مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1033. أَحَادِيثُ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 23192
حَدَّثَنَا أَبو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شَيْبانُ ، عَنْ أَشْعَثَ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ بنِي مَالِكِ بنِ كِنَانَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بسُوقِ ذِي الْمَجَازِ يَتَخَلَّلُهَا، يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، قُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، تُفْلِحُوا"، قَالَ: وَأَبو جَهْلٍ يَحْثِي عَلَيْهِ التُّرَاب، وَيَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لَا يَغُرَّنَّكُمْ هَذَا عَنْ دِينِكُمْ، فَإِنَّمَا يُرِيدُ لِتَتْرُكُوا آلِهَتَكُمْ، وَلِتَتْرُكُوا اللَّاتَ وَالْعُزَّى، قَالَ: وَمَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْنَا: انْعَتْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بيْنَ برْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ، مَرْبوعٌ كَثِيرُ اللَّحْمِ، حَسَنُ الْوَجْهِ، شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ، أَبيَضُ شَدِيدُ الْبيَاضِ، سَابغُ الشَّعْرِ .
بنومالک بن کنانہ کے ایک شیخ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ذوالمجاز نامی بازار میں چکر لگاتے ہوئے دیکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے لوگو! لا الہ اللہ کا اقرار کرلو تم کامیاب ہوجاؤ گے اور ابوجہل مٹی اچھالتے ہوئے کہتا جاتا تھا لوگو! یہ تمہیں تمہارے دین سے بہکا نہ دے یہ چاہتا ہے کہ تم اپنے معبودوں کو اور لات وعزیٰ کو چھوڑ دو لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف توجہ نہ فرماتے تھے ہم نے ان سے کہا کہ ہمارے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ بیان کیجئے انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سرخ چادریں زیب تن فرما رکھی تھیں درمیانہ قد تھا جسم گوشت سے بھر پور تھا چہرہ نہایت حسین و جمیل تھا بال انتہائی کالے سیاہ تھے انتہائی اجلی سفید رنگت تھی اور گھنے بال تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23192]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23193
حَدَّثَنَا أَبو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شَيْبانُ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بنِ هِلَالٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ بنِ الْخَطَّاب: لَا يَمُوتُ عُثْمَانُ بنُ عَفَّانَ حَتَّى يُسْتَخْلَفَ، قُلْنَا: مِنْ أَيْنَ تَعْلَمُ ذَلِكَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ ثَلَاثَةً مِنْ أَصْحَابي وُزِنُوا، فَوُزِنَ أَبو بكْرٍ فَوَزَنَ، ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ فَوَزَنَ، ثُمَّ وُزِنَ عُثْمَانُ فَنَقَصَ صاحبنا وَهُوَ صَالِحٌ" .
اسود بن ہلال اپنی قوم کے ایک آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں کہا کرتا تھا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اس وقت تک فوت نہیں ہوں گے جب تک خلیفہ نہیں بن جاتے ہم اس سے پوچھتے کہ تمہیں یہ بات کہاں سے معلوم ہوئی؟ تو وہ جواب دیتا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ آج رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا وزن کیا گیا ہے چناچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا تو ان کا پلڑا جھک گیا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا تو ان کا پلڑا بھی جھک گیا پھر حضرت عثمان کا وزن کیا گیا تو ہمارے ساتھی کا وزن کم رہا اور وہ نیک آدمی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23193]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23194
حَدَّثَنَا أَبو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ مُهَاجِرٍ أَبي الْحَسَنِ ، عَنْ شَيْخٍ أَدْرَكَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَمَرَّ برَجُلٍ يَقْرَأُ: يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، فَقَالَ: " أَمَّا هَذَا، فَقَدْ برِئَ مِنَ الشِّرْكِ"، قَالَ: وَإِذَا آخَرُ يَقْرَأُ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَجَبتْ لَهُ الْجَنَّةُ" .
ایک شیخ سے " جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ہے " مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو سورت کافرون کی تلاوت کر رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو شرک سے بری ہوگیا پھر دوسرے آدمی کو دیکھا وہ سورت اخلاص کی تلاوت کر رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی برکت سے اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23194]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، المسعودي مختلط، وسماع أبى النضر منه بعد اختلاطه، وقد توبع
حدیث نمبر: 23195
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حُمْرَانَ بنِ أَعْيَنَ ، عَنْ أَبي الطُّفَيْلِ ، عَنْ فُلَانِ ابنِ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَخَاكُمْ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ، فَصَلُّوا عَلَيْهِ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا کہ آج تمہارے بھائی (شاہ حبشہ نجاشی) کا انتقال ہوگیا ہے آؤ صفیں باندھو اور ان کی نماز جنازہ پڑھو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23195]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف حمران بن أعين
حدیث نمبر: 23196
حَدَّثَنَا أَبو بكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، أَخْبرَنَا عَبدُ الْحَمِيدِ بنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بنِ شُعَيْب ، عَنِ ابنَةِ كُرْدُمَةَ ، عَنْ أَبيهَا ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ثَلَاثَةً مِنْ إِبلِي، فقَالَ: " إِنْ كَانَ عَلَى جَمْعٍ مِنْ جَمْعِ الْجَاهِلِيَّةِ، أَوْ عَلَى عِيدٍ مِنْ عِيدِ الْجَاهِلِيَّةِ، أَوْ عَلَى وَثَنٍ، فَلَا، وَإِنْ كَانَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ، فَاقْضِ نَذْرَكَ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلَى أُمِّ هَذِهِ الْجَارِيَةِ مَشْيًا، أَفَتَمْشِي عَنْهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ" .
حضرت کروم بن سفیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس منت کا حکم پوچھا جو انہوں نے زمانہ جاہلیت میں مانی تھی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم نے وہ منت کسی بت یا پتھر کے لئے مانی تھی؟ انہوں نے کہا نہیں بلکہ اللہ کے لئے مانی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تم نے اللہ کے لئے جو منت مانی تھی اسے پورا کرو بوانہ نامی جگہ پر جانور ذبح کردو اور اپنی منت پوری کرلو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس بچی کی والدہ نے پیدل چلنے کی منت مانی تھی کیا یہ بچی اس کی طرف سے چل سکتی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23196]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف الانقطاعه، عمرو بن شعيب لم يسمع من ابنة كردمة
حدیث نمبر: 23197
حَدَّثَنَا أَبو عَاصِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بنِ عَبدِ الْعَزِيزِ التَّنُوخِيِّ ، حَدَّثَنَا مَوْلًى لِيَزِيدَ بنِ نِمْرَانَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بنُ نِمْرَانَ ، قَالَ: لَقِيتُ رَجُلًا مُقْعَدًا بتَبوكَ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: مَرَرْتُ بيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَتَانٍ أَوْ حِمَارٍ، فَقَالَ: " قَطَعَ عَلَيْنَا صَلَاتَنَا، قَطَعَ اللَّهُ أَثَرَهُ" ، فَأُقْعِدَ.
یزید بن نمران کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری ملاقات ایک اپاہج آدمی سے ہوئی میں نے اس سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا کہ ایک مرتبہ میں اپنے گدھے پر سوار ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گذر گیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے ہماری نماز توڑی اللہ اس کے پاؤں توڑ دے اس وقت سے میں اپاہج ہوگیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23197]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة مولي يزيد بن نمران
حدیث نمبر: 23198
حَدَّثَنَا أَبو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبانَ , عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ شَهْرِ بنِ حَوْشَب ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَنْصَارِيُّ ، صَاحِب بدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بعَثَهُ، قَالَ:" رَجَعْتُ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَأْمُرُنِي بمَا عَطِب مِنْهَا؟ قَالَ: " انْحَرْهَا، ثُمَّ اصْبغْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ ضَعْهَا عَلَى صَفْحَتِهَا أَوْ عَلَى جَنْبهَا، وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ، وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رِفْقَتِكَ" .
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی دیکھ بھال پر مامور تھے " کہتے ہیں ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہیں بھیجا میں کچھ دور جا کر واپس آگیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! اگر کوئی اونٹ مرنے والا ہوجائے تو آپ کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے ذبح کرلینا پھر اس کے نعلوں کو خون میں تر بتر کر کے اس کی پیشانی یا پہلو پر رکھ دینا اور اس میں سے تم کھانا اور نہ ہی تمہارا کوئی رفیق کھائے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23198]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث، وشهر
1034. حَدِيثُ ابْنَةِ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 23199
حَدَّثَنَا ابنُ أَبي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ سُحَيْمٍ ، عَنْ أُمِّهِ ابنَةِ أَبي الْحَكَمِ الْغِفَارِيِّ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَدْنُو مِنَ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بيْنَهُ وَبيْنَهاَ قِيدُ ذِرَاعٍ، فَيَتَكَلَّمُ بالْكَلِمَةِ فَيَتَباعَدُ مِنْهَا أَبعَدَ مِنْ صَنْعَاءَ" .
بنت ابوالحکم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بعض اوقات انسان جنت کے اتنا قریب پہنچ جاتا ہے کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے لیکن پھر وہ کوئی ایسی بات کہہ بیٹھتا ہے کہ اس کی وجہ سے وہ جنت سے اتنا دور چلا جاتا ہے کہ مثلاً مکہ مکرمہ کا صنعاء سے بھی زیادہ دور کا فاصلہ ہو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23199]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لعنعنة محمد بن إسحاق
1035. حَدِيثُ امْرَأَةٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 23200
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَمْرِو بنِ مُعَاذٍ الْأَشْهَلِيِّ ، عَنْ جَدَّتِهِ أَنَّها قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا نِسَاءَ الْمُؤْمِنَاتِ، لَا تَحْقِرَنَّ إِحْدَاكُنَّ لِجَارَتِهَا وَلَوْ كُرَاعُ شَاةٍ مُحْرَقًٌا" .
ایک خاتون صحابیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے مومن عورتو! تم میں سے کوئی اپنی پڑوسن کی بھیجی ہوئی کسی چیز کو " خواہ وہ بکری کا جلا ہوا کھر ہی ہو " حقیر نہ سمجھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23200]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمرو بن معاذ
1036. حَدِيثُ رَجُلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 23201
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَعَبدُ الرَّزَّاقِ , قَالَا: حَدَّثَنَا ابنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبرَنِي حَسَنُ بنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ رَجُلٍ أَدْرَكَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّمَا الطَّوَافُ صَلَاةٌ، فَإِذَا طُفْتُمْ، فَأَقِلُّوا الْكَلَامَ" ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ ابنُ بكْرٍ.
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا طواف بھی نماز ہی کی طرح ہوتا ہے اس لئے جب تم طواف کیا کرو تو گفتگو کم کیا کرو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23201]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، ولا يضر توقف محمد بن بكر عن رفعه