مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1033. أَحَادِيثُ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 23182
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بنِ مُضَرِّب ، عَنْ بعْضِ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَصْحَابهِ: " إِنَّ مِنْكُمْ رِجَالًا لَا أُعْطِيهِمْ شَيْئًا، أَكِلُهُمْ إِلَى إِيمَانِهِمْ، مِنْهُمْ فُرَاتُ بنُ حَيَّانَ" ، قَالَ: مِنْ بنِي عِجْلٍ.
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں میں کچھ بھی نہیں دیتا، بلکہ انہیں ان کے ایمان کے حوالے کردیتا ہوں انہی میں فرات بن حیان ہے، ان کا تعلق بنو عجل سے تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23182]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله: لا أعطيهم شيئا ففي زيادتها نظر
حدیث نمبر: 23183
حَدَّثَنَا أَبو عَبدِ الرَّحْمَنِ عَبدُ اللَّهِ بنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، حَدَّثَنَا أَبو زُمَيْلٍ سِمَاكٌ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بنِي هِلَالٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ" .
بنو ہلال کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی مالدار یا تندرست و توانا آدمی کے لئے زکوٰۃ کا مال حلال نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23183]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23184
حَدَّثَنَا أَبو عَبدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابنَ أَبي أَيُّوب ، حَدَّثَنِي بكْرُ بنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ هُبيْرَةَ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ جُبيْرٍ , أَنَّهُ حَدَّثَهُ رَجُلٌ خَدَمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِ سِنِينَ أَوْ تِسْعَ سِنِينَ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قُرِّب لَهُ طَعَامٌ يَقُولُ: " بسْمِ اللَّهِ"، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ، قَالَ:" اللهم أَطْعَمْتَ وَأَسْقَيْتَ، وَأَغْنَيْتَ وَأَقْنَيْتَ، وَهَدَيْتَ وَاجْتَبيْتَ، فَلَكَ الْحَمْدُ عَلَى مَا أَعْطَيْتَ" .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک خادم " جنہوں نے آٹھ سال تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی " سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب کھانے کو پیش کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بسم اللہ کہہ کر شروع فرماتے تھے اور جب کھانے سے فارغ ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ اے اللہ! تو نے کھلایا پلایا، غناء اور روزی عطاء فرمائی تو نے ہدایت اور زندگانی عطاء فرمائی تیری بخششوں پر تیری تعریف ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23184]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23185
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بنُ إِسْمَاعِيلَ أَبو عَبدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْمَلِكِ بنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُنِيب ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: بلَغَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ سَتَرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فِي الدُّنْيَا، سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، فَرَحَلَ إِلَيْهِ وَهُوَ بمِصْرَ، فَسَأَلَهُ عَنِ الْحَدِيثِ، قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ سَتَرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فِي الدُّنْيَا، سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" ، قَالَ: فَقَالَ: وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص دنیا میں اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرے اللہ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا دوسرے صحابی رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث معلوم ہوئی تو انہوں نے پہلے صحابی رضی اللہ عنہ کی طرف رخت سفر باندھا جو کہ مصر میں رہتے تھے وہاں پہنچ کر ان سے پوچھا کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا تو سفر کرنے والے صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23185]
الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لجهالة منيب، وعمه مبهم، ومومل سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 23186
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بنُ أَبي حَبيب ، عَنْ أَبي الْخَيْرِ ، أَنَّ جُنَادَةَ بنَ أَبي أُمَيَّةَ حَدَّثَهُ , أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَال بعْضُهُمْ: إِنَّ الْهِجْرَةَ قَدْ انْقَطَعَتْ، فَاخْتَلَفُوا فِي ذَلِكَ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُنَاسًا يَقُولُونَ: إِنَّ الْهِجْرَةَ قَدْ انْقَطَعَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْهِجْرَةَ لَا تَنْقَطِعُ مَا كَانَ الْجِهَادُ" .
حضرت جنادہ بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ ہجرت کا حکم ختم ہوگیا ہے دوسرے حضرات کی رائے اس سے مختلف تھی چناچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہجرت ختم ہوگئی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک جہاد باقی ہے ہجرت ختم نہیں ہوسکتی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23186]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وصورته هنا صورة الإرسال
حدیث نمبر: 23187
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ ، عَنِ ابنِ شِهَاب ، عَنْ أَبي سَلَمَةَ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ ، وَسُلَيْمَانَ بنِ يَسَارٍ , عَنْ إِنْسَانٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِنَّ الْقَسَامَةَ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَسَامَةُ الدَّمِ، فَأَقَرَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا كَانَتْ عَلَيْهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَقَضَى بهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بيْنَ أُنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بنِي حَارِثَةَ فِي دَمٍ ادَّعَوْهُ عَلَى الْيَهُودِ" .
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں قتل کے حوالے سے " قسامت " کا رواج تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زمانہ جاہلیت کے طریقے پر ہی برقرار رکھا اور چند انصاری حضرات کے معاملے میں " جن کا تعلق بنوحارثہ سے تھا اور انہوں نے یہودیوں کے خلاف دعویٰ کیا تھا " نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فیصلہ فرمایا تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23187]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1670
حدیث نمبر: 23188
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبيْدَ بنَ الْقَعْقَاعِ يُحَدِّثُ رَجُلًا مِنْ بنِي حَنْظَلَةَ، قَالَ: رَمَقَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَجَعَلَ يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبي، وَوَسِّعْ لِي ذَاتِي، وَبارِكْ لِي فِيمَا رَزَقْتَنِي" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہہ رہے تھے کہ اے اللہ میرے گناہ کو معاف فرما، مجھے ذاتی کشادگی عطاء فرما اور میرے رزق میں برکت عطا فرما۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23188]
الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لجهالة حال عبيد بن القعقاع، وقد اختلف فيه على شعبة
حدیث نمبر: 23189
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبي عِمْرَانَ ، قَالَ: قُلْتُ لِجُنْدُب: إِنِّي قَدْ بايَعْتُ هَؤُلَاءِ يَعْنِي ابنَ الزُّبيْرِ إنَهُمْ يُرِيدُونَ أَنْ أَخْرُجَ مَعَهُمْ إِلَى الشَّامِ، فَقَالَ: أَمْسِكْ عَلَيْكَ، فَقُلْتُ: إِنَّهُمْ يَأْبوْنَ، فَقَالَ: افْتَدِ بمَالِكَ، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّهُمْ يَأْبوْنَ إِلَّا أَنْ أَضْرِب مَعَهُمْ بالسَّيْفِ، فَقَالَ جُنْدُب: حَدَّثَنِي فُلَانٌ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بقَاتِلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ: يَا رَب، سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي؟"، قَالَ شُعْبةُ: وَأَحْسِبهُ قَالَ:" فَيَقُولُ: عَلَامَ قَتَلْتَهُ؟"، قَالَ:" فَيَقُولُ: قَتَلْتُهُ عَلَى مُلْكِ فُلَانٍ" ، قَالَ: فَقَالَ جُنْدُب: فَاتَّقِهَا.
ابو عمران (رح) کہتے ہیں کہ میں نے جندب سے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلی ہے یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں بھی ان کے ساتھ شام چلوں جندب نے کہا مت جاؤ میں نے کہا کہ وہ مجھے ایسا کرنے نہیں دیتے، انہوں نے کہا کہ مالی فدیہ دے کر بچ جاؤ میں نے کہا کہ وہ اس کے علاوہ کوئی اور بات ماننے کے لئے تیار نہیں کہ میں ان کے ساتھ چل کر تلوار کے جوہر دکھاؤں اس پر جندب کہنے لگے کہ فلاں آدمی نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن مقتول اپنے قاتل کو لے کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہو کر عرض کرے گا پروردگار! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس وجہ سے قتل کیا تھا؟ چناچہ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ تو نے کس بناء پر اسے قتل کیا تھا؟ وہ عرض کرے گا کہ فلاں شخص کی حکومت کی وجہ سے، اس لئے تم اس سے بچو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23189]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23190
حَدَّثَنَا أَبو نُوحٍ ، أَخْبرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبي بكْرِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ الْحَارِثِ بنِ هِشَامٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَسْكُب عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ بالسُّقْيَا، إِمَّا مِنَ الْحَرِّ، وَإِمَّا مِنَ الْعَطَشِ، وَهُوَ صَائِمٌ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ صَائِمًا حَتَّى أَتَى كَدِيدًا، ثُمَّ دَعَا بمَاءٍ فَأَفْطَرَ، وَأَفْطَرَ النَّاسُ، وَهُوَ عَامُ الْفَتْحِ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام عرج میں پیاس یا گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈالتے ہوئے دیکھا اور مسلسل روزہ رکھتے رہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام کدید پہنچ کر پانی کا پیالہ منگوایا اور اسے نوش فرما لیا اور لوگوں نے بھی روزہ افطار کرلیا یہ فتح مکہ کا سال تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23190]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23191
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بنُ عُمَرَ ، أَخْبرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبي بكْرِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ الْحَارِثِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ فِي سَفَرِهِ عَامَ الْفَتْحِ، وَأَمَرَ أَصْحَابهُ بالْإِفْطَارِ، وَقَالَ: " إِنَّكُمْ تَلْقَوْنَ عَدُوَّكُمْ فَتَقَوَّوْا"، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَامُوا لِصِيَامِكَ، فَلَمَّا أَتَى الْكَدِيدَ أَفْطَرَ، قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُب الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ مِنَ الْحَرِّ وَهُوَ صَائِمٌ .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ترک صیام کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ اپنے دشمن کے لئے قوت حاصل کرو لیکن خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھ لیا راوی کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام عرج میں پیاس یا گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈالتے ہوئے دیکھا اسی دوران کسی شخص نے بتایا کہ یا رسول اللہ! جب لوگوں نے آپ کو روزہ رکھے ہوئے دیکھا تو کچھ لوگوں نے روزہ رکھ لیا چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام کدید پہنچ کر پانی کا پیالہ منگوایا اور اسے نوش فرمالیا اور لوگوں نے بھی روزہ افطار کرلیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23191]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح