکیاتوپتہ چلاکہ غصہ تمام برائیوں کا جامع ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23171]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں